آئی ایم ایف نے پروگرام کی کامیابی کو 'فیصلہ کن' اقدامات سے منسلک کردیا

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

آئی ایم ایف وفد کے سربراہ نے مشیر خزانہ سے ملاقات کی—فائل فوٹو: پی آئی ڈی
آئی ایم ایف وفد کے سربراہ نے مشیر خزانہ سے ملاقات کی—فائل فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے اقتصادی پروگرام نے حوصلہ افزا شروعات کی ہے تاہم ساتھ ہی مضبوط اور پائیدار ترقی کے لیے 'فیصلہ کن نفاذ' پر زور دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم اف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاز ازعور کی قیادت میں آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد نے اپنے 5 روزہ دورہ کا اختتام مثبت انداز میں کیا اور اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا کہ مشن اکتوبر کے اواخر میں پاکستان آئے گا اور 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) جس کی مدت رواں ماہ کے آخر کے لیے ہے، اس کی پہلی سہ ماہی کا باضابطہ طور پر جائزہ لے گا۔

اپنے بیان میں مشن نے کہا کہ 'پاکستان کے معاشی پروگرام کا ایک امید افزا آغاز ہے لیکن مضبوط اور پائیدار ترقی کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں'۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی

تاہم ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ 'مقامی اور بین الاقوامی خطرات ابھی بھی باقی ہیں اور ساختی معاشی چیلنجز براقرار ہیں'، لہٰذا انتظامیہ کو اپنے اصلاحی ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مشن نے ارنیستو رمیریز ریگو کی سربراہی میں 16 سے 20 ستمبر تک اسلام آباد اور کراچی کا دورہ کیا اور ای ایف ایف کے آغاز کے بعد سے معاشی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اقتصادی پالیسیوں کے عملدرآمد کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

اس اعلامیے کے مطابق ای ایف ایف کے تحت پہلے جائزے کے لیے ایک مکمل مشن اکتوبر کے آخر میں اس سلسلے میں آئے گا۔

مشن کی جانب سے یہ نقطہ پیش کیا گیا کہ انتظامیہ کا اقتصادی اصلاحاتی پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کو تسلیم کیا کہ کچھ شعبوں میں پیش رفت ہوئی۔

بیان کے مطابق 'مارکیٹ کے طے شدہ ایکسجینچ ریٹ کی منتقلی نے بیرونی توازن پر مثبت نتائج ڈالنا شروع کردیے ہیں، ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے، افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی مدد کر رہی ہے اور اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج کی پہلی قسط موصول

علاوہ ازیں ٹیکسز کے ساتھ ٹیکس محصولات کی وصولی میں 'نمایاں بہتری' کا بھی ذکر کیا گیا جو برآمد کنندگان کی رقوم کی واپسی میں دو ہندسے کی ترقی ظاہر کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ رابطے کی بہتری کے لیے نمایاں اقدام اٹھا رہا ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے کہا کہ پروگرام کی منظوری کے وقت سے قریب میکرواکنامک نقطہ نظر میں بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، مالی سال 20-2019 میں شرح نمو 2.4 فیصد تک متوقع ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں افراط زر میں کمی اور موجود اکاؤنٹ کا اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ایڈجسٹ ہونا متوقع ہے۔

توانائی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار

وفاقی وزیر توانائی سے مشن کے سربراہ ارنیستو رمیریز ریگو نے ملاقات کی—فوٹو: اے پی پی
وفاقی وزیر توانائی سے مشن کے سربراہ ارنیستو رمیریز ریگو نے ملاقات کی—فوٹو: اے پی پی

قبل ازیں آئی ایم ایف کے پاکستان، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے مشن کے سربراہ ارنیستو رمیریز ریگو نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان سے ملاقات کی اور ملک میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے حوصلہ افزا قرار دیا۔

توانائی ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعہ کو وفاقی وزیر توانائی سے ملاقات میں ارنیستو نے اہداف کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور توانائی کی نئی قابل تجدید پالیسی کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: قابلِ تجدید توانائی کا پالیسی مسودہ نامکمل قرار

آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نے کہا کہ توانائی آئی ایم ایف پروگرام کا اہم حصہ ہے اور دیگر وسائل کے استعمال کی جانب منتقلی کے عمل کو سراہا جس سے ملک میں بجلی کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملی اور کہا کہ اس سے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ مستفید ہوں گے۔

وزیر توانائی نے آئی ایم ایف کے وفد کو ریکارڈ وصولیوں اور لائن لاسز میں کمی کے حوالے سے کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاور ڈویژن کی کوششوں سے گردشی قرضوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ گردشی قرضوں میں ہر ماہ 38ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا تاہم گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ کم ہو کر 26ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

عمر ایوب نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں یہ کارکردگی مزید حوصلہ افزا تھی اور گردشی قرضے کم ہو کر 18ارب روپے پر پہنچ گئے ہیں اور بجلی چوری اور ڈیفالٹرز کے خلاف کارروائی کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مستقبل کے لیے متبادل توانائی کا حصول ناگزیر

وزیر توانائی نے وفد کو پاور ڈویژن کی جانب سے تکنیکی اور سسٹم کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ ملک کے 80فیصد فیڈرز اب لوڈ مینجمنٹ سے پاک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کی پیداوار کے نئے وسائل تلاش کر رہی ہے تاکہ درآمدی فیول پر انحصار کر کے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جا سکے۔