سیشن جج، نمرتا چندانی کی موت کی جوڈیشل انکوائری سے گریزاں

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

نمرتا کے اہلِ خانہ مقدمہ درج کروانے نہیں آئے اور نہ ہی پولیس خودکشی کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تیار ہے—فائل فوٹو: فیس بک
نمرتا کے اہلِ خانہ مقدمہ درج کروانے نہیں آئے اور نہ ہی پولیس خودکشی کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تیار ہے—فائل فوٹو: فیس بک

حیدرآباد: وزارت داخلہ سندھ کی درخواست کے باوجود لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نمرتا چندانی کی پراسرار موت کی جوڈیشل انکوائری کرانے سے گریزاں ہیں۔

خیال رہے کہ بی بی آصفہ ڈینٹل کالج (بی اے ڈی سی) میں بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی ہاسٹل کے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھیں۔

ضلعی پولیس میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اتوار کی شام سیکریٹری داخلہ عبدالکبیر قاضی کو بیرونِ ملک جاتے ہوئے پولیس نے سیشن جج کی جانب سے انکوائری کا آغاز کرنے سے گریز کے بارے میں آگاہ کیا۔

ایک دوسرے ذرائع کا کہنا تھا کہ ’سیشن جج نے واضح طور پر انکوائری کرنے سے انکار کردیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا نمرتا چندانی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار

ذرائع کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے لاڑکانہ پولیس کو بتایا کہ اگر سیشن جج انکوائری کا آغاز نہیں کرنا چاہتے تو وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں، ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پیر کے روز (آج) کافی حد تک معاملات واضح ہوجائیں گے'۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ جج نے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا کہ محکمہ داخلہ نے براہِ راست ان سے درخواست کی تھی جبکہ اس طرح کی ہدایات سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جاری کرتے ہیں۔

تاہم اس صورت میں بھی لاڑکانہ پولیس اور محکمہ داخلہ کو باضابطہ طور پر جواب نہیں دیا گیا اور صرف یہ پیغام دیا گیا جو پولیس تک پہنچا۔

اس صورتحال میں لاڑکانہ پولیس مشکل میں ہے کیوں کہ نمرتا کے اہلِ خانہ مقدمہ درج کروانے نہیں آئے اور نہ ہی پولیس خودکشی کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیں: میڈیکل کی طالبہ کی پراسرار موت، سندھ حکومت کی عدالتی تحقیقات کیلئے درخواست

ذرائع کا کہنا تھا کہ نمرتا کے اہلِ خانہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عرفان علی بلوچ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ (ای ایس پی) مسعود بنگش سے ملاقات کی تاہم ڈی آئی جی پر اعتماد کا اظہار کرنے کے باوجود وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب پولیس نے گزشتہ کئی دنوں سے تحقیقات کے لیے 2 طالبعلموں مہران ابڑو اور واسع عرف علی شان میمن کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ان کی حراست سے بھی سوالات اٹھیں گے اور ان کے اہلِ خانہ ان کی رہائی کے لیے عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں، مذکورہ دونوں طالب علم اپنے بیانات ریکارڈ کرواچکے ہیں۔

پولیس کے مطابق مہران ابڑو نمرتا سے قریبی تعلق رکھتا تھا، جس نے تفتیش کرنے والوں کو بتایا کہ اس نے نمرتا سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا، موت سے چند روز قبل نمرتا نے اس معاملے پر پروفیسر امر لعل سے بھی گفتگو کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ: ڈینٹل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل میں پراسرار موت

دوسری جانب ایڈووکیٹ عشرت لوہار کا کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات اس وقت تک نہیں ہوسکتیں جب تک ایف آئی آر درج نہ ہوجائے۔

تاہم ایڈووکیٹ علی پلھ نے مذکورہ بالا موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر سے قبل بھی جوڈیشل انکوائری کی جاسکتی ہے اور نمرتا کے اہلِ خانہ یہ انکوائری ہائی کورٹ کے جج سے کروانا چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں ڈان نے نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں تاہم وہ دستیاب نہ ہوئے، ان کو کی گئی کال اٹینڈ کرنے والے شخص کا کہنا تھا کہ وہ کسی مذہبی رسم کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔

نمرتا چندانی کی پراسرار موت

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بی بی آصفہ ڈینٹل کالج (بی ایس ڈی سی) میں بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا مہر چندانی ہاسٹل کے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھیں۔

اس موت پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی تاہم اہل خانہ کی جانب سے خودکشی کی بات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قبل ازیں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ملی جس کے بعد وائس چانسلر، رجسٹرار، بی اے ڈی سی اور چاند کا میڈیکل کالج کے پرنسپلز پولیس افسران کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور نمرتا چندانی کو این آئی سی وی ڈی کے شعبہ حادثات لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ یونیورسٹی: طالبہ کی مبینہ خودکشی پر آئی جی کا نوٹس

اس ضمن میں وائس چانسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولہ کے گردن کے ارد گرد زخموں کے نشان کے سوا جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود ڈاکٹر ہوں اور میں نے بھی لاش کا معائنہ کیا ہے جس کے مطابق طالبہ کے گلے پر جس طرح کے نشان پائے گئے ہیں وہ خود کشی کے نہیں، اس کے علاوہ اس کی کلائیوں پر بھی زبردستی پکڑے جانے کے نشانات موجود تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جس لڑکی نے سب سے پہلے نمرتا کی لاش دیکھی اس کے مطابق اس کے گلے میں دوپٹہ تھا جبکہ گلے پر جو نشان ہے وہ تار کا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ‘نمرتا کی لاش دوپہر 2 بجے ملی لیکن کالج کی انتظامیہ نے خود بتایا کہ ساڑھے 12 بجے وہ مٹھائی بانٹنے آفس میں آئی تھی تو آخر ڈیڑھ گھنٹے میں ایسا کیا ہوا؟’

بعد ازاں اس معاملے پر اہل خانہ کی جانب سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت سندھ نے معاملے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی تھی۔

چناچنہ سندھ حکومت نے 18 ستمبر کو باضابطہ طور پر نمرتا چندانی کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالت سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست کردی تھی۔

دوسری جانب طالبہ ہلاکت کی تفتیش کے سلسلے میں 2 ساتھی طالبعلموں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی تھی۔