بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں مسلسل 8 ماہ سے کمی کا رجحان

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

مالی سال کے دوران ادویات سازی کے شعبے پر بھی کافی فرق پڑا—ڈان اخبار
مالی سال کے دوران ادویات سازی کے شعبے پر بھی کافی فرق پڑا—ڈان اخبار

اسلام آباد: محکمہ شماریات نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈیکس (ایل ایس ایم آئی) 3.28 فیصد تک کم ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر خطرات پیدا کرنے والے خوراک، مشروبات، ٹیکسٹائل، دواسازی، کھاد، چمڑے، لوہے اور اسٹیل کے شعبوں میں مایوس کن کارکردگی کے باعث بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں مسلسل 8 ماہ سے کمی واقع ہوئی۔

اگر گزشتہ مالی سال پر نظر ڈالیں تو ایل ایم ایس آئی شعبے 8.1 فیصد ترقی کے ہدفے کے مقابلے میں 3.64 فیصد تک پہنچ سکے تھے جبکہ مالی سال 20-2019 کے لیے حکومت نے ایم ایس ایم کا ہدف 3.1 فیصد مقرر کیا ہے۔

ادھر 20-2019 کے سالانہ منصوبے کے مطابق صنعت کا پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے ساتھ 20-2019 میں رفتار پکڑنا متوقع ہے، اس منصوبے میں متوقع ہے کہ سرکاری شعبے کے ذریعے ضروری پالیسی اور ریگولیٹری مدد کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی جائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں مسلسل دوسرے ماہ کمی

تاہم زائد شرح سود کے ماحول میں یہ امکان نہیں کہ نجی شعبہ معاشی توسیع کو فروغ یا سرمایہ کاری میں اضافہ کرسکتا ہے۔

اگر ہم شعبے کے حساب سے دیکھیں تو تیل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی کے تحت 11 اشیا کے پیداواری اعداد و شمار میں 1.71 فیصد کی منفی ترقی رجسٹرڈ ہوئی جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کے تحت 36 اشیا میں 3.1 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی تاہم شماریات کے صوبائی بیوروز میں 1.53 فیصد کی معمولی تقری دیکھی گئی۔

صنعتی شعبے میں مایوس کن کارکردگی نے رواں مالی سال میں مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر معاشی سست روی کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم حکام کا ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈیکس میں منفی ترقی کے باوجود چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ممکنہ ترقی، متوقع سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔

بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ 80 فیصد مینوفیکچرنگ اور کُل جی ڈی پی میں 10.7 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں چھوٹے درجے کی مینوفیکچرنگ کا شعبہ جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد اور مینوفیکچرنگ میں 13.7 فیصد تک کا حصہ ڈالتا ہے۔

اگر شعبوں کو دیکھیں تو آٹوموبائل کی قیمتوں میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ اضافہ دیکھنےمیں آیا، جس نے ممکنہ خریداروں کو اس سے دور رکھا اور سالانہ بنیادوں پر آٹو انڈسٹری میں منفی رجحان دیکھنےمیں آیا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں تقریباً تمام اداروں کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 3 فیصد کمی

دواسازی کے شعبے میں بھی قیمتوں میں ریگولیٹری ایڈجسٹمنٹ میں کافی فقدان نظر آنے کے باعث مشکلات کا سامنا رہا، مقامی کرنسی کے کمزور ہونے سے قیمتوں کے معاملے کو جنم دیا جو درآمد پر انحصار کرنے والے کے لیے تکلیف کا باعث بنا۔

اسی شعبے کو دیکھیں تو سیرپ (شربت) کی پیداوار میں 32.88 فیصد، ٹیبلیٹ میں 1.69 فیصد کمی ہوئی۔

علاوہ ازیں کھانے پکانے کے تیل اور چائے کی پتی کی پیداوار میں بالترتیب 5.64 اور 17.65 فیصد کمی ہوئی، تاہم ویجیٹیبل گھی کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر مالی سال 19 کے جولائی میں 1.91 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔