اسرائیل کے ایک اسکول میں 13 سالہ طالبہ کا گینگ ریپ

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2019

ای میل

طالبہ کے والد نے بتایا کہ بنکر کے اندر موجود ایک لڑکے نے ریپ کیا اور دوسرے نے تصاویر بنائیں—فائل فوٹو: دی گارجین
طالبہ کے والد نے بتایا کہ بنکر کے اندر موجود ایک لڑکے نے ریپ کیا اور دوسرے نے تصاویر بنائیں—فائل فوٹو: دی گارجین

اسرائیل میں پولیس نے اسکول کے بم شیلٹر (بنکر) میں 13 سالہ طالبہ سے متعدد مرتبہ گینگ ریپ کے الزام میں 3 لڑکوں کو گرفتار کرلیا۔

دی انڈیپنڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق متاثرہ طالبہ نے بیان دیا کہ زیر حراست ملزمان نے 10 دن تک بم شیلٹر (بنکر) میں ریپ اور تشدد کیا۔

مزیدپڑھیں: قبرص: برطانوی لڑکی کے 'گینگ ریپ' کے الزام میں 11 اسرائیلی گرفتار

متاثرہ لڑکی کے والد نے اسرائیلی ٹی وی کو بتایا کہ 4 لڑکوں نے ان کی بیٹی پر حملہ کیا، دو لڑکے بنکر کے اندر رہے اور باقی دو نے بنکر کے باہر پہرہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بنکر کے اندر موجود ایک لڑکے نے ریپ کیا جبکہ دوسرے نے تصاویر بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا کہ اس طرح کا واقعہ اسکول کے اندر کیسے ہوسکتا ہے‘۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ’لڑکوں نے میری بیٹی اور اس کی چھوٹی بہن کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی اور کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کردیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ہر 16ویں امریکی خاتون ریپ کا شکار، تحقیق

ان کا کہنا تھا کہ ’اسکول کے استاد اور پرنسپل اس وقت کہاں تھے، میری بیٹی ذہنی طورپر ٹوٹ چکی ہیں اور اس وقت سے اب تک اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی اور مسلسل رو رہی ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق اسکول میں گینگ ریپ کا یہ واقعہ غزہ پٹی کے قریب جنوبی شہر نیٹیوٹ میں پیش آیا۔

اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ تحریری شکایت کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے سے متعلق ایک 16 سالہ مشتبہ لڑکے کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ دیگر دو سے تفتیش جاری ہے۔

علاوہ ازیں مقامی میڈیا کے مطابق زیر حراست مشتبہ لڑکے کے وکیل نے بتایا کہ لڑکوں نے گینگ ریپ کے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ ’وہ لڑکی کو جانتے تک نہیں ہیں‘۔

مزیدپڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں قبرص میں جواں سالہ برطانوی لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے والے 11 اسرائیلی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسرائیلی سیاحوں نے متاثرہ لڑکی کو اس کے ہوٹل کے کمرے میں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت میں پیش کردہ ملزمان کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔

زیرحراست اسرائیلی نوجوانوں کے سر ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور بند کمرے میں عدالتی کارروائی ہوئی تھی