خبردار کرتا ہوں! اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلائے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا—فوٹو:اے ایف پی
وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا—فوٹو:اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چار اہم معاملات موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، منی لانڈرنگ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورت حال پر گفتگو کی۔

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم پر بھرپور انداز میں اٹھایا اور بھارت کے اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جناب صدر! میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا اور پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں آئے تھے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں'۔

'اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی نہیں) اور ہم لڑیں گے، اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں'۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ 'میں خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں ہے، یہ خوف ، پریشانی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں یہی بتانے کے لیے میں یہاں اقوام متحدہ میں ہوں کیونکہ صرف آپ ہیں جو کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جس کے لیے وہ مشکلات کا شکار ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہی موقع ہے عمل کا، پہلا قدم یہ ہے کہ بھارت کرفیو کو ہٹادے جو 52 روز سے نافذ ہے، یہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور خاص کر ان 13 ہزار نوجوانوں کو جنہیں اٹھایا گیا ہے اور ان کے والدین کو ان کی خبر نہیں ہے'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دلائے'۔

'صرف 8ہزار یہودی اس طرح محصور ہوں تو یہودی برادری کیا کرے گی'

'عمران خان نے کہا کہ بھارت کے پاس اور کوئی بیانیہ نہیں رہا، جیسے ہی وہ کرفیو ہٹائیں گے جو کچھ ہوگا، وہ اس کا الزام پاکستان پر لگائیں گے اور ایک اور پلواما کا خطرہ موجود ہے، بمبار دوبارہ آسکتے ہیں جس سے نیا چکر شروع ہوسکتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مودی کو سمجھ ہے کہ 8 کروڑ مسلمان بھارت میں اس وقت کیا سوچ رہے ہیں کیا وہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری 55 روز سے محصور ہیں، اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو اکسایا جائے گا، میں 180 ملین لوگوں کی بات کررہا ہوں، جب وہ شدت اختیار کریں گے تو پھر پاکستان پر الزام آئے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'جناب صدر! ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اس چیز کو دیکھ رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں یہ صرف کشمیر میں ہورہا ہے کیونکہ کشمیری مسلمان ہیں، کشمیری ہندووں کے ساتھ ایسا نہیں ہورہا ہے، وہ جانتے ہیں کہ مذہب کی وجہ سے یہ ہورہا ہے تو پھر وہ کیا سوچتے ہوں گے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'آپ کیا سمجھتے ہیں 80 لاکھ کو بھول جائے جب 8 ہزار یہودی اس طرح محصور ہوں تو یہودی برادری کیا سوچے گی، یورپی کیا سوچیں گے، اگر کسی برادری کے لوگ اس طرح محصور ہوں تو وہ کیا کریں گے کیا انہیں درد نہیں ہوگا'۔

اقوام متحدہ کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'پھر اس کے بعد کیا ہوگا میں بتاتا ہوں، ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی ہتھیار اٹھائے گا، میں مغربی فلموں میں دیکھ چکا ہوں جس میں ایک سمجھدار لڑکے کو انصاف نہیں ملتا ہے اور بندوق اٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے اور انصاف کی تلاش شروع کرتا ہے، نیویارک کی مشہور فلم ڈیتھ وش میں ڈاکو ایک لڑکے کی بیوی یا اہل خانہ کو مارتے ہیں اور اس کو انصاف نہیں ملتا اور وہ بندوق اٹھاتا ہے اور ڈاکووں کو مارنے نکلتا ہے پھر پورا سنیما تالیاں بجاتا ہے'۔

انہوں نے عالمی ادارے سے سوال کیا کہ اقوام متحدہ ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ دیکھے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کے لیے ٹیسٹ کیس قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'تو آپ کیا سمجھتے ہیں مسلمان اس وقت کیا سوچتے ہیں، اگر کوئی خون ریزی ہوئی تو مسلمان شدت پسند ہوں گے وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک روہنگیا مسلمان ہیں، میانمار سے تقریباً 10 لاکھ مسلمان باہر ہیں اور وہ شدت پسندی کا شکار ہیں، اس پر عالمی برادری کا کیا جواب تھا تو آپ کیا سجھتے ہیں کہ ایک ارب 30 کروڑ مسلمان کیا سوچتے ہوں گے'۔

وزیراعظم عمران خان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'میں خود کو مثال بناتا ہوں، میں کشمیر میں ہوں اور مجھے 55 روز سے محصور کیاگیا ہے، میں سنتا ہوں ریپ کے حوالے سے، بھارتی فوج گھروں میں گھس رہی ہے تو کیا میں اس ذلت میں رہنا چاہوں گا، کیا میں اس طرح رہنا چاہوں گا، میں ہتھیار اٹھاؤں گا، آپ لوگوں کو انتہاپسندی کے لیے مجبور کررہے ہیں، جب لوگ امید کھو دیتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر آپ انسانوں کے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں تو درحقیقت آپ لوگوں کو انتہا پسند بنارہے ہیں'۔

موسمیاتی تبدیلی

وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ مجھے خوشی ہے آج ہم یہاں مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلی سے اپنے خطاب کا آغاز کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5ہزار گلیشیئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ہماری جماعت خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو ہم نے ایک ارب درخخت لگائے لیکن ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ اور دنیا کے امیر ممالک کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

'منی لانڈرنگ ترقی پذیر ممالک کو تباہ کررہی ہے'

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران دوسرا نکتہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'جناب صدر! ہر سال اربوں روپے غریب ممالک سے امیر ممالک میں منتقل کیے جاتے ہیں، ہر سال اربوں ڈالرز حکمران طبقات کی چوری کے نذر ہوتے ہیں اور یہ سارا پیشہ مغربی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں پر ان رقوم سے مہنگی جائیدادیں خریدی جاتی ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جناب صدر! یہ عمل ترقی پذیر ممالک کو تباہ کررہا ہے، اس سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے اور غریب ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں اور اس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید برھتا جارہا ہے'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'منی لانڈرنگ اس وجہ سے ہورہی ہے کیونکہ غریب ممالک سے امیر ممالک میں ہونے والی منی لانڈرنگ کو ویسے نہیں سمجھا جاتا جیسے منشیات سے حاصل کیا گیا پیسہ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے والی مالی وسائل پر دنیا کی نظر ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'غریب ممالک کو جس طرح اپنے بااثر طبقات لوٹ رہے ہیں اس کو کوئی جرم تصور ہی نہیں کرتا، مجھے جب ایک سال پہلے حکومت ملی تو اس سے پہلے دس برسوں میں ہمارے ملک کے مجموعی قرضے میں چار گنا اضافہ ہوا جو قرضہ 60 برسوں میں لیا گیا تھا اس کا چار گنا صرف 4 سال میں لیا گیا'۔

عمران خان نے کہا کہ 'اس کے نتیجے میں ہم نے ایک سال میں جتنا ٹیکس جمع کیا تھا اس کا آدھا صرف قرضوں کی ادائیگی پر چلایا گیا، اگر یہ حالات ہوں تو ہم انسانوں یعنی اپنے 22 کروڑ لوگوں پر پیسہ کیسے خرچ کریں گے'۔

پاکستان کے قرضوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وجہ یہی تھی کہ ہمارے ملک کو حکمران طبقے نے بری طرح لوٹا تھا اور وہ بڑی آسانی سے یہ سارا پیسہ ملک سے باہر لے گئے، جب اس لوٹے ہوئے پیسے سے بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کی نشان دہی کی گئی تو ہمیں یہ پیسہ واپس لانے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے'۔

'لوٹا ہوا پیسہ واپس لا کر اپنے لوگوں پر خرچ کرسکتے ہیں'

انہوں نے کہا کہ 'ہم یہ پیسہ واپس لاکر اپنے لوگوں پر خرچ کرسکتے ہیں مگر اس سلسلے میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں، ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو ان مجرموں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم مہنگے وکلا کی خدمات حاصل کرکے ان پر کروڑوں ڈالر خرچ کریں، اس لیے ہمیں امیر ممالک کی مدد کی ضرورت ہے'۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'جناب صدر! یہ بہت اہم ہے، امیر ممالک کاں سیاسی بیانیہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی کو ایسا نہ کرنے دیں، غریب ممالک انسانی ترقی جس سے اقوام متحدہ ایس ڈی جی کا نام دیتی ہے پر پیسے کہاں سے خرچ کرے گی لہٰذا امیر ممالک اس حوالے سے کچھ کریں، وہ ایسے اقدامات کریں کہ کرپٹ حکمرانوں کو یہ ممکن ہی نہ رہے کہ اپنے ملک کا پیسہ چوری کرکے بیرون ممالک منتقل کریں اور وہاں پر مہنگی جائیدادیں خریں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ ٹیکس ہیونز کیوں بنائی گئیں، ان کی اجازت کیوں ہے، ان ٹیکس ہیونز کو قانونی حیثیت کیوں دی گئی، اب دنیا تبدیل ہورہی ہے، دنیا کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے لہٰذا اس سے ہم شدید خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں کہ غریب غریب تر ہوتے جائیں اور امیر امیر تر ہوتے جائیں'۔

عمران خان نے کہا کہ 'یہ میرا دوسرا نکتہ ہے، مجھے امید ہے کہ اقوام متحدہ اس معاملے میں قائدانہ کردار ادا کرے گی اور آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی مدد سے ترقی پذیر ممالک کو اس طرح لوٹنے کا واستہ روکے گی'۔

اسلامو فوبیا

اپنے خطاب کے تیسرے حصے میں انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں اسلامو فوبیا کو بہت تیزی سے پھیلایا گیا، اس سے تفریق پیدا ہوئی اور مسلمان خواتین کا حجاب تک پہننے کو مسئلہ بنا دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین حجاب پہن رہی ہیں لیکن چند ملکوں میں اس پر پابندی ہے اور انہیں اس سے مسئلہ ہے، چندملکوں میں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن پہننے کی نہیں، اس اسلاموفوبیا کا آغاز نائن الیون کے بعد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا سے دکھ ہوتا ہے، دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا درس نہیں دیتا، اسلام کے متعلق دنیا میں غلط تاثر پیدا کیا گیا، نائن الیون کے بعد کچھ مغربی رہنماؤں نے اسلام کو دہشت گردی و انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی، اس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو اس کی وجوہات پر توجہ دینی چاہیے، تمام معاشروں میں انتہا پسند موجود ہوتے ہیں لیکن کوئی مذہب انتہا پسندی کا پرچار نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے قبل زیادہ خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے جو ہندو تھے لیکن کسی نے ہندووں کو انتہا پسند نہیں کہا، اسی طرح جاپانی پائلٹوں نے بھی دوسری جنگ عظیم میں خودکش حملے کیے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب کا انتہا پسندی سے تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں انتہا پسند اور روشن خیال اسلام کی اصلاحات سے متفق نہیں کیونکہ اسلام ایک ہی ہے جوہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں اسلام کا اصل تشخص نہیں پیش کر سکے، مغرب میں مخصوص افراد جان بوجھ کر گستاخی کرتے ہیں لیکن اکثریت کو اس کا علم نہیں ، انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کتنی عزت و تکریم رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، جب کوئی توہین کرتا ہے تو ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے اور دل کو پہنچنے والا دکھ جسم کو پہنچنے والے دکھ سے بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے بہت دکھ ہوتا ہے، جس طرح ہولوکاسٹ کے معاملے پر یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک انسانی معاشرے میں دوسرے انسانوں کا احساس کرنا ہو گا مغرب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کیریئر کے دوران انگلینڈ میں وقت گزارا ہے اور میں جانتا ہوں کہ مغربی ممالک ان معاملات کو نہیں سمجھتے، مغرب میں مذہب کو بالکل الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی کیا حیثیت ہے، لہٰذا جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی تو اس کا ردعمل سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہ تصور کر لیا گیا کہ اسلام عدم برداشت مبنی مذہب ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور توہین کے لیے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں دنیا کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی جو مثالی ہے، اسلام کی پہلی فلاحی ریاست میں غریب، خواتین، بیواوں، معذوروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا اور تمام انسانوں کو برابری کا درجہ دیا گیا، غلاموں کے ساتھ گھر کے فرد جیسا سلوک کرنے کی تلقین کی گئی اور ایک غلام کو آزاد کرنے کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا۔

مدینے کی ریاست کے خدوخال سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی ضمانت دی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزا د ہے، قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور رنگ و نسل کی کوئی تفریق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے چوتھے خلیفہ راشد ایک یہودی سے عدالت میں مقدمہ ہار گئے تھے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں ہر کوئی جواب دہ تھا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک یہودی اقلیتی باشندے کو برابر شہری کا درجہ حاصل تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان معاشروں میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے منافی ہے۔

مقبوضہ کشمیر

خطاب کے چوتھے اور آخری حصے میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ میرا اہم مقصد ہے لیکن پہلے میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ میں جنگ کے خلاف ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت دیگر ممالک نے کی جن میں خاص کر امریکا شامل ہے اور ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکا افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور معاشی حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ باہمی مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار تھے اور میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں لیکن بھارت ہم پر الزام لگا رہا ہے، ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ان گروپس کے خلاف کارروائی کی اور اب وہاں اس طرح کے کوئی گروپس نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی تھی، یہ دہشت گرد گروپس کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پاکستان سے ان پر حملے ہو رہے ہیں لیکن میں نے کہا کہ آپ کی سرزمین سے ہمارے بلوچستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مبقوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور 5 اگست سے مقبوضہ کشمیرمیں 80 لاکھ لوگوں کو محصور کردیاگیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت میں آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نظریے کی حامی ہے اور مودی کی وزارت اعلیٰ کے نیچے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور مودی آر ایس ایس کے تاحیات رکن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹالیا جائے گا اور لوگ باہر آئیں گے جہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں اس صورت میں خون ریزی کا خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے حتیٰ کہ جو بھارت نواز کشمیری رہنما تھے انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا گیا ہے، کشمیریوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور پتہ نہیں انہیں کہا رکھا گیا ہے، آپ کے خیال میں کشمیری عوام کیا کریں گے؟ جب کرفیو ختم کیا جائے گا تو وہ باہر نکلیں گے اور ان پر قابض بھارتی فوجی گولیاں برسائیں گے، پہلے بھی ان کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرفیو اٹھاتے ہی کشمیر میں قتل عام شروع ہونے کا خدشہ ہے اور وہاں پھر سے ایک پلواما جیسا واقعہ رونما ہوگا اور اس کا الزام بھی پاکستان پر لگادیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع نے ہم پر الزام لگایا ہے کہ 500 دہشت گرد بھارت میں داخلے کے لیے تیار ہیں، پاکستان ایسا کیوں کریں گے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ اگر بھارت میں کچھ ہوا تو اس کے نتیجے میں کشمیری عوام پر ظلم بڑھے گا، کیا ہم کشمیر میں قابض 9 لاکھ فوجیوں کو یہ موقع فراہم کریں گے کہ وہ کشمیریوں کو مزید دبائیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان، بھارت چاہیں تو کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضی کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، ساتھ ہی اس اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل وہاں پہلے سے موجود لاکھوں کی تعداد میں فوج میں بھی اضافہ کردیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے وادی میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو تاحال جاری ہے جبکہ موبائل، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ہزاروں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو گرفتار کیا تھا جبکہ حریت قیادت سمیت مقبوضہ وادی کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی نظر بند و گرفتار کرلیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کے لیے تین اقدامات کرنے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے بھارت کشمیر سے غیر انسانی کرفیو ختم کرے جو کہ 55 دن سے جاری ہے، دوسرا یہ کہ تمام زیر حراست کشمیری نوجوانوں اور رہنماؤں کو رہا کرے اور تیسرا اور آخری اقدام یہ کہ عالمی برادری ہر صورت میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے۔

وزیراعظم کی مصروفیات

وزیراعظم عمران خان نے اپنے 7 روزہ دورہ امریکا میں صرف مسئلہ کشمیر پر ہی نہیں بلکہ بہت سے اہم معاملات جیسے افغان امن عمل، ایران اور امریکا تنازع، خلیج کی صورتحال، اسلاموفوبیا و دیگر اہم امور پر عالمی فورمز سے خطاب اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم امریکی قانون سازوں، اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں، میڈیا نمائندوں، عالمی سربراہان سمیت دیگر اہم شخصیات سے مل چکے ہیں جبکہ میڈیا کو بھی مختلف انٹرویوز دیے ہیں۔

اگر ان کے اب تک کے شیڈول پر نظرڈالیں تو 21 ستمبر کو وزیراعظم امریکا پہنچے تھے، جہاں انہوں نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی کاتھواری سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کرتے رہیں تاکہ وہ مودی حکومت کا اصل چہرہ دیکھ سکیں۔

بعد ازاں ہفتے کو عمران خان نے افغان امن عمل کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی تھی، اس کے علاوہ وزیراعظم نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو سے بھی تبادلہ خیال کیا تھا اور ان سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بات چیت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث بن گئے

اپنے دورے کے دوسرے روز وزیراعظم نے امریکی قانون سازوں، اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا نمائندگان سے ملاقاتیں کیں تھیں اور انہیں متنازع وادی کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کے نقصانات سے آگاہ کیا تھا۔

23 ستمبر کو وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی، یہ ملاقات وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد دوسری ملاقات تھی۔

اس ملاقات کے بعد دونوں شخصیات نے پریس کانفرنس بھی کی تھی اور امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے حل طلب ہے اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ثالثی کے لیے تیار ہوں۔

اسی روز وزیراعظم نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن سے بھی ملاقات کی تھی، دونوں رہنماﺅں نے باہمی، علاقائی اور دوطرفہ دلچسپی کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

عمران خان نے برطانوی وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ عالمی برادری انسانی حقوق اور انسانی صورتحال کی سنگینی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

اپنے دورے میں وزیراعظم نے امریکی تھنک ٹینک فار فارن ریلیشنز میں بھی گفتگو کی تھی اور نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس جنگ میں 70 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے اور معیشت کو 200 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے ہمسایہ ملک ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی تھی اور علاقائی صورتحال سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مسلم دنیا کے اہم سربراہان ترک صدر رجب طیب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے بھی ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں وزیراعظم نے ترک صدر کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو درپیش صورتحال کی جانب مبذول کروائی، ترک صدر نے اس موقع پر وزیراعظم کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔

ترک صدر نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ 80 لاکھ لوگ وہاں محصور ہیں۔

اپنے دورے میں وزیراعظم عمران خان سے چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے بھی ملاقات کی اور تنازع کشمیر سمیت پاکستان کے اہم مفادات کے تحفظ و فروغ کے لئے چین کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

23 اور 24 اگست کے درمیان ہی عمران خان نے نیویارک میں عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپس سے بھی ملاقات کی تھی اور پاکستان کے معاشی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا جبکہ سوئس کنفیڈریشن کے صدر اولی مارر سے بھی وزیراعظم نے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 50 روز سے جاری کرفیو اور دیگرپابندیاں فوری طورپر ختم کرنے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ وزیراعظم نے 25 ستمبر کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دنیا بھر میں ابھرتے ہوئے مسلمان مخالف جذبات اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

اسی روز رات کو وزیراعظم نے نیویارک میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ساتھ نیوز کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ 'بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے جہاں 9 لاکھ فوج تعینات ہے اور کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے، وزیراعظم

علاوہ ازیں وزیراعظم نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس سمیت وفد سے ملاقات کی تھی اور فاؤنڈیشن نے پاکستان کو آئندہ برس 'احساس پروگرام' پر عملدرآمد کے لیے 20 کروڑ ڈالر فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے وال اسٹریٹ جنرل کے ادارتی بورڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ سے بھی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔

اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران ترکی اور پاکستان کے تعاون سے منعقدہ ’نفرت انگیز گفتگو‘ کے خلاف کانفرنس بھی منعقد کی گئی تھی، جس میں وزیراعظم نے ہشت گردی اور خود کش حملوں کو مذہب سے جوڑنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ممالک توہین رسالت اور دہشت گردی سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں اور ہر چند سال بعد پیغمبراسلام ﷺ کے حوالے سے کوئی گستاخی کی جاتی ہے۔

مزید برآں پاکستان سمیت مسلم دنیا کے دو اہم ممالک ترکی اور ملائیشیا نے ایک ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

26 ستمبر کو عمران خان نے اپنے دورے میں اقوام متحدہ کے تحت ترقی کے لیے فنڈنگ اور نیویارک میں ایشیا سوسائٹی سے بھی خطاب کیا تھا۔