ملائیشین خاتون سے جنسی تعلقات کے مطالبے پر پاکستانی کو سزا

23 ستمبر 2019
پاکستانی شخص کو سزا مکمل ہونے کے بعد بے دخل کردیا جائے گا —فوٹو: اے اسٹاک
پاکستانی شخص کو سزا مکمل ہونے کے بعد بے دخل کردیا جائے گا —فوٹو: اے اسٹاک

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی میں ایک پاکستانی شخص کو ملائیشیا کی شادی شدہ خاتون کو زبردستی جنسی تعلقات کے لیے مجبور کرنے کے جرم میں 6 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔

عرب ویب سائٹ ’دی نیشنل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 35 سالہ پاکستانی شخص اور 33 سالہ ملائیشین خاتون دبئی کے ایک ہی گھر میں پیرا میڈیکل اسٹاف کے طور پر کام کرتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی ڈسپینسر نے ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ خاتون نرس سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے بار بار مطالبہ کیا تھا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی شخص نے ابتدائی طور پر انہیں جنسی تعلقات استوار کرنے کی پیش کش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی شخص کو بتایا تھا کہ وہ شادی شدہ ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں، اور وہ ان سے تعلقات استوار نہیں کر سکتیں۔

ملائیشین خاتون نے عدالت کو بتایا کہ گزرتے وقت کے ساتھ پاکستانی شخص کا رویہ سخت ہوتا گیا اور وہ انہیں دھمکانے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے لگے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی شخص کی جانب سے بلیک میل کیے جانے اور جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر پریشان تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ اگر مالکان کو پتہ چلا تو وہ انہیں نوکری سے نکالنے سمیت پولیس کی ان کی شکایت کردیں گے۔

ملائیشین نرس کے مطابق انہوں نے ہمت کرکے اپنے مالک کی اہلیہ کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق بتایا، جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور ملزم کے خلاف کارروائی ہوئی۔

پاکستانی شخص نے عدالت میں ملائیشین خاتون کے ساتھ نامناسب عمل اختیار کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات مسترد کیے۔

عدالت نے پاکستانی ڈسپینسر کو 22 ستمبر کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی انہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک سے بے دخل کرنے کا حکم دے دیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں