جولائی، اگست کے درمیان غیر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2019

ای میل

رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران حآصل ہونے والا غیر ملکی زرمبادلہ گزشتہ سال سے 100 فیصد زیادہ ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران حآصل ہونے والا غیر ملکی زرمبادلہ گزشتہ سال سے 100 فیصد زیادہ ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی حمایت سے پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ (جولائی، اگست) کے دوران ایک ارب 62 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کیا جو گزشتہ سال ان ہی مہینوں میں حاصل 82 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ سے 100 فیصد زیادہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی معاونت پر معاشی امور ڈویژن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے درمیان 258 ارب 60 کروڑ روپے (ایک ارب 62 کروڑ 20 لاکھڈالر) کا غیر ملکی زرمبادلہ ملک میں آیا جبکہ گزشتہ سال ان مہینوں میں 102 ارب 67 کروڑ روپے (82 کروڑ ڈالر) کا زرمبادلہ آیا تھا۔

حکومت کی جانب سے غیر ملکی زرمبادلہ کا پورے مالی سال 20-2019 کا ہدف 30 کھرب 32 ارب روپے (19 ارب ڈالر) رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پروگرام کی کامیابی کو 'فیصلہ کن' اقدامات سے منسلک کردیا

گزشتہ سال حکومت نے قرض کی مد میں سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 16 ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔

معاشی امور ڈویژن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ پاکستان نے91 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (146 ارب روپے) کثیر الجہتی قرض دینے والوں سے وصول کیے جن میں 32 کروڑ 15 لاکھ ڈالر (51 ارب 70 کروڑ روپے) کمرشل قرضوں اور 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (61 ارب روپے) باہمی قرض دہندگان سے لیے گئے۔

32 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کے کمرشل قرضوں میں سے سب سے زیادہ سٹی بینک نے 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر فراہم کیے جبکہ 12 کروڑ 33 لاکھ دبئی بینک اور 5 کروڑ ڈالر سوئس اے جی، یو بی ایل اور الائیڈ بینک نے فراہم کیے۔

اسی طرح 91 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی متعدد معاونتوں میں سے، ایشیائی ترقیاتی بینک نے سب سے زیادہ 52 کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، ورلڈ بینک گروپ نے 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور انٹرنیشنل فنڈ برائے زراعتی ترقی (آئی ایف آئی ڈی) نے 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔

باہمی قرض دہندگان میں چین سب سے سر فہرست رہا جس نے 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا قرض دیا جبکہ سعودی عرب نے 10 کروڑ 80 لاکھ، برطانیہ نے 8 کروڑ 10 لاکھ، جاپان نے ایک کروڑ 60 لاکھ، امریکا نے ایک کروڑ 20 لاکھ اور جرمنی نے 65 لاکھ ڈالر کا قرض دیا۔

لہٰذا کُل غیر ملکی زرمبادلہ ایک ارب 49 کروڑ ڈالر کے قرضوں اور 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے گرانٹس پر مشتمل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ بہتر غیر ملکی معاونت آنے کی اہم وجہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہے، جس نے 3برسوں میں 6 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

تاہم آئی ایم ایف پروگرام قرض دہندگان اداروں، باہمی قرض دہندگان، کیپیٹل مارکیٹوں اور کمرشل بینکوں کو اطمینان فراہم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ حکومت کے اقتصادی پروگرام نے حوصلہ افزا شروعات کی ہے تاہم ساتھ ہی مضبوط اور پائیدار ترقی کے لیے 'فیصلہ کن نفاذ' پر زور دیا تھا۔

تاہم ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ 'مقامی اور بین الاقوامی خطرات ابھی بھی باقی ہیں اور ساختی معاشی چیلنجز براقرار ہیں'، لہٰذا انتظامیہ کو اپنے اصلاحی ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔