گلالئی اسمٰعیل نیویارک ’فرار‘، سیاسی پناہ کیلئے درخواست دے دی

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2019

ای میل

میرے نکلنے کی کہانی بہت سی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے —فائل فوٹو: ٹوئٹر
میرے نکلنے کی کہانی بہت سی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے —فائل فوٹو: ٹوئٹر

سماجی کارکن گلالئی اسمٰعیل، پاکستانی حکام کو چکمہ دے کر امریکا پہنچ گئیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے وہاں سیاسی پناہ کے لیے درخواست بھی دے دی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 32 سالہ گلالئی اسمٰعیل اس وقت نیویارک کے علاقے بروکلن میں اپنی بہنوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

امریکی صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ پاکستان سے کس طرح نکلنے میں کامیاب ہوئیں البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ وہ ’کسی ایئرپورٹ سے پرواز کر کے نہیں گئیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’آئی ایس آئی کی تجویز پر گلالئی اسمٰعیل کا نام ای سی ایل میں درج ہوا‘

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خاتون کارکن کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے زیادہ آپ کو نہیں بتا سکتی، میرے نکلنے کی کہانی بہت سی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے‘۔

اخبار کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر حکومتی عہدیداران اعلانیہ کسی بھی قسم کی کوئی بات کرنے سے گریزاں تھے البتہ سیکیورٹی حکام کے مطابق انہیں شبہ تھا کہ گلالئی اسمٰعیل ملک سے باہر چلی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس سروس (آئی ایس آئی) نے بیرونِ ملک ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث گلالئی اسمٰعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں درج کرنے کی تجویز دی تھی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: زیر حراست سماجی کارکن گلالئی اسمٰعیل رہا

بعدازاں گلالئی اسمٰعیل نے ان کا نام ای سی ایل میں درج کرنے کے حکومتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے فہرست سے ان کا نام خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کو آئی ایس آئی کی تجویز کی روشنی میں گلالئی کا پاسپورٹ ضبط کرنے سمیت ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گلالئی اسمٰعیل مئی کے اواخر سے مفرور تھیں، ’سیکیورٹی ادارے پورے ملک میں ان کو تلاش کررہے تھے، اس سلسلے میں ان کے دوستوں کے گھروں اور قریبی رشتہ داروں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے‘۔

ہی بھی پڑھیں: گلالئی اسمٰعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گلالئی اسمٰعیل، اسلام آباد میں موجود اپنے والدیں کے لیے بھی سخت پریشان ہیں ’جو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں اور سخت نگرانی میں رہ رہے ہیں‘۔

دوسری جانب امریکا پہنچنے کے بعد انہوں نے حالیہ دنوں میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس کے رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں۔

اس ضمن میں نیویارک میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن سینیٹر چارلس شومر کا کہنا تھا کہ ’گلالئی کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست کی حمایت کے لیے میں ہرممکن کوشش کروں گا‘۔

مزید پڑھیں: سماجی کارکن گلالئی اسمٰعیل کا رہائی پر عمران خان اور ریحام خان کا شکریہ

سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ اگر وہ پاکستان واپس لوٹیں تو ان کی زندگی کو خطرہ ہوگا‘۔