انتخابات 2018 کے دوران الیکشن کمیشن نے 'فضول' اخراجات کیے، رپورٹ

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

ای سی پی انتظامیہ کی فضول خرچی کا انکشاف آڈٹ رپورٹ میں ہوا —فائل فوٹو: اے ایف پی
ای سی پی انتظامیہ کی فضول خرچی کا انکشاف آڈٹ رپورٹ میں ہوا —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سال 2018 کے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے بڑی تعداد میں 'فضول' اخراجات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بغیر ٹینڈرز اور غیر مجاز اتھارٹی سے ادائیگی کے ذریعے خریداری بھی شامل ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-2017 کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹرانسپیرنٹ بیلٹ باکسز اور صرف فولڈ ایبل اسکرینڈ آف کمپارٹمنٹ کی خریداری میں 36 کروڑ 68 لاکھ 20 ہزار روپے فضول میں ضائع کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ای سی پی انتظامیہ نے 2 لاکھ 2 ہزار 239 بیلٹ باکسز خریدے جبکہ اس کے مقابلے میں 87 ہزار 77 باکسز کی کمی تھی، جس کی وجہ سے خزانے کو 14 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار روپے کا نقصان ہوا، اسی طرح 2 لاکھ 7 ہزار 478 فولڈ ایبل اسکرینڈ آف کمپارٹمنٹ کی کمی پر ای سی پی انتظامیہ نے 3 لاکھ 54 ہزار 430 کمپارٹمنٹ کی خریداری کی، اس ایک لاکھ 46 ہزار 952 اضافی خریداری کے نتیجے میں خزانے کو 22 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

مزید پڑھیں: وفاقی وزارتوں میں 150 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

رپورٹ میں کہا گیا کہ بیلٹ باکسز کے لیے ٹینڈر کو سنگل مرحلے میں 2 لفافوں کے طریقہ کار پر بنایا گیا تھا اور اس طریقہ کار کے مطابق تکنیکی جواب دہ کمپنیوں کی سب سے کم مالی بولی قبول کی جانی تھی، تاہم اس کے لیے سب سے کم بولی 22 کروڑ 83 لاکھ 20 ہزار روپے کو نظر انداز کیا گیا اور یہ ٹھیکہ دوسری کمپنی کو 25 کروڑ 72 لاکھ 40 ہزار روپے پر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 کروڑ 89 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ الیکشن کمیشن نے مالی سال کے دوران غیر شفاف طریقہ کار سے ایک کروڑ 45 لاکھ 80 ہزار روپے مالیت کی متفرق اشیا کو خریدا۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس خریداری کو کھلے عام مقابلے کے بغیر اسی وینڈر سے خریدا گیا اور کھلے عام ٹینڈرز کی ضرورت سے بچنے کے لیے خریداری اور ورک آرڈر تقسیم کیے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ای سی پی نے 5 ہزار روپے فی پولنگ اسٹیشن کے حساب سے 86 ہزار 613 پولنٹ اسٹیشن کے لیے ٹرانسپورٹیشن چارجز کی مد میں صوبوں کو 43 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کیے جبکہ 2018 کے انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز کی حتمی تعداد 85 ہزار 58 تھی، لہٰذا اس کا نتیجہ 77 لاکھ 70 ہزار روپے اضافی ادائیگی کی صورت میں سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیلی کام کے شعبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگی کا انکشاف

ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ای سی پی ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ کی 20 فیصد شرح پر دیا جانے والا الیکشن الاؤنس بغیر کسی اجازت کے تھا کیونکہ اس کی نہ ہی وزیراعظم نے منظوری دی تھی اور نہ ہی فنانس ڈویژن کے ریگولیشن ونگ سے اس کی توثیق ہوئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں یہ سامنے آیا کہ ووٹرز نے اپنا ووٹ چیک کرنے کے لیے 16 کروڑ 20 لاکھ سے زائد مرتبہ 'ہٹس' کیے گئے، جس کی مالیت 32 کروڑ 44 لاکھ 90 ہزار روپے بنی اور اس میں سے ای سی پی کا حصہ 10 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے۔

اے جی پی کو معلوم ہوا کہ سیلولر کمپنیوں نے ای سی پی کا حصہ ادا نہیں کیا لیکن اس کو نادرا کو منتقل کردیا اور یہ ابھی تک وہی پر موجود ہے۔