ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات 23 ستمبر کو متوقع

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2019

ای میل

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ممکنہ 2 ملاقاتیں ہوسکتی ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ممکنہ 2 ملاقاتیں ہوسکتی ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: وزیر اعظم عمران خان کی 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیو یارک پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ممکنہ 2 ملاقاتوں میں سے یہ پہلی ملاقات ہوسکتی ہے اور یہ جنوبی ایشیائی رہنما سے ڈونلڈ ٹرمپ کی 24 گھنٹوں کے دوران دوسری ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیوسٹن، ٹیکساس میں 22 ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ مشترکہ ریلی سے خطاب بھی کریں گے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ، پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کروائیں، امریکی قانون سازوں کا مطالبہ

امریکی صدر اور نریندر مودی کی پاک-بھارت تعلقات پر ریلی کے علاوہ علیحدہ ملاقات بھی متوقع ہے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم اتوار کی شام کو اس وقت نیو یارک پہنچیں گے جب ڈونلڈ ٹرمپ مشترکہ ریلی سے خطاب کر رہے ہوں گے۔

عمران خان کی طرح کئی عالمی رہنما بھی پیر کے روز نیو یارک پہنچیں گے جہاں اعلیٰ سطح کی بحث کا آغاز ہوگا جو 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔

علاوہ ازیں دونوں پاکستانی و بھارتی وزرائے اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 27 ستمبر کو خطاب طے ہے، جہاں نریندر مودی جمعے کی صبح کو خطاب کریں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کو دوپہر میں خطاب کا موقع دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو نمایاں کریں گے جس میں بھارت کے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے 5 اگست کے فیصلے پر بات شامل ہوگی۔

ادھر نیو یارک اور واشنگٹن میں بھارتی سفیروں نے بھارتی صحافیوں کو بتایا کہ نریندر مودی 5 اگست کے اقدامات اور اس کے نتائج پر بات نہیں کریں گے بلکہ وہ نئی دہلی کے پاکستان سے مقبوضہ وادی میں مسلح افراد بھیجنے کے دعوے پر بات کریں گے تاکہ اس صورتحال میں فائدہ اٹھاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’مقبوضہ کشمیر میں مزید ایک لاکھ 80 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات‘

تاہم وزیر اعظم عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے بلکہ اس نے مسلح افراد کو اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ بھارت کشمیر میں حملے کے لیے دراندازوں کو استعمال کرسکتا ہے اور اس کا الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے۔

اسی بارے میں گزشتہ دنوں طورخم سرحد پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شہریوں کو خبردار کیا کہ 'اگر کوئی پاکستان سے بھارت جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ کشمیر میں لڑے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا، وہ کشمیریوں کا دشمن ثابت ہوگا'۔