سپریم کورٹ: سیالکوٹ کے دو بھائیوں کے قاتلوں کی سزائے موت 10 سال قید میں تبدیل

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  کہانی بنا کر آپ 7 بندوں کو پهانسی چڑھا دیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہانی بنا کر آپ 7 بندوں کو پهانسی چڑھا دیں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے 2010 میں ہونے والے سیالکوٹ کے دو حافظ قرآن بھائیوں کے قتل میں ملوث 7 مجرموں کی سزائے موت 10 سال قید میں تبدیل کر دی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سیالکوٹ میں 2 بھائیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

مزیدپڑھیں: سیالکوٹ: دو بھائیوں کے 7 قاتلوں کے ڈیتھ وارنٹ

واضح رہے کہ 2010 میں سیالکوٹ میں دونوں بهائیوں کو مشتعل افراد نے بهرے بازار میں تشدد کرکے مار دیا تھا۔

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے 7 ملزمان کو سزائے موت اور 6 کو عمر قید کی سزا سنائی تهی.

سپریم کورٹ نے دو حقیقی بهائیوں منیب اور مغیث کے قتل کا از خودنوٹس لیا تها۔

بعد ازاں 13 میں سے 12 ملزمان نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ مقدمے میں دو کہانیاں بنائی گئیں، ایک ایف آئی آر موقع پر جا کر پولیس نے درج کی جس کے مطابق 4 افراد زخمی ہوئے، ان 4 افراد میں سے بلال اور ذیشان کی موت ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: قتل کے دو مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد

چیف جسٹس کا کہنا تھا دوسری ایف آئی آر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد بنی جس میں ان چاروں افراد کے نام ہی شامل نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا بچپن میں ہم محاوره سنتے تهے وہ اب جا کر سمجھ آ رہا ہے جس کا کام اسی کو سانجھے، اور کرے تو ڈهنکا باجے۔

مجرمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں بهی نامعلوم افراد لکها گیا ہے اور میڈیکل رپورٹ میں بهی زخمیوں کا نام نہیں لکها گیا۔

چیف جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہا کہ صرف یہ کہا گیا کہ کچھ عرصہ قبل کرکٹ گراؤنڈ میں ان کا جهگڑا ہوا تھا، یہ پہلا واقعہ دیکھ رہا ہوں جہاں بغیر کسی وجہ لوگ پہلے سے مظاہرہ کر رہے تهے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ ڈاکو ہیں اور بس انهیں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پھانسی پر عائد پابندی مکمل طور پر ختم

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیسی کہانی بنائی گئی ہے، یہ کہانی بنا کر آپ 7 بندوں کو پهانسی چڑوا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سزا دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، اگر لوگوں نے ڈاکوں کو پکڑ بهی لیا تها تو پهر بهی سزا کا اختیار لوگوں کے پاس نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے کو تشدد کی اجازت بالکل نہیں دی جا سکتی، اگر ہم ملزمان کو چهوڑ دیں گے تو لوگوں کو تشدد کرنے لائسنس مل جائے گا۔

عدالت نے 7 ملزمان کی سزائے موت 10سال قید میں تبدیل کر دی جبکہ عمر قید کی سزا پانے والے 5 ملزمان کی سزا بھی 10 سال قید میں تبدیل کی۔

یاد رہے کہ اگست 2010 میں درجنوں افراد نے 18 سالہ حافظ محمد مغیث سجاد اور 15 سالہ محمد منیب سجاد کو 8 پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

مزیدپڑھیں: سیالکوٹ: گھریلو جھگڑے پر بیوی کو زندہ جلادیا گیا

بعد میں مشتعل ہجوم نے دونوں لاشیں ایک چوک میں الٹی لٹکا دی تھیں اور واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آتے ہی پورے ملک میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی تھی۔

کیس کی تحقیقات کرنے والے جسٹس (ر) کاظم ملک نے 2010 میں اپنے رپورٹ میں کہا تھا کہ دونوں لڑکے چور یا عادی مجرم نہیں تھے اور ان کے خلاف ڈکیتی یا موبائل فون چھینے کا ایک بھی کیس درج نہیں تھا۔

2011 میں دہشت گردی کی ایک مقامی عدالت نے سات مجرموں کو سزائے موت، چھ کو عمر قید اور سابق ضلعی پولیس افسر سمیت 9 پولیس اہلکاروں کو تین،تین سال قید سنائی تھیں جبکہ عدم ثبوتوں پر 5 ملزمان کو رہا بھی کیا تھا۔