ای میل

رات کی چند عام عادات اگلے دن کی صحت کو کیسے متاثر کرسکتی ہیں؟

دیوار پر لگی گھڑی کی طرح ہمارے جسم کے اندر موجود خلیات کی بھی اپنی 24 گھنٹے کی ٹائم لائن ہوتی ہے، اگر وہ ایک ترتیب میں ہو تو ہماری جسمانی گھڑی ذہنی اور جسمانی امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اور ہماری نیند کا اس حوالے سے بہت اہم کردار ہوتا ہے جو جسمانی گھڑی کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

مگر صرف ایک رات کی خراب نیند مختلف امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

تاہم نیند کی کمی صرف آپ کے روزمرہ کے کام یا مصروف شیڈول کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ کچھ عادات ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف نیند کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اگلا دن بھی بہت برا گزرتا ہے۔

یہاں آپ رات کو اپنائی جانے والی ان عادات کو جان سکیں گے جو نیند کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

ورزش

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو جم جانا یا گھر پر ہی ورزش کرنا نیند کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ جلد سونے میں مدد دیتا ہے، مگر یہ جان لیں کہ ورزش کی جاتی ہے تو جسم میں زیادہ کورٹیسول بنتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو جسم کو زیادہ الرٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اس وقت تو بہتر ہے جب آپ دن میں جاگنے کی کوشش کررہے ہوں، مگر اس وقت نقصان دہ ہے جب آپ سونے کی کوشش کررہے ہوں۔ اگر آپ شام کو ورزش کرنا ہی چاہتے ہیں تو یہ کوشش کریں کہ ایسا سونے سے کم از کم 3 گھنٹے قبل کریں۔

رات گئے کھانا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

رات کو سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا اچھی نیند میں مدد نہیں دیتا بلکہ ضروری ہے کہ رات کو ہلکا کھانا کھائیں جس میں چکنائی، نمک اور کیلوریز کم ہوں اور وہ بھی سونے سے کئی گھنٹے قبل۔ اگر آپ کو پھر بھوک لگے تو ایسی چیز کو کھائیں جو زودہضم ہو جیسے دہی یا ٹوسٹ وغیرہ۔

دانتوں کو نظرانداز کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ رات کو برش اور خلال نہیں کرتے، تو آپ صبح اپنے دانتوں پر ایک موٹی کوٹنگ (بیکٹریا کی) دیکھیں گے، محض ایک یا 2 دن میں یہ کوٹنگ سیمنٹ جیسے ٹارٹر کی طرح سخت ہونے لگتی ہے، جس سے کیویٹیز اور مسوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ عام طورپر ایک ڈینٹسٹ ہی ٹارٹر کو نکالنے میں مدد دے پاتا ہے، خود سے ایسا کرنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔

بلاوجہ رات گئے تک جاگنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ عادت نہ صرف جسمانی توانائی میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ جسم میں زیادہ کورٹیسول بنتا ہے، جبکہ لوگوں میں اگلے دن زیادہ چربی اور میٹھی غذاﺅں کی خواہش بھی بڑھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 6 گھنٹے سے کم نیند کے نتیجے میں لوگوں میں جسمانی چربی بڑھنے لگتی ہے، یہ اضافی چربی مختلف امراض جیسے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اگر آپ کے معمولات ہی ایسے ہیں کہ رات گئے سونا مجبوری ہے تو کم از کم 8 گھنٹے نیند کو یقینی بنانے کی لازمی کوشش کریں۔

کافی یا چائے کا شوق

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر تو آپ سونے سے کچھ دیر پہلے چائے، کافی، چاکلیٹ یا دیگر انرجی مشروبات پینے کے شوقین ہیں، تو اس عادت کو ترک کردیں کیونکہ ان میں موجود کیفین کی عام مقدار بھی سونا مشکل بنانے کے لیے کافی ہے یا اس سے نیند کا معیار متاثر ہوسکتا ہے، خصوصاً عمر بڑھنے کے ساتھ۔ یہاں تک کہ سونے سے 6 سے 8 گھنٹے قبل کیفین کا استعمال بھی ایسا اثر پیدا کرتا ہے کہ اگلے دن جسم کو لگتا ہے جیسے وہ رات بھر جاگتا رہا ہے۔

چہرے کی صفائی نہ کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سونے سے قبل مٹی، پسینے اور میک اپ وغیرہ سے نجات ضروری ہے، چہرے پر جراثیموں کو موجود رکھنے سے کیل مہاسوں کا امکان بڑھتا ہے جبکہ سونے سے قبل چہرے کو دھونے سے آنکھوں کے انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

قیلولہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو قیلولہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے مگر اس کا وقت بہت اہمیت رکھتا ہے، اگر آپ سہ پہر یا شام کو کچھ دیر کے لیے سوتے ہیں، تو اس سے نیند کا معمول متاثر ہوتا ہے اور صبح وقت پر اٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اگلے دن کی مصروفیات کا تعین نہ کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ذہن میں گردش کرنے والے لاکھوں خیالات کو نکالنا تو مشکل ہوتا ہے تاہم اگر آپ چند منٹ اپنے خیالات کو منظم کرنے کے لیے نکالیں تو اگلے دن کے لیے ایک مختصر پلان یا ٹو ڈو لسٹ تیار کرسکتے ہیں، جس سے اگلی صبح کاموں کی تیاری کے حوالے سے تناﺅ میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

سونے سے قبل ڈیوائسز کا استعمال

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سورج غروب ہونے کے بعد بہت زیادہ وقت مصنوعی روشنی میں گزارنا اندرونی جسمانی گھڑی کو متاثر کرتا ہے، اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی جسم میں نیند کے لیے مدد دینے والے میلاٹونین کی مقدار کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے اور سونا مشکل ہوجاتا ہے، ویسے تو خاص گلاسز یا اسکرین سے بھی روشنی کو فلٹر کیا جاسکتا ہے مگر بہتر حل یہی ہے کہ ڈیوائسز کا استعمال رات کو سونے سے کچھ دیر قبل نہ کریں۔

جسم کو پرسکون نہ بنانا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بستر پر لیٹتے ہی سونے کو آسان بنانے کے لیے شام میں جسم کو پرسکون بنانے والے معمول کو اپنایا جاسکتا ہے، جیسے کسی کتاب کا مطالعہ یا مدھم موسیقی کو سننا۔ رات کو ایسے مشغلے سے گریز کریں جو مشکل یا ذہنی تناؤ کا باعث ہوں، کیونکہ اس سے ایسے ہارمون کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو جگانے میں مدد دیتا ہے۔