پاک-افغان سرحد پر دھماکا، پاک فوج کے میجر اور سپاہی شہید

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2019

ای میل

شہید ہونے والے میجر عدیل اور سپاہی فراز کی تصاویر —فوٹو: آئی ایس پی آر
شہید ہونے والے میجر عدیل اور سپاہی فراز کی تصاویر —فوٹو: آئی ایس پی آر

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں پاک-افغان سرحد پر آئی ای ڈی (امپرووائڈ ایکسپلوزو ڈیوائس) کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے سے پاک فوج کا میجر اور سپاہی شہید ہوگیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ پاک فوج کے میجر عدیل شاہد اور سپاہی فراز حسین نے پاک افغان سرحد پر جام شہادت نوش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افسر کی نگرانی میں پاک فوج کا اسکواڈ اس دراندازی والے علاقے میں باڑ لگانے کے کام کی نگرانی میں مصروف تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ کا نشانہ بن گئے۔

مزید پڑھیں: پاک-افغان سرحد کے قریب فائرنگ کے 2 واقعات، پاک فوج کے 4 جوان شہید

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ اس دھماکے کے نتیجے میں میجر عدیل شاہد اور سپاہی فراز حسین شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے میجر عدیل کا تعلق کراچی جبکہ سپاہی فراز حسین کا تعلق کوٹلی سے تھا۔

واضح رہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے وقفے وقفے سے متعدد مرتبہ پاک فوج پر حملے کیے ہیں، جن میں کئی جوان شہید بھی ہوچکے ہیں۔

آج کا واقعہ ان 2 واقعات کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہوا ہے، جس میں مغربی سرحد کے قریب فائرنگ سے پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے اُس وقت بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان میں اسپن وام کے علاقے اباخیل میں گشت پر مامور سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں بلتستان کے رہائشی 23 سالہ سپاہی اختر حسین نے جام شہادت نوش کیا جبکہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو شرپسند مارے گئے تھے۔

اسی روز دیر میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحد کے 900 کلومیٹر حصے پر باڑ لگانے کا کام مکمل

رواں برس جولائی میں شمالی وزیرِستان میں پاک-افغان سرحد پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان کے سرحدی علاقے سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جون میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ اور بلوچستان کے علاقے قمر دین کاریز میں سرحد پار حملوں کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ جوابی فائرنگ سے 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے اور پاکستان پہلے ہی 900 کلو میٹر سے زائد حصے پر یہ کام مکمل کرچکا ہے۔

اس باڑ لگانے کا مقصد شرپسندوں اور دہشت گردوں کی پاک افغان سرحد پر نقل و حرکت کو روکنا ہے۔