زرمبادلہ کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

مرکزی بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں دو پیسے کی کمی ہوئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
مرکزی بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں دو پیسے کی کمی ہوئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور یہ زرمبادلہ کے ذخائر 15.898 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

جمعرات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق مرکزی بینک میں موجود ذخائر میں 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے ساتھ ہی 13ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 8.6 ارب ڈالر ہو گئے۔

مزید پڑھیں: براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 2 ماہ میں 58 فیصد تک کمی

اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 8.6 ارب ڈالر ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 7.3 ارب ڈالر ہیں جس کے ساتھ ہی ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 15.898ارب ڈالر پر پہنچ گئے۔

مرکزی بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں دو پیسے کی کمی ہوئی، جس کے ساتھ ہی ڈالر 156.25 روپے کے بجائے 156.23 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف وفد کی گورنر اسٹیٹ بینک سے ملاقات

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے جمعرات کو گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے ملاقات کی جہاں گورنر اسٹیٹ بینک نے وفد کو پاکستان کے معاشی اصلاحات کے پروگرام سے آگاہ کیا۔

ڈائریکٹر شعبہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا، جہاد آرزو کی زیر قیادت آئی ایم ایف وفد نے گورنر اسٹیٹ بینک سے ملاقات کی جہاں ملاقات میں پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ارنسٹو رمیریز ریگو اور آئی ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ برائے پاکستان ٹریزاڈیبن سانچیز سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 4 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا ہے اور اس پروگرام میں عالمی معاشی برادری میں آئی ایم ایف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے نتیجہ خیز اشتراک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی پروگرام کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور بازار مبادلہ میں پائی جانے والی تغیر پذیری میں کمی آئی ہے اور بتدریج اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں اقتصادی عدم توازن کے باعث مہنگائی بڑھی تاہم رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔