ٹرمپ رے ٹرمپ، تیری کونسی کل سیدھی؟

24 ستمبر 2019

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی خواہش کا اظہار کردیا، لیکن اس کے لیے ایک بڑی شرط یہ عائد کردی کہ بھارت کو بھی اس کے لیے ہامی بھرنی ہوگی۔ اس شرط کے عائد کیے جانے سے وہ ایک بہت ہی سمجھدار فرد ثابت ہوئے، کیونکہ اگر وہ انکار کردیتے تو یہ تاثر جاتا جیسے انہوں نے بھارت کی بات مان لی، اس لیے خود ہاں کرنے کے بعد بھارتی شرط عائد کرکے دروازے بند ہی کردیے۔

ٹرمپ صاحب نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ وہ اب تک ایک کامیاب ثالث کار ثابت ہوئے ہیں اور جب جب انہیں کسی معاملے کو حل کرنے کا ہدف ملا انہوں نے بہت ہی کامیابی کے ساتھ اسے حاصل کیا۔

جب امریکی صدر یہ بات انتہائی اعتماد سے کہہ رہے تھے تو مجھے اچانک اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنے کے حوالے سے ان کا دعوٰی یاد آگیا۔

اور وہاں جو جو کارنامے انہوں نے انجام دیے ہیں ان کا خیال آتے ہی یہ دعا دل سے نکل رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق ٹرمپ ثالث کا کردار ادا نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ ایسا کیوں کہہ رہا ہوں، اس کا جواب جاننے کے لیے پہلے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر ان کے کردار پر روشنی ڈال لیتے ہیں۔

انہوں نے منتخب ہوتے ہی انتہائی یقین کے ساتھ یہ دعوٰی کیا تھا کہ وہ بہت ہی جلد اس اہم ترین مسئلے کو حل کرلیں گے، حالانکہ ان سے پہلے آنے والے صدور تمام تر کوشش کے باوجود بھی اس مقصد کے حصول میں ناکام رہے تھے۔

بہرحال، انہوں نے اس کام کو انجام دینے کے لیے اپنے داماد جورڈ کشنر کو یہ ذمہ داری دی اور جیسے جیسے وہ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے، ویسے ویسے خطرے کی گھنٹیان بجنا شروع ہوگئیں۔

لیکن اب چونکہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کا وعدہ کرچکے تھے اور اس حل کے لیے انہوں نے یہ کہیں ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ فریقین کی بات سنی جائے گی یا ان کے ساتھ انصاف ہوگا، لہٰذا انہوں نے اپنے طور پر چیزوں کو طے کرنا شروع کردیا۔

اس کام کے لیے انہوں نے صرف امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ شام کی گولن ہائٹس پر بھی اسرائیل کے قبضے کو جائز قرار دے دیا جو اس نے 1967ء میں قائم کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے تجزیہ کاروں نے امن کے حوالے سے ٹرمپ کے دعوؤں کو ناکام قرار دیا تھا۔

پھر گزشتہ 2 سالوں سے ہم ’ڈیل آف دی سنچری‘ کا ذکر بھی بہت سن رہے ہیں۔ یہ ڈیل آخر کیا ہے؟ اگرچہ یہ پوری طرح اب تک سامنے نہیں آسکی، لیکن جتنے نکات بھی واضح ہوئے ہیں ان کی روشنی میں یہ فلسطینیوں کو پیسوں کے عوض خریدنے کی ایک اسکیم ہے۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ امریکا نے فلسطین، اردن، شام اور لیبنان کے لیے 50 ارب ڈالر کا ترقیاتی پیکج مختص کیا ہے۔ سننے میں یہ تو بہت اچھا لگ رہا ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے فلسطینیوں کو بڑی قربانی دینی ہوگی، اور وہ قربانی یہ ہے کہ 50 لاکھ فلسطینی مہاجرین کو اپنی زمین سے لاتعلقی کرنے کا اعلان کرنا ہوگا جو ان سے 1948ء میں چھینی گئی تھی۔

اب ذرا تصور تو کیجیے کہ کل بطور ثالث اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ طور پر بھارت کا حصہ قرار دے دیتے ہیں اور کشمیریوں کو بھی یونہی اپنی زمین چھوڑنے کے لیے بڑی رقم بطور رشوت دینے کی آفر کرتے ہیں تو پاکستان کیا کرے گا؟

کیا ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ امریکا بطور ثالث انصاف ہی کرے گا؟ کیا بھارت میں امریکی مفادات کو ہم بھول گئے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ امریکا بھارت کو ناراض کرتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے وہاں کے عوام کی منشا کے مطابق فیصلہ کرے گا؟

اس لیے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ 70 سالوں سے جس واحد مقصد کے لیے ہم نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، وہ ٹرمپ جیسے موصوف کے حوالے کرنا کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ سے متعلق کچھ اور پہلوؤں پر بات کرلی جائے تو بہتر رہے گا۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ سیاست میں آنے سے پہلے ٹرمپ ایک کامیاب کاروباری فرد تھے اور کامیاب کاروباری بننے کے لیے یہ بات ناگزیر ہے کہ وہ اچھی اور فائدے مند ڈیلز کرنے کا ہنر جانتا ہو۔

گزشتہ کئی ماہ سے ٹرمپ جو کچھ بھارت اور پاکستان کے ساتھ کررہے ہیں وہ ان کے سابقہ تجربے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں اس رائے پر قائم ہوں کہ مسئلہ کشمیر سے ٹرمپ اور امریکا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اس ایشو کے ذریعے اپنی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑھائی میں رکھنا چاہتے ہیں۔

ہم نے گزشتہ 2 دنوں میں یہ دیکھ لیا کہ کس طرح ٹرمپ صاحب نے مودی کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کی واہ واہ کی اور پھر اگلے ہی دن پاکستانی وزیرِاعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کرکے خود کو خوش نصیب قرار دیا۔ یعنی جس ٹرمپ کے بارے میں لوگ کہا کرتے تھے کہ کیسا فرد امریکا پر حکمرانی کے لیے آگیا ہے، انہیں اب سمجھ آجانا چاہیے کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر کس طرح 2 مخالفین کو بھی بیک وقت خوش رکھ سکتا ہے۔

اصل میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت میں کامیاب کاروبار دکھائی دے رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کی مدد کے ذریعے افغانستان سے باعزت باہر نکلنے کا راستہ نظر آرہا ہے۔ پھر وہ ان دونوں کاموں کے ساتھ نوبل امن ایوارڈ کی صورت بونس بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اس لیے پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اپنی چالیں بہت اچھی طرح چل رہا ہے، وہ امریکا کو کاروبار دینے کے عوض بہت سارے فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر کرتا جارہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو بھی محروم نہیں رہنا چاہیے۔ جب تک افغان مسئلہ حل نہیں ہوتا، پاکستان اپنے بہت سارے مطالبات پورے کروا سکتا ہے، بس شرط ہے جارحانہ حکمت عملی کی۔

آخری اور اہم ترین بات یہ کہ مسئلہ کشمیر کو ہم امریکا سے جتنا زیادہ دُور رکھیں یہی بہتر ہے۔ کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ امریکا نے ہمارے حق میں کم ہی فیصلے کیے ہیں، اگر اس اہم ترین موقعے پر ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا تو ہم شکایت بھی نہیں کرسکیں گے کہ اس محاذ پر لانے کے لیے ہم نے ہی امریکا کو اکسایا تھا۔

لہٰذا کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کو متحرک کرنا ہوگا، ایسا نہیں کیا گیا تو کسی بڑے نقصان کا سامنا ہمیں ہوسکتا ہے۔