’قوم جاگ گئی ہے، کشمیر کے لیے مریں گے یا مار کر رہیں گے‘

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2019

ای میل

شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں چین کی دوستی پر بھروسہ کرنا چاہیے — فائل فوٹو: ٹوئٹر
شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں چین کی دوستی پر بھروسہ کرنا چاہیے — فائل فوٹو: ٹوئٹر

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ قوم جاگ گئی ہے، (کشمیر کے لیے) ہم مریں گے یا مار کر رہیں گے ایسا موقع پھر کبھی نہیں آئے گا۔

آزاد جموں و کشمیر کے سیکٹر بھمبر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا خاتمہ کرکے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور معاہدہ ختم کرکے ایسا موقع دیا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پاکستانی حکمرانوں، سیاست دانوں اور پاک فوج کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ جاگتے رہنا، قوم جاگ گئی ہے اور اب ہم مریں گے یا مار کر رہیں گے، ایسا موقع دوبارہ نہیں آئے گا‘۔

وزیر ریلوے نے سوال اٹھایا کہ آج کشمیریوں کو کس بات کی سزا مل رہی ہے، وہ 50 روز سے کرب کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کی پوری قیادت بھی جیل میں ہے۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کو کرنٹ کا جھٹکا، خطاب ادھورا چھوڑ دیا

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ایجنڈا پاکستان کو ختم کرنا ہے جس کے لیے وہ واہگہ کا راستہ کھول کر کابل سے کاروبار کرنا چاہتا ہے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستانی قوم کو وقت آنے پر ہمیشہ دھوکا دیا، اس لیے ہمیں امریکا کی نہیں بلکہ چین کی دوستی پر یقین کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے جب بھی افغانستان کا رخ کیا تو اسے پاکستان کی ضرورت پڑی۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صلح پسند شخصیت ہیں، یہ جنگ نہیں چاہتے‘۔

یہ بھی پڑھیں: اکتوبر،نومبر میں پاک۔بھارت جنگ ہوتی دیکھ رہا ہوں، شیخ رشید

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے جو غلطی کی ہے اس سے پوری قوم اور سیاسی جماعتیں ایک ہوگئی ہیں، جو کشمیر کے لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا وہ غدار وطن اور بے ایمان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں کشمیر کے لیے جنگ میں حصہ لوں اور سرحد پر شہید ہوکر واپس لوٹوں۔

شیخ رشید احمد نے اپنی ولولہ انگیز تقریر کے دوران نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سرفروشی کے لیے تیار ہوجائیں۔

مزید پڑھیں: صحافی کےخلاف ’توہین آمیز‘ جملے، شیخ رشید کی پریس کلب داخلے پر پابندی

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب پر بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ خطاب سے حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور بھارت نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے اگر ہم نے آج ان کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اس حصے سے ایل او سی صرف ایک کلومیٹر دور ہے لیکن پھر یہاں کے بے خوف لوگ یہاں سے نقل مکانی نہیں کرتے۔

’مولانا اپنے اندر موجود سیاست کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں‘

آزاد کشمیر روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ آج میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایل او سی اور بھمبر جارہا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے ان کی جدوجہد آزادی کی بھر پور حمایت جاری رکھیں گے۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ‘راولپنڈی میں 3 جامعات کی تعمیر کی منظوری دینے پر میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار کا شکر گزار ہوں۔‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ‘امید ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نہیں کریں گے۔‘

یہ بھی دیکھیں: 'مولانا فضل الرحمٰن کشمیر کے نام پر لاکھوں کی لسی پی گئے'

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا آزادی مارچ ضرور کریں، لیکن اس کے ساتھ کشمیر کا لفظ ضرور لگالیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہ ناموث رسالت کے قانون کی بات کرتے ہیں جو آئین و قانون ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔

وزیر ریلوے نے مدرسے کے طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر آزادی مارچ میں ضرور حصہ لیں لیکن اگر ان کا مقصد خانہ جنگی ہے تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

میں عبدالغٖفور حیدری کے زریعے مولانا کو پیغام بھجوا چکا ہوں کہ اپنے اندر چھپی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھیں۔