چاند میں گم ہونے والا بھارتی خلائی مشن اس تصویر میں کہیں موجود ہے

30 ستمبر 2019

ای میل

اوپر تصویر دیکھیں بظاہر یہ چاند کی سطح پر بنجر گڑھوں کا منظر ہے مگر اس تصویر میں کہیں دھاتی اور الیکٹرونکس کے ٹکڑے موجود ہیں جو کہ بھارت کے قطب جنوبی میں پہنچنے والے پہلے ملک بننے کی خواہش میں ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔

یہ تصاویر ناسا کی چاند کے گرد گردش کرنے والی خلائی گاڑی ایل آر او نے 17 ستمبر کو اس وقت لیں جب وہ چندریان 2 مشن کے طے کردہ لینڈنگ مقام کے اوپر سے گزری۔

چندریان ٹو کا لینڈر جسے وکرم کا نام دیا گیا تھا، وہ 6 ستمبر کو آخری لمحات میں خاموش ہوگیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے ناسا کی خلائی گاڑی نے اس مقام سے گزرتے ہوئے وکرم لینڈر کو تلاش کرنے کے لیے تصاویر لیں۔

اس لینڈر کو چاند کے 2 گڑھوں کے درمیان اترنا تھا اور خاموش ہونے سے پہلے جو اس نے آخری ٹریکنگ ڈیٹا بھیجا تھا، اس سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ راستے سے ہٹ چکا ہے اور ناسا کے بیان کے مطابق اس کی لوکیشن تاحال واضح نہیں۔

اب وہ اس پورے مقام میں کہیں موجود ہے— فوٹو بشکریہ ناسا
اب وہ اس پورے مقام میں کہیں موجود ہے— فوٹو بشکریہ ناسا

ایل آر او چاند کے اس خطے سے ابھی تک صرف ایک بار گزری ہے اور اس وقت جب سورج غروب ہورہا تھا جس کے نتیجے میں تاریک سائے پھیل رہے تھے، جس کے باعث وہ وکرم کی درست لوکشن کو جاننے میں ناکام رہی۔

مشن کو اس نیلے دائرے کے اندر لینڈ ہونا تھا — فوٹو بشکریہ ناسا
مشن کو اس نیلے دائرے کے اندر لینڈ ہونا تھا — فوٹو بشکریہ ناسا

اب ناسا کا مشن اگلے ماہ پھر اس لینڈنگ مقام کے اوپر پرواز کرے گا اور اگر حالات موزوں ہوئے تو اس کو تلاش کرنے میں بھی کامیابی مل سکتی ہے۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) جب سے لینڈر سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ چندریان ٹو کے آربٹر سےس لینڈر کے مقام کو تلاش کرسکتی ہے مگر اس حوالے سے کسی قسم کی تصاویر تاحال شائع نہیں کی گئیں۔

مشن میں کب کیا ہوا

بھارت کی جانب سے 22 جولائی کو بھجوایا گیا مشن 20 اگست کو چاند کی مدار میں پہنچ گیا تھا تاہم یہ مشن اپنی آخری منزل سے محض سوا 2 کلو میٹر کی دوری پر ناکامی سے دوچار ہو گیا تھا۔

بھارت کا خلائی مشن 22 دن تک زمین کے مدار میں تھا اور 14 اگست کو اس مشن نے چاند کے مدار کی جانب سفر شروع کیا تھا اور 20 اگست تک ’چندریان ٹو‘ چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تھا۔

ریسرچ ادارے کی جانب سے چاند کی سطح پر پہنچنے کی براہِ راست نشریات جاری تھیں، جس میں دیکھا گیا تھا کہ جب کنٹرول اسٹیشن کو وکرم کی جانب سے سگنلز موصول ہونا رک گئے تو سائنسدان یک دم پریشان نظر آئے اور پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

لینڈر وکرم کا مطلوبہ منزل تک پہنچنے سے محض 2 اعشایہ ایک کلو میٹر کے فاصلے اور مقررہ وقت سے 45 منٹ قبل بھارتی خلائی ادارے سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔

لینڈر وکرم کے اپنی منزل تک نہ پہنچنے اور اس کا رابطہ بھارتی خلائی ادارے سے نہ ہوپانے پر خلائی ادارے کے سربراہ کے سیون جذباتی ہوکر رو پڑے تھے۔

تاہم 9 ستمبر کو اس خلائی مشن کی باقیات کی چاند کی سطح پر موجودگی کا انکشاف ہوا اور اس سے رابطہ قائم کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے چیئرمین کے سیوان کے حوالے سے بتایا کہ کیمروں سے مشن کے آربیٹر کی چاند کی سطح پر موجودگی کا پتہ چلا ہے اور یہ ایک مشکل لینڈنگ رہی ہو گی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس خلائی مشن کو چاند کے ایک دن کی مناسبت سے تیار کیا گیا تھا جو زمین کے 14دن کے برابر بنتا ہے اور صحیح طریقوں پر عملدرآمد کی بدولت یہ اب بھی توانائی پیدا کرنے اور سولر پینل کی مدد سے بیٹری چارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اس مشن سے منسلک ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ایک اور آفیشل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشن کے چاروں ٹانگوں پر نہ اترنے کے سبب بیٹری کو چارج کرنے کے عمل کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا اور دوبارہ رابطہ بھی ممکن نہیں۔

اگر بھارت کا خلائی مشن کا یہ تجربہ کامیاب رہتا تو وہ دنیا کا چوتھا ملک ہوتا جس کا خلائی مشن چاند پر اترا ہو جبکہ روبوٹک روور کی مدد سے آپریٹ کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک ہوتا۔

جولائی میں مشن روانہ کرتے ہوئے بھارت کو امید تھی کہ وہ امریکا، روس اور چین کے بعد کامیابی سے چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور اس کے قطب جنوب تک پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

چندریان 2 نامی خلائی مشن پر بھارت نے 140ملین ڈالر خرچ کیے تھے لیکن اس کے خلائی جہاز کا چاند پر اترنے سے پہلے ہی رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔