ملا برادر کی سربراہی میں طالبان وفد کی چینی نمائندہ خصوصی سے ملاقات

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کابل: طالبان کے ایک وفد نے چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے چینی دارالحکومت بیجنگ میں ملاقات کی اور امریکا کے ساتھ امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق چینی نمائندے سے یہ اہم ملاقات، امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات کے جاری سلسلے میں ہونے والی ایک ملاقات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آخری لمحات میں منسوخ کیے جانے کے بعد ہوئی۔

اس سے قبل اس بات کی امید ظاہر کی جارہی تھی کہ امریکا طالبان مذاکرات میں دونوں فریقین افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر راضی ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے مذاکرات معطل، طالبان وفد روس پہنچ گیا

اس حوالے سے قطر کے دارالحکومت میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملاقات کے لیے طالبان وفد بیجنگ آیا اور چینی نمائندہ خصوصی ڈینگ ژی جون سے ملاقات کی۔

انہوں نے بتایا کہ چینی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ امریکا، طالبان سمجھوتہ افغان مسئلے کے پر امن حل کے لیے ایک اچھا فریم ورک ہے اور وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔

اس ضمن میں طالبان کے وفد کی نمائندگی کرنے والے ملا برادر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بات چیت کی اور ایک ’جامع معاہدے‘ تک پہنچ گئے۔

اب اگر امریکی صدر اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتے اور اپنا وعدہ توڑتے ہیں تو افغانستان میں کسی قسم کی خونریزی کے ذمہ دار وہی ہوں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا-طالبان مذاکرات میں ناکامی کی وضاحت کیلئے زلمے خلیل زاد کانگریس میں طلب

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کے امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا، جس کے بارے میں طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے امریکی اور طالبان نمائندوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو ممکنہ طور پر امریکا افغانستان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج واپس بلانے کا لائحہ عمل طے کرتا جبکہ طالبان کی جانب سے یہ ضمانت شامل ہوتی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن مذاکرات معطل: طالبان کی امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی

تاہم 8 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر یہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں غیر معمولی نقصان کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مستقبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔