کراچی: مسافر کو ذہنی اذیت دینے پر 'کریم' پر 50ہزار روپے جرمانہ

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2019

ای میل

کریم پاکستان، سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے سیکشن 13 کے تحت خراب سروس کی فراہمی کی مرتکب قرار پائی— فائل فوٹو: اے ایف پی
کریم پاکستان، سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے سیکشن 13 کے تحت خراب سروس کی فراہمی کی مرتکب قرار پائی— فائل فوٹو: اے ایف پی

کنزیومر کورٹ نے ناقص سروس اور صارفین کو ذہنی اذیت دینے پر آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کریم پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق کریم پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنید اقبال، سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے سیکشن 13 کے تحت صارفین کو ناقص سروس فراہمی کے مرتکب قرار پائے۔

مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ پر اوبر اور کریم کا داخلہ ممنوع!

جج جاوید علی کوریجو نے کریم کو 25ہزار روپے بطور جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ شکایت گزار کو ذہنی اذیت سے دوچار کرنے پر انہیں 15ہزار اور مقدمے کی قانونی فیس کی مد میں خرچ ہونے والے 10ہزار روپے بھی ادا کریں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ مدعا علیہ رقم کی ادائیگی ایک ماہ کے اندر کریں، بصورت دیگر ایک ماہ قید کے لیے تیار رہیں جس میں تین سال تک کی توسیع، یا 50ہزار جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایڈووکیٹ محمود احمد خان نے سفری سہولیات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے خلاف شکایت کی تھی جنہوں نے 26مئی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے سعدی ٹاؤن جانے کے لیے کریم کی سروس لی تھی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میں اپنی چند مہمان خواتین اور بچوں کے ہمراہ تھا جن کو کریم کے محسن احمد لودھی نامی ڈرائیور نے پک کیا اور میں نے ان سے کہا کہ وہ موٹر سائیکل پر میرے دوست کے ساتھ ساتھ چلیں لیکن لیکن ڈرائیور نے ان کی ایک نہ سنی اور غیرذمے دارانہ انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اوبر کمپنی، کریم کی خریدار؟

درخواست گزار نے مزید کہا کہ انہوں نے متعدد بار ڈرائیور سے موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ چلنے کے لیے کہا تو وہ برہم ہو گیا اور ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں تمام مسافروں کو بیچ سڑک پر اتار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈرائیور نے ان سے بدتمیزی کی اور نازیبا زبان بھی استعمال کی۔

ایڈووکیٹ محمود خان نے کہا کہ کریم میں آن لائن شکایت بھی درج کرائی تھی لیکن انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابل اطمینان جواب نہ ملا اور جب انہوں نے قانونی نوٹس بھیجا تو اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب کریم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی نمائندگی کرنے والے وکیل ایڈووکیٹ التمش فیصل عرب نے کہا کہ ان کے موکل ڈرائیورز کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ وہ آزاد تیسرے فریق کی حیثیت سے سروس فراہم کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اوبر بمقابلہ کریم : کونسی سروس زیادہ بہتر؟

انہوں نے کہا کہ ڈرائیورز اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں اور عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دے۔

البتہ مدعا علیہ کی قانونی ٹیم کی سربراہ علینہ زینب علوی نے تسلیم کیا کہ ہر سواری کا 25فیصد حصہ کمپنی کو ملتا ہے جبکہ بقیہ 75فیصد ڈرائیور کے پاس جاتا ہے لہٰذا کمپنی بھی سروس فراہم کرنے والوں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

کریم کے نمائندے نے بتایا کہ ڈرائیور کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی اور اندرونی سطح پر تحقیقات کے بعد کمپنی نے ڈرائیور کو خبردار کیا تھا کہ وہ مستقبل میں ایسی کوئی غلطی ہرگز نہ کریں۔