بچوں کے رویے بتانے والا 'تعلق میٹر' - دوسری قسط

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

بچوں کے پاس ورڈز جاننا اور ان کی انٹرنیٹ ہسٹری دیکھنا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے—فوٹو: 123 آر ایف اسٹاک
بچوں کے پاس ورڈز جاننا اور ان کی انٹرنیٹ ہسٹری دیکھنا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے—فوٹو: 123 آر ایف اسٹاک

اس سلسلہ وار مضمون کی پہلی قسط میں والدین کو بچوں کی شخصیت سے واقفیت پر زور اور اس کے لیے چند بنیادی ٹولز کی نشاندہی کی گئی تھی اور اس قسط میں بچے کی آن لائن دنیا کو جاننے کی اہمیت اور چند بنیادی ٹولز کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس سلسلے کی پہلی قسط پڑھیں

مضمون کو آسانی سے سمجھانے کے لیے کہانی سنائے جانے کے انداز کو اپنایا گیا ہے اور امید ہے کہ اس سے آپ پیغام کو آسانی سے سمجھ سکیں گے۔

بھائی میں تو پریشان ہو گیا جب امی کے موبائل کی ہسٹری چیک کی، یہ موبائل ہر وقت چھوٹے بھائی کے ہاتھ میں رہتا تھا، ایک دن میں نے موبائل چیک کیا تو اس کی ہسٹری میں ایسی ویب سائٹس اور تصاویر کا ڈیٹا تھا کہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے،' محلے میں رہنے والے نوجوان نے ایک کونسلنگ کے ماہر کو بتایا۔

اپنے بھائی کی آن لائن سرگرمیوں سے حیران کم اور بد حواس زیادہ ہونے والے اس نوجوان سے جب پوچھا کہ بچے کو موبائل کس نے پکڑایا؟ کیا بچے کو موبائل کے استعمال کی کھلی چھٹی تھی؟ کیا موبائل استعمال کرتے ہوئے اس پر کوئی نگاہ نہیں رکھتا تھا؟ تو اس کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں تھے۔

یہ سوالات دراصل بچے اور اس کے گھر والوں کے 'تعلق میٹر' میں تعلق کے کم ہوتے لیول کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

یہ تعلق کمزور ہوتا ہے تو بچوں کی آن لائن اور آف لائن دنیاؤں میں مسائل کی شروعات ہوتی ہے، یہ مسائل مختلف طرح کے ہوسکتے ہیں اور ان کے نتائج بچوں کے جسمانی استحصال سے لے کر نفسیاتی مسائل جیسے ضد، جارحانہ پن، لڑائی و جھگڑا، جرم کی طرف جھکاؤ اور کم عمری میں جنسی رغبت وغیرہ ہو سکتے ہیں۔

تعلق میٹر کی اس کیٹیگری میں والدین یا بچوں کے نگرانوں کو درج ذیل چیزوں کو جاننا ہوگا، جتنا آپ ان سوالات کو جانتے ہوں گے، اتنا ہی تعلق میٹر میں تعلق کا لیول بڑھتا جائے گا۔

پہلا سوال: بچے ٹی وی اور انٹرنیٹ (موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر) کو تنہا تو استعمال نہیں کرتے؟

اس کے جوابات تین طرح کے ہو سکتے ہیں۔

1 - ہاں : اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بچہ جلد یا بدیر آن لائن دنیا کے ان گوشوں میں داخل ہو گا جہاں اس کی جان، مال، جسمانی و نفسیاتی صحت اور آپ کے گھر کی عزت کو خطرہ ہو سکتا ہے، یہ اس بات کی نشاندہی بھی کر رہا ہے کہ بچے اور والدین میں تعلق کا لیول کم ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

2 - نہیں : اگر بچہ تنہا آن اسکرین وقت نہیں گزار رہا تو وہ محفوظ ہے، والدین اور بچے کے درمیان تعلق کا لیول بہتر ہے کیونکہ پیرنٹنگ گائیڈنس اسی وقت بچے کے لیے موجود ہوتی ہے جب دونوں جانب تعلق بہتر بنانے کی چاہ ہو۔

3 - کبھی کبھی : ایسا ممکن ہے کہ کبھی کبھی والدین اس قدر مصروف ہوں کہ وہ آن لائن دنیا کی نگرانی نہ کر سکتے ہوں لیکن ایسا 'کبھی کبھی' ہی ہو رہا ہے تو رسک بہت کم ہے، لیکن یہ 'کبھی کبھی' سے 'اکثر' پر جا رہا ہے تو پھر رسک کی شرح زیادہ اور تعلق کا لیول کم ہونے کا آغاز ہے۔

دوسرا سوال: ٹی وی اور انٹرنیٹ استعمال کا شیڈول طے ہے؟

بچوں کی آن لائن دنیا میں والدین کی صرف موجودگی ہی ضروری نہیں بلکہ اس کا شیڈول طے ہونا بھی ضروری ہے، ہر وقت اسکرین کے سامنے ہونے کے نتائج بھی کم و بیش اتنے ہی سنگین ہوں گے جتنے والدین کی گائیڈنس نہ ہونے کے ہو سکتے ہیں۔

تو اس شیڈول کا جواب 'ہاں' میں ہونے کا مطلب ہے کہ تعلق کا لیول بہتر ہے اور 'ناں' کا مطلب ہے آپ (یعنی والدین) کی جگہ 'ٹی وی اور آن لائن دنیا' بچوں کے 'والدین' ہیں اور ان کا تعلق انہی سے بہتر ہوگا۔

تیسرا سوال: کیا آپ کو بچوں کے ای میل، سوشل میڈیا (موبائل ایپس) اور انٹرنیٹ پاسورڈز معلوم ہیں؟

بچوں سے تعلق بہتر بنائے رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی نگرانی میں تمام آن لائن اکاؤنٹس بنوائیں، چلوائیں اور پاس ورڈ تبدیل کروائیں تاکہ آپ 'بچوں کی آن لائن' ایکٹویٹی میں شامل رہیں۔

چوتھا سوال: کیا آپ ان کی ویب سرفنگ History پڑھتےہیں؟

جیسا کہ اوپر کی مثال میں بتایا گیا ہے کہ ذرا سی غفلت سے بچہ 'آن لائن دنیا کی ڈارک سائٹس 'میں داخل ہوگیا، لیکن اس کا پتہ ویب سرفنگ History سے ہی چل سکا۔

یہ بھی پڑھیں: آئیڈیل والدین کی 7 عادات

اس سوال کا جواب 'ہاں' میں رکھنا والدین کی ضرورت ہی نہیں مجبوری بھی ہے کہ یہی بچوں کو خطرات سے بچا سکتا ہے، اس کے لیے آپ کوئی شیڈول طے کر سکتے ہیں، مثلا ہفتے میں ایک دفعہ یا دن میں ایک دفعہ ویب ہسٹری کو دیکھنا۔

پانچواں سوال: بیٹا یا بیٹی کن موضوعات، ویب سائٹس اور نیٹ ورکس کو زیادہ استعمال کرتے ہیں؟

تعلق میٹر کی سوئی بہتری کی طرف لے جانے کا ایک ٹول بچوں کی آن لائن دنیا میں 'ترجیحات' کا پتا چلانا بھی ہے، مثلا وہ ویڈیوز دیکھتے ہیں یا پڑھتے زیادہ ہیں۔

سرچنگ کرتے ہیں یا سوشل نیٹ ورکس کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، کن موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کن موضوعات سے جلدی بیزار ہو جاتے ہیں؟ ان چیزوں کی معلومات سے آپ بچوں کی ممکنہ شخصیت اور مستقبل میں ان کے رجحان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

تعلق میٹر کی سوئی کو بہتری کی جانب رکھنے کی تھوڑی سی کوشش سے آپ خود کو اور اپنے بچوں کی حفاظت اور صحت کو نہ صرف یقینی بناسکتے ہیں بلکہ ایک محبت بھرا، خوشگوار اور حقیقی تعلق بھی آہستہ آہستہ بچوں کے ساتھ بنا سکتے ہیں۔


فرحان ظفر 10 سال سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔

اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کونسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔