گھر کا اچھا یا برا ماحول بتانے والا 'تعلق میٹر' - چوتھی قسط

03 اکتوبر 2019

ای میل

گھر کا ماحول انسانی ہارمونز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے—فوٹو: آئی اسٹاک
گھر کا ماحول انسانی ہارمونز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے—فوٹو: آئی اسٹاک

اس سلسلہ وار مضمون کی پہلی قسط میں ہم نے آپ کو والدین کو بچوں کی شخصیت سے واقفیت پر زور اور اس کے لیے چند بنیادی ٹولز بتائے تھے۔

دوسری قسط میں بچے کی آن لائن دنیا کو جاننے کی اہمیت اور چند بنیادی ٹولز کا ذکر کیا گیا تھا، تیسری قسط میں بچوں کی کمپنی یا دوستوں سے واقفیت اور اس کے لیے چند اہم ٹولز کا تذکرہ کیا گیا اور اب چوتھی قسط میں والدین کے لیے بچوں کے حوالے سے گھر کے ماحول سے واقفیت اور اسے بہتر بنانے کے چند ٹولز کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پہلی قسط پڑھیں

دوسری قسط پڑھیں

تیسری قسط پڑھیں

پچھلی قسطوں کی طرح اس قسط کا آغاز بھی اہم ایک چھوٹی سی کہانی سے کریں گے، تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔

بچپن سے بڑی عمر میں داخل ہونے والے ایک بچے نے والدین کے نام ایک خط میں لکھا کہ ’مجھے اپنی امی سے نفرت ہے‘

دراصل یہ خط بچے کی بغاوت کا عروج تھا جس نے گھر کے قدرے تنگ ماحول سے جنم لیا تھا۔

اس بغاوت نے کیسے جنم لیا، اس کے لیے ہمیں اس بچے کے گھر کے حالات کا جائزہ لینا ہوگا اور پھر واپس خط والی بات پر آنا ہوگا۔

دراصل مذکورہ بچے کی والدہ مسلسل اس کے والد سے مخاصمت کی فضا بنا کر رکھتی ہیں، کبھی آمدنی پر تو کبھی شوہر کی مصروفیات پر، بچے کے والد گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے صبح ایک ریسرچ کے ادارے میں کام کرتے ہیں اور شام میں ایک اخبار میں، یوں والد کا سارا وقت گھر سے باہر اور والدہ کا گھر میں مسائل بڑھانے اور اِدھر ادھر کی باتوں میں صرف ہوتا ہے۔

اس دوران گھریلو جھگڑوں، گھر کے بکھرے ماحول اور خوف و غصے کی فضا نے بچوں کے اندر ایک بے چینی سے بھر دی، مسلسل خراب ماحول سے یہ بے چینی بچوں کی ذہنی پریشانی اور رفتہ رفتہ غصے میں تبدیل ہوتی گئی اور جوں جوں اس گھر کا ایک بچہ سمجھ دار ہوتا گیا، اسکول کی کلاسز میں آگے بڑھتا گیا اس کا یہ غصہ جارحانہ پن میں ڈھلتا گیا وہ اسکول میں پڑھنا چاہتا تھا، والدہ نے زبردستی مدرسے میں ڈال دیا، پھر جیسے جیسے دن گزرتے گئے بچے کا والدین سے زبانی جارحانہ انداز عملی بغاوت میں ڈھل گیا۔

اور اس بغاوت کا نقطہ عروج وہ خط تھا جو بچے نے اپنے والدین اور خصوصاً والدہ کے نام لکھا تھا، خط کیا تھا دراصل بچوں کو اور گھر کو نظر انداز کرنے، گھر کا بہتر ماحول نہ دینے اور گھر کو میدان جنگ بنا کر رکھنے کی ایک طرح کی چارج شیٹ تھی۔

والدین اور بچوں کے تعلق میں ایک بہت اہم عنصر گھر کا ماحول، گھر یلو ماحول سے واقفیت اور گھر کو پر سکون رکھنا ہے، تعلق میٹر میں والدین و بچوں کا تعلق ہمیشہ دوستانہ، گرم جوش اور محبت والی سوئی پر نظر آئے گا، بشرط یہ کہ گھر کا ماحول بچوں کو پر سکون اور مناسب حد تک آزادی فراہم کرنے والا ہو۔

اربن چائلڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق منفی یا پریشان کر دینے والا گھریلو ماحول بچوں میں نہ صرف شارٹ ٹرم مسائل (جیسے کمزور لسانی مہارت (Language Development) رویوں کی خرابی، جارحانہ پن، اینگزائٹی اور ڈپریشن کا باعث ہوتے ہیں) بلکہ لانگ ٹرم میں تعلیمی مہارت میں کمی اور کمزور معاشی صلاحیت جیسے مسائل کا با عث بھی بنتے ہیں۔

تعلق میٹر کی اس کٹیگری میں والدین کو چند بنیادی مگر اہم نکات یا ٹولز فراہم کیے گئے ہیں جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے گھریلو ماحول سے واقفیت حاصل کرسکیں گے بلکہ اسے بچوں کی ذہنی، جذباتی اور روحانی ترقی کی بنیاد بنا سکیں گے۔

اس تعلق کو جانچنے کے لیے بھی ہر والدین کو خود سے درج ذیل سوالات کرنا پڑیں گے۔

پہلا سوال : آپ دونوں یعنی والدین اپنے بچوں کو ایک سے 2 گھنٹے روز کوالٹی وقت دیتے ہیں؟

ویسے تو والدین خصوصاً مائیں بچوں کے ساتھ بہت وقت گزارتی ہیں لیکن بچوں کی حسّیات (Senses) بہت تیز ہوتی ہیں، آپ ٹالنے والے انداز میں وقت گزاریں، بیزاری کے ساتھ ان کو وقت دیں یا جان چھڑانے کے لیے ساتھ لگے رہیں، بچوں کو فوراَ اس بات کا احساس ہو جاتا ہے، یہ احساس انہیں یہ بات سمجھاتا ہے کہ آپ کے نزدیک ان کی اہمیت ثانوی (Secondary) ہے۔

کچھ سائیکالوجی ریسرچز کے مطابق کوالٹی وقت سے مراد محض فن-بیسڈ، خوب مزے والے، منصوبہ بندی یا خاص تیاری سے گزارے ہوئے لمحات نہیں ہیں بلکہ برٹش میڈیکل جرنل اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی دو مختلف اسٹیڈیز کے مطابق ان سب سے والدین و بچوں کے تعلق میں کچھ خاص فرق بھی نہیں پڑتا۔

بچوں کے لیے وہ وقت سب سے اہم ہے جو آپ انہیں پوری توجہ دیتے ہوئے، ان کے مزاج کے مطابق اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے گزارتے ہیں، چاہے وہ ان کے بنائے ہوئے کاغذی جہاز پر خوشی کا اظہار اور گرم جوش تبصرہ ہو، کچن میں برتن دھونا ہو، باتھ روم کی صفائی میں شریک کرنا ہو یا پھر کہیں فارغ بیٹھے ہوئے ان کے خیالات کو توجہ سے سننا ہو، عام خیال کے برعکس، تحقیقات یہ انکشاف کرتی ہیں کہ بچوں کے لیے مہنگے تحفوں اور مہنگی یا فن-بیسڈ جگہوں پر جانے سے زیادہ یہ چند لمحات اہم ہوتے ہیں۔

تو کوالٹی وقت سے مراد والدین کا بچوں کو پوری توجہ، شعور اور اپنے پورے وجود (باتوں، جذبات، عمل) کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔

اب اگر اس سوال کا آپ کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو تعلق میٹر آپ اور آپ کے بچے کے تعلق کو مضبوط اور خوشگوار کی ریڈنگ کی طرف دکھائے گا، تاہم اگر آپ کا جواب ’ناں‘ میں ہے تو پھر تیار رہے گا کیونکہ بچوں کا ردعمل کافی شدید اور پریشان کن ہو سکتا ہے۔

دوسرا سوال: گھر کا ماحول دوستانہ اور گھریلو کام مشاورت سے کیے جاتے ہیں؟

جیسا کہ اوپر کی کیس اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ گھر کا ماحول اگر مسلسل جابرانہ اور پریشان کن ہوگا تو بچوں میں آہستہ آہستہ اضطراب، پھر اینگزائٹی، پھر جارحانہ پن اور آخر کار بغاوت آ ئے گی، گھر کے ماحول کو دوستانہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین گھر چلانے کے اپنے طریقہ کار اور اپنے پیرنٹنگ اسٹائل سے واقف ہوں۔

آپ حاکمانہ انداز میں بچوں کے ساتھ تعلق بنا کر رکھتے ہیں یا بالکل ہی کھلی چھوٹ دینے والے پیرنٹنگ اسٹائل پر عمل کرتے ہیں، دونوں صورتوں میں گھر کا ماحول بچوں کے بگاڑ کا سبب بنے گا، معتدل پیرنٹنگ کے انداز سے گھر کا ماحول نہ صرف دوستانہ رہتا ہے بلکہ بچوں کی والدین سے وابستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ والدین اگر ایک معاملے میں سختی کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، انہیں علم ہوگا کہ گھر کے معاملات میں حاکمانہ انداز اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ گھر کے بیشتر معاملات میں وہ اپنی رائے نہ صرف دیتے ہیں بلکہ ان کے مشوروں کے مطابق کام بھی کیے جاتے ہیں۔

اگر اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو تعلق میٹر آپ اور بچوں میں وابستگی کی سوئی کو سبز دکھائے گا جبکہ ’ناں‘ کی صورت میں بچوں کی طرف سے مختلف مسائل کی نشاندہی کر رہا ہو گا۔

تیسرا سوال: بچے گھر میں وقت شوق سے گزارتے ہیں یا باہر کی سرگرمیاں زیادہ تلاش کرتے ہیں؟

نوجوانی کی طرف بڑھتے بچوں کی دوستیوں پر نظر رکھنے کی خاص ضرورت ہے—فوٹو: گریٹس ڈے
نوجوانی کی طرف بڑھتے بچوں کی دوستیوں پر نظر رکھنے کی خاص ضرورت ہے—فوٹو: گریٹس ڈے

ایک تازہ اسٹڈی کے مطابق جو بچے باہر کھیلتے اور فطرت کے ساتھ وقت گزارتے ہیں وہ ذہنی و جذباتی طور پر زیادہ مستحکم اور خوش ہوتے ہیں، ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق یہ چیز بچوں کو نفسیاتی امراض سے بھی بچاتی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارنا بہتر ہے؟

یہ اسی وقت تک بہتر ہے جب وہ باہر کچھ وقت گزار کر، کھیل کود کرکے اور فطرت سے اپنے تعلق کو تازہ کر کے خوش خوش واپس گھر لوٹ آئیں۔

اس آؤٹنگ کا مقصد بچوں کو 'آن لائن دنیا کے جال' سے بچانا، ان کے اسکرین وقت کو کم کرنا اور بچوں کو جسمانی طور پر متحرک رکھنا ہے لیکن اگر بچے اپنے گھر کے حالات، تنازعات، گھٹن کی وجہ سے گھر سے زیادہ باہر وقت گزارنے کو ترجیح دیں تو یہ تعلق میٹر کی سوئی کو 'خطرے کے ایریا' میں ظاہر کر رہا ہے۔

تو اس سوال کا جواب دو طرح سے آ سکتا ہے۔

1۔ گھر کے اندر شوق سے وقت گزارتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے والدین کے نہ صرف آپسی تعلقات خوشگوار ہیں بلکہ وہ گھر کے ماحول کو بچوں کے لیے 'رہنے کے قابل' بنا کر رکھے ہوئے ہیں، تعلق میٹر کی سوئی بتا رہی ہے کہ والدین و بچوں کا باہمی وقت گزارنا انہیں باہر کی مصروفیات سے زیادہ محبوب ہے۔

2۔ گھر کے بجائے باہر کی سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلق میٹر خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے، یہ خبردار کر رہا ہے کہ وہ نہ صرف بغاوت کا رویہ اپنانے والے ہیں بلکہ باہر کے خطرات کا شکار آسانی سے بن سکتے ہیں۔

چوتھا سوال: (الف) گھر کی ذمہ داریاں ٹھیک طریقے سے ادا کرتے ہیں؟

یہ سوال دراصل والدین اور بچوں کے باہمی تعلق کا 'نتیجہ 'بتا رہا ہے۔

یہ آپ کے پیرنٹنگ اسٹائل کی کامیابی یا ناکامی، بچوں سے دلی تعلق ہونے یا نہ ہونے، بچوں سے ذہنی ہم آہنگی ہونے یا نہ ہونے اور بچوں کی ضروریات جاننے یا نہ جاننے کو ظاہر کر رہا ہے۔

اگر بچہ آپ کی تقریباً ہر بنیادی بات، جس کا تعلق گھر کے کاموں سے ہے مان رہا ہے تو خوش ہو جائیں، تعلق میٹر نے ریڈنگ میں آپ کو بہترین والدین قرار دیا ہے۔

اگر بچے آپ کی نصف باتیں مان رہے ہیں تو بھی تعلق میٹر آپ کو کامیاب قرار دے رہا، تاہم بچے آپ کی 25 فیصد باتوں پر عمل کر رہے ہیں تو تعلق میٹر کی سوئی 'سرخ' نشان کی طرف بڑھ رہی ہے اور اگر بچے گھریلو ذمہ داریاں بالکل ادا نہیں کر رہے تو تعلق میٹر کی سوئی 'زیرو تعلق' ظاہر کر رہی ہے۔

(ب) گھر کا ماحول پر امن اور صاف ستھرا رہتا ہے؟

پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی جرنل کے مطابق جس گھر کا ماحول صاف ستھرا و منظم ہوتا ہے اس گھر کی خواتین نفسیاتی اور جذباتی طور پر زیادہ مضبوط ہوتی ہیں ان کا موڈ زیادہ خوشگوار ہوتا ہے، یہی چیز مردوں اور بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے، گندا، بکھرا ہوا ماحول، کارٹی سول (Cortisol) ہارمون کو ڈسٹرب کر تا ہے جو انسان کے موڈ کو خراب کرتا ہے۔

گھر کے گندے ماحول کا مطلب ہے تعلق میٹر بچوں کے موڈ میں اتار چڑھاؤ کے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔

صاف ستھرے ماحول کے ساتھ ساتھ پر امن ماحول بھی والدین و بچوں کے 'تعلق کی بہتری یا خرابی' میں اہم کردار ادا کرتا ہے، والدین کے باہمی معاملات اگر نا خو شگوار ہوں تو یہ بچوں کے موڈ پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ نہ انتہائی سختی اور نہ انتہائی پیار سے پیش آئیں—فوٹو: 123 آر ایف اسٹاک
بچوں کے ساتھ نہ انتہائی سختی اور نہ انتہائی پیار سے پیش آئیں—فوٹو: 123 آر ایف اسٹاک

پانچواں سوال: ۔ بچے یعنی بہن بھائی آپس میں کیسے رہتے ہیں؟

والدین کے تعلق اور بچوں کے باہمی تعلق ایک دوسرے کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں، ایک ریسرچ کے مطابق ماں باپ کو اپنے تعلق کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے باہمی تعلق پر بھی خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب اس سوال کے تین جواب ہو سکتے ہیں۔

  • مل جل کر رہتے ہیں۔

یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ والدین کا تعلق اپنے بچوں سے 'خوشگوار' ہے اور اس کے پیچھے والدین کا باہمی تعلق 'بہتر' ہونا بھی شامل ہے۔

  • کبھی جھگڑتے ہیں اور کبھی مل جل کر رہتے ہیں۔

یہاں تعلق میٹر نہ صرف والدین کے بچوں سے تعلق کی کمی کو ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ بچوں کے باہمی تعلقات کے کشیدہ ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے۔

  • زیادہ تر جھگڑتے رہتے ہیں۔

اس صورت میں تعلق میٹر کی سوئی خطرے کی حد کو چھو رہی ہے اور یہ والدین کو خبردار کر رہی ہے کہ اس صورت میں بچے نہ صرف ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور خراب موڈ کا شکار ہونے والے ہیں بلکہ مستقبل میں ان کو دیگر افراد (رشتہ داروں و دوستوں وغیرہ) سے بہتر تعلق بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

بظاہر عام سے نظرآنے والے یہ سوالات (یا ٹولز ) آپ کو نہ صرف آپ کے گھر کے ماحول سے واقفیت دیں گے بلکہ تعلق میٹر کی مدد سے آپ گھر کا ماحول نہ صرف بہتر اور صاف ستھرا بنا سکیں گے بلکہ نا خو شگوار موڈ ، تناؤ اور جھگڑوں سے پاک بننے کا سفر بھی شروع کر سکیں گے۔


فرحان ظفر 10 سال سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔

اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کونسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔