خریداروں کا شناختی کارڈ نمبر غلط بتانے پر تاجر کو سزا نہیں ہوگی

05 اکتوبر 2019

ای میل

ایف بی آر نے انکم ٹیکس رجسٹریشن کے لیے 15 اکتوبر سے مہم کے آغاز کا اعلان کردیا—تصویر: شٹر اسٹاک
ایف بی آر نے انکم ٹیکس رجسٹریشن کے لیے 15 اکتوبر سے مہم کے آغاز کا اعلان کردیا—تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: کاروباری معاملات میں مشکلات دور کرنے کے لیے حکومت نے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت خریداروں کا قومی شناختی کارڈ نمبر غلط ہونے کو جرم ٹھہرانے والے قانون میں نرمی کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مینوفیکچررز اور سپلائرز کی جانب سے یہ شکایت کی جارہی تھی کہ فنانس بل 2019 کے ذریعےسیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں کی گئی ترمیم کے تحت خریداروں کے شناختی کارڈ اور نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) غلط ہونے کو قابلِ سزا اور مستحق جرمانہ قرار دے دیا گیا تھا۔

شکایت کنندگان کا اصرار تھا کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ خریدار نے جعلی یا کسی اور کا شناختی کارڈ دکھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 50 ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط لازمی قرار

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ’غیر رجسٹرڈ افراد کو قابلِ ٹیکس اشیا کی فراہمی کے لیے خریدار کا قومی شناختی کارڈ یا این ٹی این نمبر فروخت کنندہ کو بتانا ہوگا‘۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ ’رجسٹرڈ افراد کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت خریداروں کے قومی شناختی کارڈ اور این ٹی این نمبر بتانے کی شرط کو پورا کرنے کے لیے درست شناخت کو یقینی بنانے کے حوالے سے کی گئیں شکایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا گیا‘۔

دوسری جانب ایف بی آر نے صنعتی اور کمرشل صارفین کو انکم ٹیکس کے لیے رجسٹریشن کروانے کے لیے 15 اکتوبر سے مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں: 50 ہزار سے زائد کی خریداری: 'خواتین کو اپنا شناختی کارڈ دکھانا ضروری نہیں

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے جمعے کو ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ تمام صنعتی اور کمرشل صارفین کے لیے انکم ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ ہونا لازم ہے۔