عرب ممالک نے کشمیریوں کا ساتھ نہیں دیا، صدر آزاد کشمیر

20 ستمبر 2019

ای میل

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چین، ترکی اور ایران نے ہماری کھل کر حمایت کی لیکن عرب ممالک اور مغرب کی بڑی طاقتوں نے کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ساتھ نہیں دیا۔

اسلام آباد میں کشمیر یکجہتی یوتھ کنونشن سے خطاب میں صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس اور ان کے انتہا پسند رہنماؤں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تم سمجھتے ہو کہ اس طرح کشمیریوں پر حملہ کرو گے، انہیں گھروں میں محصور کرو گے، ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرو گے تو کیا کشمیری تمہیں معاف کردیں گے یا بپن راوت بیان دے گا تو پاکستانی اور آزاد کشمیری ڈر جائیں گے تو میرا یہ پیغام ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو تم نے 9 لاکھ فوج بھیجی ہے تو یہ تمہاری فوج کا قبرستان بنے گا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کے عوام کا عزم ہے کہ جب ہمارا جوابی حملہ ہوگا، جو ہونے والا ہے، تو تم اپنی وردیاں اور دھوتیاں یہیں مقبوضہ کشمیر میں چھوڑ کر واپس ہندوستان چلے جاؤں گے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کی بات نہیں کریں گے، یہ علاقہ ہم نے آزاد کروایا تھا جبکہ گلگت بلتستان کا علاقہ وہاں کے لوگوں نے آزاد کروایا تھا یہ بھارت کا علاقہ کیسے ہوگیا، ہم نے اپنا لہو دے کر یہ خطہ آزاد کروایا ہے اور آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، پاکستان کی دفاعی فصیل ہیں جسے کوئی فوج یا شخص عبور نہیں کرسکتی۔

مزید پڑھیں: بھارت نے تہذیبی جنگ کا آغاز کردیا جسے ہم ختم کریں گے، صدر آزاد کشمیر

انہوں نے کہا کہ اب ہم 'خالصتان، ہریانہ، آسام، ناگا لینڈ کی بات کریں گے کیونکہ جو چنگاری انہوں نے سری نگر میں لگائی ہے اس سے بھڑکنے والے شعلے پورے ہندوستان کو برباد کردیں گے'۔

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر یلغار کی، وہاں کا جھنڈا اور آئین چھین لیا، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی پیٹ میں بھی چھرا گھونپا اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو کہا کہ اب یہ زمین و وطن تمہارا نہیں بلکہ ہندو آکر تم سے یہ سب چھینیں گے۔

آزاد کشمیر کے صدر نے بھارت کی انتہا پسند جماعتوں کو پیغام دیا کہ جو آگ آپ بھڑکا رہے ہو، اس میں خود جھلس کر راکھ ہوجاؤ گے اور جب یہ آتش فشاں پھٹے گا تو بھارت کا کوئی کنارہ محفوظ نہیں رہے گا۔

پاکستان کی قوم اور آزاد کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بعد انہوں نے مثالی اتحاد کا ثبوت دیا، میں حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس نے پہلی مرتبہ بھارت پر معاشی و تجارتی پابندیاں لگائیں، اقوام متحدہ کا اجلاس منعقد کروایا، انسانی حقوق کونسل میں آواز اٹھائی اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ ہماری جنگ ہندوتوا، فسطائیت اور انتہا پسندی کے ساتھ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ نہتے ہیں اور ان پر اسلحے سے لیس فوج حملہ آور ہے لیکن کشمیر کی بہادر قوم نے 9 لاکھ فوج کو چاروں شانے چت کیا ہوا ہے۔

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے تہذیبی جنگ کا آغاز کیا ہے کس کا خاتمہ ہم کریں گے، کیا بھارت کو خالد بن ولید، طارق بن زیاد یاد نہیں؟ جن لوگوں نے 8 سو سال حکومت کی ان کو آپ نکالنا چاہتے ہوں، ان کے کشمیر کو برباد کرنا چاہتے ہو؟ تمہیں اجیت دوول نے بہکا دیا ہے، ہم آپ کی یہ بساط لپیٹ کر رہیں گے۔

عالمی دنیا کے ردعمل پر ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ عالمی میڈیا نے بھارت کے بیانیے کو مسترد کیا اور آپ کے بیانیے کی نشر و اشاعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ کا آغاز بھارت نے کیا ہے، ختم ہم کریں گے، صدر آزاد کشمیر

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی طاقتوں کے لب سلے ہوئے ہیں، وہ مصلحت اور منفعت کے جال میں پھنسے ہوئے ممالک بہت محتاط انداز میں بیان دے رہے ہیں لیکن میں چین، ترکی اور ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کھل کر ہماری حمایت کی لیکن عرب ممالک ہوں یا مغرب کی بڑی قوتوں نے کشمیریوں اور پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سفارتی و ثقافتی مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو ہماری مخالفت کر رہے یا انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ان کی نہ کو ہاں میں کیسے بدلیں۔

اس موقع پر انہوں نے ملینڈا اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے نریندر مودی کو ایوارڈ دینے کے اعلان کی مذمت کی اور کہا کہ اس پر شرم آنی چاہیے، کیا اس طرح مجرموں کو انعام سے نوازیں گے؟