لانگ مارچ میں شرکت سے انکار، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی-ف میں تلخیاں پیدا ہوگئیں

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

پی پی پی اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما ایک دوسرے پر معاملے پر سیاست کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں — فائل فوٹو: جاوید حسین
پی پی پی اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما ایک دوسرے پر معاملے پر سیاست کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں — فائل فوٹو: جاوید حسین

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف لانگ مارچ میں شرکت سے انکار کے بعد دونوں جماعتوں میں تلخیاں پیدا ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سیاست کرنے کا الزام عائد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جہاں پیپلز پارٹی رہنما مولانا فضل الرحمٰن یا دیگر رہنما سے براہ راست بات نہیں کر رہے وہیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے لانگ مارچ پر اپنائے گئے پیپلز پارٹی کے موقف پر کھل کر تنقید کی۔

اس معاملے پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'پیپلز پارٹی نے دہرا معیار اختیار کر رکھا ہے، ایک طرف وہ ہمارے لانگ مارچ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہیں تو وہیں دوسری جانب وہ ہمارے احتجاج کی اخلاقی و سیاسی حمایت بھی کر رہے ہیں'۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن نے گرفتاری والا کام کیا تو گرفتار کریں گے، وزیر داخلہ

ان کا کہنا تھا کہ 'پیپلز پارٹی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جو جیل میں ہیں وہ باہر آنا چاہتے ہیں اور جو باہر ہیں وہ جیل نہیں جانا چاہتے'۔

پیپلز پارٹی کے جے یو آئی-ف کی قیادت پر حکومت مخالف مظاہرے میں 'مذہب کارڈ' کے استعمال کے الزامات پر ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری جماعت نے کبھی پی پی پی پر سندھ کارڈ استعمال کرنے پر تنقید نہیں کی'۔

انہوں نے کہا کہ 'مذہب کارڈ پیپلز پارٹی کا ایک بہانہ ہے کیونکہ یہ چند طاقتوں کو خوش کرنا چاہتی ہے، اس قبل بھی پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم، صدر اور سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں دھوکا دیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کیا قائد اعظم نے آزادی کی جدو جہد میں مذہب کا کارڈ استعمال نہیں کیا تھا، کیا آئین کا اس کی اصل روح کے مطابق اطلاق ہونے کا مطالبہ غیر آئینی ہے؟'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب پیپلز پارٹی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہی تھی تو ان کے رہنما نے مولانا فضل الرحمٰن سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مہم کا آغاز کرنے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے مارچ کا ایک نکاتی ایجنڈا ہوگا اور وہ ہے 'دوبارہ انتخابات'، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی-ف کے کارکنان اور حامی ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے بھی ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد لاک ڈاؤن کیلئے جے یو آئی کو مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما کا کہنا تھا کہ احتجاج کے بارے میں اب بھی اپوزیشن جماعتوں سے رہبر کمیٹی کی سطح پر بات کی جاسکتی ہے، جسے کل جماعتی کانفرنس میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے قائم کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی-ف تمام جماعتوں کو ایک ساتھ لیتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حافظ حسین احمد کے بیان پر جب پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری فرحت اللہ بابر کا رد عمل لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس وقت کوئی رائے نہیں دینا چاہتا، میں دونوں جماعتوں میں اختلافات پیدا نہیں کرنا چاہتا'۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ 'پیپلز پارٹی نے کبھی احتجاجی مارچ کو غیر آئینی قرار نہیں دیا، تمام جماعتوں کو حکومت مخالف احتجاج کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے'۔

ادھر ذرائع کا کہنا تھا کہ جے یو آئی-ف کی قیادت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لانگ مارچ کے حوالے سے بیان پر ناراض ہے۔

19 ستمبر کو اسلام آباد میں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'میں دھرنا سیاست نہیں کرنا چاہتا، میں بینظیر بھٹو شہید کی سیاست کرنا چاہتا ہوں، آپ کیوں مجھے مولوی بنانا چاہتے ہیں'۔

واضح رہے کہ جے یو آئی-ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جن کے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اچھے تعلقات ہیں، انہوں نے حال ہی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کرانے کی بھی کوشش کی تھی تاہم ان کی تمام کوششیں ناکام رہی تھیں۔