غیر قانونی الاٹمنٹ: سابق ڈی جی پارکس کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

نیب نے ملزم کو باغ ابن قاسم کا ایک ’جعلی ٹھیکا‘ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا—تصویر: فیس بک
نیب نے ملزم کو باغ ابن قاسم کا ایک ’جعلی ٹھیکا‘ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا—تصویر: فیس بک

راوالپنڈی کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پارکس لیاقت قائم خانی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج کی رخصت کے باعث ملزم لیاقت قائم خانی کو نیب ٹیم نے راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ کی عدالت میں پیش کیا، اس دوران کمرہ عدالت میں موجود میڈیا نمائندگان کو عدالت سے نکال دیا گیا۔

دوران، سماعت نیب استغاثہ نے ملزم لیاقت قائم خانی کے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

نیب کی درخواست پر عدالت نے 2 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کا طبی معائنہ بھی کروانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: سابق ڈی جی پارکس زیر حراست، 8 لگژری گاڑیاں، جیولری و نقدی برآمد

چنانچہ ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ملزم کو 23 ستمبر کو آئندہ سماعت میں احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیب راولپنڈی نے کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے سابق ڈی جی باغات و باغبانی لیاقت علی قائم خانی کو باغ ابنِ قاسم اسکینڈل میں 19 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔

انسدادِ بدعنوانی کے ادارے نے سابق عہدیدار کے گھر سے کے ایم سی کا سرکاری ریکارڈ، 8 پرتعیش اور قیمتی گاڑیاں، جائیداد کی دستاویزات،زیورات اور جدید اسلحہ برآمد کیا تھا۔

نیب ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں چھاپے کے دوران کراچی اور لاہور کے 7 بنگلوں کی دستاویزات بھی ملی جبکہ کے ایم سی کی ’اصلی فائلز‘ بھی قبضے میں لی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی کے سرسبز پارک لالچ اور کاروبار کی نذر

اس کے علاوہ مکان میں 6 فٹ لمبے اور 4 فٹ چوڑے 2 لاکرز بھی موجود تھے جنہیں چھاپے کے اگلے روز ملزم کے ذریعے کھلوایا گیا تھا اور اس میں بھی قیمتی زیورات اور بھاری نقدی موجود تھی۔

نیب نے ملزم کو بحیثیت ڈی جی پارکس باغ ابن قاسم کا ایک ’جعلی ٹھیکا‘ دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ نیب گزشتہ ایک سال کے عرصے سے باغ ابنِ قاسم کی رفاہی زمین کی الاٹمنٹ اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے 2 پلاٹس کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے۔

اس سے قبل اسی کیس میں نیب نے جون 2019 میں کراچی کے سابق ایگزیکٹو ضلعی آفیسر برائے ریونیو سجاد علی عباسی کو گرفتار کیا تھا جو اس کمیٹی کا حصہ تھے جس نے نجی تعمیراتی کمپنی کو رفاہی پلاٹ دیا تھا اور سندھ لینڈ کمیٹی میں بھی شامل تھے جس نے کمپنی کو دی گئی باغ ابن قاسم کی زمین کے حصے کو ریگولرائز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی الاٹمنٹ: مصطفیٰ کمال کی عبوری ضمانت منظور

تاہم بعد میں نیب نے سجاد عباسی کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 26 کے تحت معافی دے کر مذکورہ ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بنا دیا تھا۔

نیب ذرائع کے مطابق اس کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے تھے کہ اس جعل سازی کے تانے بانے صوبائی حکومت کے اقتدار کی راہدرایوں مبینہ طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس سے جا کر ملتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس کیس میں ایک مبینہ کردار سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا بھی ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ ہی سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ لیاقت علی قائم خانی کو کچھ سال قبل ریٹائرمنٹ کے بعد میئر کراچی کا مشیر تعینات کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل وہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کے دور میں اہم عہدوں پر فائز رہے تھے۔