مکھیوں، مچھوں کے بعد کراچی پر نئے قسم کے 'حشرات الارض' کی بہتات

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2019

ای میل

ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ کیڑے ناک اور کان میں داخل ہوسکتے ہیں — فائل فوٹو: پنٹرسٹ
ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ کیڑے ناک اور کان میں داخل ہوسکتے ہیں — فائل فوٹو: پنٹرسٹ

صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی، مچھروں اور مکھیوں کے بعد نئے اقسام کے حشرات الارض کی زد میں آگیا اور ایک کے بعد ایک نئے اقسام کے کیڑوں نے شہریوں کو مشکلات کا شکار کردیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو آلودگی، کچرے کو ٹھکانے نہ لگانے اور بارشوں کے دوران نکاسی آب کا نظام مفلوج ہونے کے باعث جگہ جگہ گندا پانی جمع ہونے کی وجہ سے پہلے ہی مچھروں اور مکھیوں کی بہتات کا سامنا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ شہریوں نے ان سے ابھی جان ہی چھڑوائی تھی کہ اب کراچی کے باسیوں پر اڑنے والے دوسرے قسم کے حشرات الارض نے حملہ کردیا۔

مزید پڑھیں: ’کیا کراچی میں مکھی قومی موومنٹ تشکیل پارہی ہے؟‘

شہر پر ہونے والی کیڑے مکوڑوں کی حالیہ یلغار کی وجہ سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

کراچی میں برسوں بعد صفائی مہم کے باعث جیسے ہی کچرا اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس میں پلنے والے حشرات الارض نے آبادیوں کا رخ کرلیا۔

ان کیڑوں نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا جبکہ ماہرین کا ماننا ہے ایسے کیڑوں کے کاٹنے سے الرجی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی

اسی طرح ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے کیڑے کسی انسان کے کان اور ناک میں گھس سکتے ہیں لیکن اب تک اس حوالے سے ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔