’آئی سی سی امپائرز پینل کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی خاتون بننا چاہتی ہوں‘

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

کھیل سے جڑی اپنے اسکول کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سینئر ترین خاتون امپائر حمیرہ فرح کہتی ہیں کہ ’بسنت کے دوران جب میں لاہور میں واقع اپنے گھر سے آسمان کی طرف دیکھتی تھی تو مجھے کئی ساری پتنگیں اُڑتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ وہ میرے لیے آسمان دیکھنا دشوار کردیتیں۔ مگر سب سے اچھی بات یہ تھی کہ آسمان پر تنی اس رنگین چادر میں ایک پتنگ میری بھی تھی۔‘

گزشتہ ماہ پی سی بی کی جانب سے PCB Panel Umpires and Match Referees کی سالانہ ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے ذریعے دیہی اور شہری مراکز سے تعلق رکھنے والی تقریباً 9 خواتین امپائر کو متعارف کروایا گیا۔

پاکستان کی خواتین کرکٹ کھلاڑیوں کے نام تو اب کافی مشہور ہوچکے ہیں لیکن ان خواتین امپائر کے بارے میں بہت ہی کم لوگوں نے سن رکھا ہوگا جو ملک میں کرکٹ کے میدان پر خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی مہم میں پیش پیش بھی ہیں۔

امپائر بننے تک حمیرہ نے جو سفر طے کیا، اس سے ایسی کئی باتیں اجاگر ہوتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو اس قسم کے پروفیشن اختیار کرنے میں کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

وہ اپنی کہانی کو جاری رکھتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’مجھے سائیکل چلانے کا بھی بہت شوق تھا۔ میں لوگوں سے سائیکل ادھار مانگنے کے لیے منتیں کیا کرتی اور سائیکل مل جانے پر پورے شہر میں دوڑاتی پھرتی۔‘

پتنگ بازی اور سائیکلنگ کا شوق ان کے اور ان کی والدہ کے درمیان اکثر مسائل کا سبب بنا رہا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’والدہ کو جب روایات سے ہٹ کر میرے کیے گئے کاموں کا پتا چلتا تو وہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ یہ حرکتیں لڑکوں کو زیب دیتی ہیں، لڑکیوں کو نہیں۔ وہ مجھے اپنی تعلیم پر توجہ دینے اور گھر کے کاموں میں دلچسپی لینے کے لیے زور ڈالا کرتیں۔‘

امپائر حمیرہ فرح
امپائر حمیرہ فرح

مگر معاملات اس وقت بد سے بدتر ہوگئے جب حمیرہ فرح نے کالج میں داخلہ لیا اور وہاں ہاکی، کرکٹ، باسکٹ بال، والی بال، ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن جیسے کھیلوں کا منظم بندوبست پایا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ان تمام کھیلوں کے مقابلے میں ہاکی وہ کھیل تھا جس میں مواقع بھی زیادہ تھے اور کوچنگ سے متعلق سہولیات بھی۔‘ حمیرہ بتاتی ہیں کہ وہ کھیل کی سرگرمیوں میں اس قدر مشغول رہا کرتیں کہ شاذو نادر ہی کمرہ جماعت کا رخ کیا جاتا۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے لاہور کے علاقے باغبان پورہ میں واقع گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کیا، اور اس کالج کی اپنی ہاکی ٹیم ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں حیدرآباد میں ایک ٹورنامنٹ کا انعقاد ہو رہا تھا جس میں مجھ سمیت میرے کالج کی کئی لڑکیوں کو لاہور بورڈ کی وومین ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے لیے چُنا گیا تھا۔ تاہم وہاں جانے کے لیے ہمیں اپنے گھروالوں کی اجازت مطلوب تھی۔ میری کسی بھی دوست کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ملی البتہ میرے بے حد اصرار پر میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک ہی شرط پر تمہیں وہاں جانے کی اجازت دوں گی وہ یہ کہ تمہیں انٹر کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ مجھے گھر پر بٹھا دیں گی۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ چونکہ میں پڑھائی میں تھوڑی سی بھی دلچسپی نہیں رکھتی اس لیے میرا کالج جانا ہی فضول ہے لہٰذا وہ مجھے گھر پر بٹھا کر کھانا پکانا سیکھانا چاہتی تھیں۔ میں نے فوری طور پر ’ہامی بھری‘ اور کھیل میں شرکت کے لیے حیدرآباد کی راہ لی۔

حیدرآباد میں مجھے بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور جب میں لاہور واپس لوٹی تو امتحانات میں صرف ایک ماہ ہی رہ گیا تھا۔ میں نے خود کو پورا پورا دن کمرے میں بند کیے رکھا اور امتحانات میں کامیابی کے لیے خوب رٹا لگاتی، کیونکہ میں فیل ہوکر گھر پر ہرگز نہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ میں کھیلوں سے دُور نہیں رہنا چاہتی تھی اور کالج ہی وہ ذریعہ تھا جس کے ذریعے میں اپنا یہ شوق پورا کرپاتی تھی۔ میں نے ہر مضمون کی تیاری کے لیے وقت تقسیم کیا اور خوب پڑھائی کی۔ جب نتائج آئے تو اگرچہ میں نے اچھے نمبر حاصل نہیں کیے، مگر اچھی بات یہ تھی کہ میں پاس قرار پائی تھی۔ دوسری طرف میری وہ سہیلیاں جو حیدرآباد نہیں جا پائی تھیں اور جن کے پاس پڑھائی کے لیے وقت بھی زیادہ میسر تھا انہیں پاس ہونے کے لیے سپلیمنٹری امتحانات میں بیٹھنا پڑا‘، اپنی یہ یادیں بتاتے ہوئے وہ ہنس پڑتی ہیں۔

اپنے کالج اور لاہور بورڈ کی ٹیموں کے لیے نمائندگی کرتے ہوئے وہ نظروں میں آئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’1985ء میں مجھے پاکستان ریلوے کی وومین ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا جس کے عوض 300 روپے فی ماہ معاوضہ مقرر کیا گیا۔ ان دنوں کالج کے طالب علم کے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی۔ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان پیسوں کو کس طرح خرچ کیا جائے۔‘

’میں ہاکی کے ساتھ ساتھ کالج میں کرکٹ بھی کھیلا کرتی تھی، لیکن چونکہ اس وقت تک وومین کرکٹ اتنی مقبول نہیں تھی جتنی کہ آج ہے اس لیے میں ہاکی کے کھیل میں ہی خود کو ثابت کرسکی۔‘ قومی سطح پر کھیلنے سے وومین ٹیم میں شمولیت کی راہ ہموار ہوئی۔ کبھی کبھار وہ بطور فُل بیک میدان میں اترتی تھیں مگر اکثر و بیشتر انہیں گول کیپر کی ذمہ داری دی جاتی۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’ہاکی کے میدان میں گول کیپر ایک ایسا کھلاڑی ہوتا جو اس گیند کا سامنا کرتا ہے جسے 10 کھلاڑی روکنے میں ناکام رہے ہوتے ہیں لہٰذا تمام تر دباؤ گولی کے سر پر آجاتا ہے اور اگر گولی ناکام ہوگئی تو پھر وہ تمام تر تنقید کا محور بن جاتی ہے۔‘

حمیرہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ضیاالحق کے دور میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی جس دوران وومین ٹیم کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئی، البتہ انہیں ملائشین وومین ٹیم کا دورہءِ پاکستان یاد ہے۔

گریجویشن کے بعد انہیں کل وقتی طور پر ریلوے سے جڑنے کی آفر پیش کی گئی تاہم انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسپورٹس سائنس میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’پہلے میں نے سوچا کہ مجھے ایم اے انگلش کرنا چاہیے لیکن بعدازاں کالج کے کوچ اور بڑے بھائی نے مجھے اپنی صلاحیتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسپورٹس سائنس کے شعبے میں داخلہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ میرے بڑے بھائی میرے لیے والد کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ اخبارات میں چھپی ہوئی میری تصاویر دیکھ کر بہت خوش ہوا کرتے تھے، پریکٹس کے سلسلے میں مجھے دیر تک گھر سے باہر رہنا پڑتا مگر انہوں نے اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بعض اوقات تو میں عشاء کے وقت گھر لوٹ رہی ہوتی لیکن وہ کہتے کہ کوئی بات نہیں ایک دن یہ محنت رنگ لائے گی اور ایسا ہی ہوا! میں نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ پوزیشن لے کر ان کا سر مزید فخر سے بلند کردیا۔‘ حمیرہ مزید بتاتی ہیں کہ وہ اس ڈگری کے علاوہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کی سند بھی حاصل کرچکی ہیں۔

’یونیورسٹی کے بعد باغبان پورہ میں واقع میرے پرانے کالج نے اسپورٹس ٹیچر کی ملازمت کی پیش کش کی جو میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم بات نہیں تھی۔ لیکن یہ پیش کش میرے نتائج آنے سے پہلے ہوئی تھی۔ بعدازاں میری نظر اخبار میں چھپے ایک اشتہار پر پڑی جس میں لکھا تھا کہ گیریزن کالج، جو اس وقت لاہور گیریزن یونیورسٹی بن چکی ہے، میں ڈائریکٹر اسپورٹس کی جگہ خالی ہے۔ میں نے وہاں درخواست بھیجی اور مجھے ملازمت پر رکھ لیا گیا۔

حمیرہ فرح 28 برسوں سے اسی ادارے سے منسلک ہیں اور یہیں سے اسپورٹس سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کوچنگ کورس کرنے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’چاہے بیڈمنٹن ہو، ایتھلیٹکس، والی بال، ہاکی، ٹیبل ٹینس یا پھر باسٹک بال، شاید ہی میں نے کسی کھیل کا کوچنگ کورس نہ کیا ہو۔ ہاں مگر چونکہ ان دنوں وومین کرکٹ کا زیادہ رجحان پیدا نہیں ہوا تھا اس لیے کرکٹ کورس کا موقع بھی میسر نہیں آیا۔‘

تو پھر وہ پی سی بی تک کیسے پہنچیں؟

وہ بتاتی ہیں کہ ’بات دراصل یہ ہے کہ جب پی سی بی نے 2005ء میں اپنے وومین ونگ کے قیام کو عملی شکل دی تب شمسا ہاشمی اس کی سربراہ مقرر کی گئیں۔ شمسا ہاشمی پاکستان ریلوے کی ٹیم میں میرے ساتھ ہاکی کھیلا کرتی تھیں اور انہوں نے بھی اسپورٹس سائنسز میں ماسٹرز کر رکھا تھا۔ اگرچہ یونیورسٹی میں وہ میری سینئر تھیں، مگر اس کے باوجود وہ میری دوست تھیں۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم میں وومین ٹیم کے ٹرائلز ہورہے ہیں تو میں اپنی طالبات کو ٹرائلز کے لیے وہاں لے آؤں۔ جس وقت مجھے آنے کے لیے کہا گیا تو وہاں اس وقت کے پی سی بی چیئرمین شہریار خان بھی مدعو تھے۔‘

’جب میں وہاں گئی تو مجھے وومین ونگ کے کام کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی اور مجھے ان کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں کام کرنے کی پیش کش کی گئی۔ یہ فروری یا مارچ 2005ء کی بات ہے۔ اسی سال اکتوبر یا نومبر تک شمسا نے مجھے پی سی بی کے زیرِ اہتمام ہونے والے کوچنگ اور امپائرنگ کورسز کے بارے میں بتایا۔ مجھے کرکٹ میں دلچسپی تھی اور میں بین الکالج اور بین الجامعات مقابلوں میں بھی حصہ لے چکی تھی جبکہ چند کلب میچ بھی کھیلے ہوئے تھے۔ سو میں نے کورسز کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

امپائر خضر حیات ان دنوں پی سی بی وومین ونگ کے امپائرز ڈیپارٹمنٹ کے منیجر تھے۔ تقریباً 7 خواتین اور 30 سے 35 مرد امپائرز نے امتحان میں بیٹھنے سے قبل 5 دنوں پر مشتمل کورس میں شرکت کی۔

’صرف 4 خواتین امتحان پاس کرسکیں، ان میں سے ایک کراچی کی نبیلا نامی لڑکی تھی، دوسری لڑکی کا تعلق لاہور سے تھا، جس کا نام مہوش تھا، تیسری شمسا اور چوتھی میں تھی۔ تاہم ان چاروں میں سے صرف ایک ہی خاتون نے پی سی بی پینل 1 اور 2 کے امپائرنگ کورسز پاس کیے اور امپائرنگ کے شعبے میں اپنی جگہ بنا پائی۔‘ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنی کامیابی کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔

پورا پورا دن میدان میں کھڑے رہنا اور ہر ایک پھینکی جانے والی گیند پر فیصلہ لینے کا کام جتنا آسان نظر آتا ہے اتنا ہے نہیں۔ امپائر پر کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز جیسے کوچز و منیجر اور میچ ریفری کا دباؤ رہتا ہے۔ آپ کو ہر گیند پر مکمل فوکس رکھنا ہوتا ہے چاہے گیند جب پھینکی جا رہی ہو یا کھلاڑی کے ہاتھوں میں ہو۔‘

150 سے زائد میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینے کے بعد امپائر حمیرہ فرح اب بین الاقوامی سطح پر امپائرنگ کرنے کی خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پی سی بی کی کسی ایک خاتون امپائر نے بھی بین الاقوامی سطح پر امپائرنگ نہیں کی ہے۔ میں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے اور میرا خواب ہے کہ میں آئی سی سی امپائرز کے پینل کا حصہ بنوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں اس منزل کو بھی جلد سے جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔‘


یہ مضمون 29 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔