پنجاب: ‘محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی ایک سال میں 108 ارب کی تاریخی ریکوری‘

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2019

ای میل

عثمان بزدار نے بتایا کہ ایک برس میں اے سی ای نے مفرور 40 مشتبہ افرا کو گرفتارکیا—فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
عثمان بزدار نے بتایا کہ ایک برس میں اے سی ای نے مفرور 40 مشتبہ افرا کو گرفتارکیا—فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب کے محکمہ انسدادِ بدعنوانی (اے سی ای) نے اگست 19-2018 میں مجموعی طور پر 108 ارب روپے کی ’تاریخی‘ ریکوری (برآمدگی) کیں۔

ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ اے سی ای نے بلاوسطہ برآمدگی میں ایک ارب 63 کروڑ روپے اور 2 ارب 81 کروڑ روپے بالواسطہ برآمدگی کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اراضی برآمدگی میں مجموعی طور پر 103 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے۔

مزیدپڑھیں: محکمہ اینٹی کرپشن کو سروسز اسپتال میں چھاپہ مہنگا پڑگیا

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پمفلیٹ بھی شیئر کیا جس پر محکمہ انسداد کرپشن کی کارکردگی کا ذکر ہے۔

عثمان بزدار نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد غیرجانبدار احتساب اور انسداد کرپشن پر رکھی گئی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اگست 19-2018 کے درمیانی عرصے میں مجموعی طور پر کرپشن سے متعلق 27 ہزار 127 شکایات موصول ہوئیں جس میں سے 26 ہزار 588 شکایات دور کی گئیں۔

عثمان بزدار نے کہا کہ شکایت کنندہ کے خلاف کم از کم 5 ہزار 410 انکوائری کی گئیں اور8 ہزار 726 شکایات پر فیصلے جاری ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا ڈپٹی کمشنرز کےخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا عندیہ

ان کا کہنا تھا کہ اے سی ای نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد 5 ہزار 410 مقدمات دائر کیے اور 2 ہزار 14 فیصلے جاری ہوئے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید بتایا کہ محکمہ انسداد کرپشن کی جانب سے 1 ہزار 19 چالان جاری کیے، 280 چھاپے مارے گئے اور 1 ہزار 821 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک برس میں اے سی ای نے مفرور 40 مشتبہ افراد اور 257 ملزمان کو حراست میں لیا۔

واضح رہے کہ عثمان بزدار کی جانب سے مذکورہ اعداد و شمار ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب دو ماہ قبل پنجاب حکومت نے ’ناقص کارکردگی‘ پر محکمہ انسداد کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز حسین کو برطرف کیا۔

مزیدپڑھیں: پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کرپشن کے الزام میں گرفتار

اعجاز حسین شاہ کو بطور اے سی ای ڈی جی رواں برس 4 مارچ کو تعینات کیا اور ایسے وقت پر برطرف کیا جب وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف اعلیٰ سطح کی متعدد انکوائری کررہے تھے۔

اس ضمن میں حکام نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکومت ’کام کی سست روی کے باعث اعجاز حسین شاہ سے ناخوش تھی‘۔