مکانات کی تعمیرات میں تیزی کیلئے وزیراعظم کا چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی پر زور

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم کے مطابق بیلنس آف پیمنٹ کے لیے پاکستان کو برآمدات کی ضرورت ہے — فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم کے مطابق بیلنس آف پیمنٹ کے لیے پاکستان کو برآمدات کی ضرورت ہے — فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان میں غریبوں کو سستے گھر فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے پری فیبریکیٹڈ ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا جبکہ تیزی سے گھروں کی تعمیر کے لیے چین سے پاکستان میں صنعتوں کی منتقلی پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے پری فیبریکیٹڈ ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا جبکہ تقریب میں شرکت کرنے والے چینی سفیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے گھروں کی تعمیر بہت ضروری ہے جہاں کم قیمت میں لوگوں کو اپنا گھر میسر آئے گا۔

انہوں نے چینی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاک-چین روابط بڑھانے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں مدد اور یہاں سرمایہ کاری لانے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں: چین کے 3 شہر پاکستان کے کراچی، گوادر اور ملتان کے جڑواں شہر قرار

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ 2 معاملات، جن میں سرماریہ کاروں کو خوش آمدید کہوں گا، ان میں یہ سستے گھروں کی تعمیر شامل ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھروں کی تعمیرات حکومت کے لیے ملازمتیں لانے اور عام پاکستانیوں کو تعمیر شدہ گھر فراہم کرنے کا ایک اہم منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو اپنے گھر فراہم کرنے کی اسکیم پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ متعارف کروائی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پری فیبریکیٹڈ ہاؤسنگ نہ صرف سستی ہے بلکہ اس کی تعمیرات بھی بہت جلد ہوجاتی ہیں جس کی مثال ہم نے گوادر میں دیکھی ہے جہاں 6 ماہ کے اندر ایک فائیو اسٹار ہوٹل تیار ہوکر فعال بھی ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو قرض کی مد میں چین سے 2.2 ارب ڈالر موصول

ان کا کہنا تھا کہ پری فیبریکیٹڈ ہاؤسنگ اسکیم پاکستان میں اس لیے ضروری ہے کیونکہ صرف کراچی جیسے بڑے شہر میں ہی 40 فیصد سے زائد لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں جبکہ لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی کچی آبادیاں موجود ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ یہاں یہ ہے کہ آپ لوگوں کے لیے فلیٹس کو کس طرح تعمیر کریں گے اور انہیں وہاں کس طرح منتقل کریں گے جبکہ اس کی زمین بھی حکومت کے لیے بہت مہنگی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پری فیبریکیٹڈ تعمیرات کے ذریعے صرف 4 سے 6 ماہ کی قلیل مدت میں گھروں کو تعمیر کرکے لوگوں کو یہاں منتقل کردیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور ترکی میں اس منصوبے کو استعمال کیا گیا جو بہت ہی کامیاب ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: ’وزیرِاعظم عمران خان کا دورہ چین، پاکستان کے لیے مثبت رہا‘

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ پری فیبریکیٹڈ ہاؤسنگ کے لیے سامان بنانے والی فیکٹری کو چین سے پاکستان منتقل کیا جائے تاکہ لوگوں کو تعمیر شدہ گھر مہیا کرنے کا عمل مزید تیز ہوجائے۔

پاکستان کو ذرعی شعبے میں مدد کی ضرورت ہے، وزیراعظم

ذرعی شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان کو ذرعی شعبے میں مدد کی فوری ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت بہت کم ہوچکی ہے‘۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا چینی ٹیکنالوجی نہ صرف پاکستان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھادے گی بلکہ اس کی مدد سے ترقی کی شرح میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چین پاکستانی مصنوعات کیلئے اپنی منڈی فراہم کرے: سرتاج عزیز

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی شرح نمو کا 25 فیصد انحصار ذراعت پر ہے اور اس میں بہتری کی وجہ سے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہوجائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں باور کرواچکا ہوں کہ پاکستان میں زیادہ تر غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے والے دیہی علاقوں میں ہی بستے ہیں لیکن ذرعی شعبے میں ترقی سے براہ راست اثر غربت کے خاتمے پر پڑے گا'۔

’چین سے پاکستان میں صنعت کی منتقلی کو آسان بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں‘

وزیراعظم نے مزید کہا کہ برآمدات میں کمی پاکستان کا تیسرا بڑا مسئلہ ہے لیکن بیلنس آف پیمنٹ کے لیے پاکستان کو برآمدات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، تاہم برآمدات کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلئے مدد کررہے ہیں، چین

وزیراعظم نے پاکستان میں صنعتوں کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے چین سے پاکستان میں صنعتوں کی منتقلی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ویتنام جیسے ملک نے چین سے منتقل ہونے والی صنعت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جبکہ کمبوڈیا بھی اس بارے میں سوچ رہا ہے۔

وزیراعظم نے شرکا کو بتایا کہ وزارت خزانہ اور بورڈ آف انوسٹمنٹ سرمایہ کاروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے بڑی کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام تر کوششوں کا مقصد چین سے پاکستان صنعتوں کی منتقلی کو آسان بنانا ہے۔