غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2019

ای میل

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے خلاف ان کے منحرف رکن نے درخواست دائر کی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی
پی ٹی آئی فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے خلاف ان کے منحرف رکن نے درخواست دائر کی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں راز داری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر ملکی اکاؤنٹس کو ای سی پی میں جمع سالانہ آڈٹ رپورٹس سے چھپایا گیا۔

اس حوالے سے آج (بروز پیر) ہونے والی سماعت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کمیٹی میں 4 نئی متفرق درخواستیں دائر کی تھی، یہ 'صرف کام کا بوجھ بڑھانا چاہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے یہ درخواستیں انہیں ارسال کیں تاکہ اس پر فیصلہ کیا جاسکے۔

دوران سماعت چاروں درخواستوں میں پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ معلومات کے لیک ہونے کو روکنا چاہیے، اس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ میڈیا پر معلومات شیئر ہونے سے کمیٹی کا کیا تعلق ہے۔

اس پر پی ٹی آئی کے فنانس سیکریٹری سردار اظہر طارق خان کے وکیل ثقلین حیدر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی معلومات لیک کی گئیں اور ان کی رازداری کو برقرار نہیں رکھا گیا، ساتھ ہی انہوں نے درخواست گزار پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سے متعلق غلط خبریں سیاسی جماعت کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جارہی ہیں۔

جس پر چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ ساڑھے 5 سال میں ایسا کیا ہوا کہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر پر اب بدنیتی کا الزام لگایا جارہا، جس پر اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسین کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسکروٹنی کمیٹی کو ان 23 اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا تھا جن میں پارٹی فنڈنگ موصول ہوئی۔

وکیل کے مطابق پارٹی کے اندر موجود لوگوں نے ٹیلی ویژن رپورٹ کے لیے وہ معلومات لیک کی گئی، جن کا ذکر کیا گیا، ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا گیا کہ پارٹی اس لیک معلومات کو بہانے کے طور پر استعمال کر رہی اور اس (کیس سے) بھاگ رہی ہے۔

بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں بینچ نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے 10 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

غیر ملکی فنڈنگ کیس

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سابق رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔