پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار، ایل پی جی 11 فیصد مہنگی

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2019

ای میل

ایل پی جی کی قیمت 12 روپے 53 پیسے فی کلو اضافے کے بعد  125 روپے 5 پیسے ہوگئی — فائل فوٹو: ڈان
ایل پی جی کی قیمت 12 روپے 53 پیسے فی کلو اضافے کے بعد 125 روپے 5 پیسے ہوگئی — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: ریونیو کے حصول میں بڑے پیمانے پر کمی کے باعث حکومت نے اکتوبر کے مہینے کے لیے لیکیوفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 11 فیصد سے زائد اضافہ کردیا جبکہ دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود 4 ارب 20 کروڑ روپے ریونیو کے حصول کے لیے دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی رد و بدل نہیں کیا۔

خیال رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 2.6 فیصد کمی کی تجویز دی تھی۔

تاہم ریونیو کے حصول کے ہدف میں 100 ارب روپے کی کمی کے باعث اضافی ریونیو کی آمدن کے لیے حکومت نے قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کی کمی کے اثرات صارفین تک اس بنیاد پر نہیں پہنچائے کہ آئندہ ماہ قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2.6 فیصد تک کمی کی تجویز

اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نومبر 2019 میں قیمتوں میں ہونے والے متوقع اضافے میں توازن قائم کیا جاسکے‘۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت اکتوبر کے مہینے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر 2 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرے گی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی نہ کرنے کے باعث ایک ارب 70 کروڑ کا مزید ریونیو حاصل ہوگا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے وقت حکومت نے بارہا کہا تھا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آئی تو اس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔

تاہم وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق ’اکتوبر کے مہینے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ ستمبر 2019 کے وسط سے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان رہا ہے اور امید ہے کہ نومبر 2019 میں قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 26 فیصد کمی

اگست کے اختتام تک مشرق وسطیٰ میں خام تیل کی قیمت 63 بیرل فی ڈالر سے کم ہوکر 58 بیرل فی ڈالر ہوگئی تھی جس کے باعث اوگرا نے اکتوبر کے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2.6 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا تھا۔

چنانچہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے جولائی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ادا کی جانے والی رقم کی بنیاد پر اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 23 روپے کی کمی، پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 55 پیسے فی لیٹر کمی اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 41 پیسے فی لیٹر کمی کی تجویز دی تھی۔

اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 1.2 فیصد اضافہ کرکے اسے 99 روپے 57 پیسے سے بڑھا کر 100 روپے 76 پیسے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے آمدن میں اضافہ کرنے کے لیے پہلے ہی تمام پیٹرولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں 17 فیصد اضافہ کردیا تھا۔

مذکورہ جی ایس ٹی کی بنیاد پر حکومت نے حالیہ مہینوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی 8 روپے سے بڑھا کر 18 روپے کردی تھی۔

دوسری جانب پیٹرول پر عائد لیوی 10 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 15 روپے فی لیٹر کردی تھی جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی پیٹرولیم لیوی بغیر کسی تبدیلی کے بالترتیب 6 روپے اور 3 روپے ہی رہی۔

گزشتہ کئی ماہ سے ایف بی آر کو ریونیو کی مد میں بڑے شاٹ فال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے حکومت پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ کرچکی ہے تاکہ عارضی طور پر اس پر قابو پایا جاسکے۔

خیال رہے کہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل وہ 2 اہم ترین مصنوعات ہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث حکومت کو زیادہ تر ریونیو فراہم کرتی ہیں۔

ملک میں ماہانہ بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی کھپت 8 لاکھ ٹن جبکہ پیٹرول کی کھپت 7 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی فروخت 10 ہزار ٹن ماہانہ سے بھی کم ہے۔

علاوہ ازیں اوگرا نے اکتوبر کے لیے 11.14 فیصد اضافے کے بعد ایل پی جی کی قیمت 12 روپے 53 پیسے فی کلو اضافے کے بعد 112 روپے 50 پیسے سے 125 روپے 5 پیسے تک مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ایل پی جی کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد ڈومیسٹک سلنڈر کی قیمت 147 روپے 87 پیسے اضافے کے بعد ایک ہزار 475 روپے 63 پیسے ہوگئی۔

اوگرا نے کہا کہ ایل پی جی (پروپین 40 فیصد اور بیوٹین 60 فیصد) کی پیداواری قیمت 56 ہزار 5 سو 4 روپے 52 پیسے سے بڑھ کر 67 ہزار 2 سو 14 روپے 83 پیسے فی ٹن ہوگئی، جس میں 85 روپے فی ٹن کی ایکسائز ڈیوٹی بھی شامل ہے۔