سعودی عرب: غیر ملکی نامحرم مرد و خواتین کو ایک ساتھ کمرہ لینے کی اجازت

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2019

ای میل

نئے قوانین کے تحت ہوٹل کا کمرہ لینے والوں کو شناخت کرانے کی بھی ضرورت نہیں—فوٹو: اے ایف پی
نئے قوانین کے تحت ہوٹل کا کمرہ لینے والوں کو شناخت کرانے کی بھی ضرورت نہیں—فوٹو: اے ایف پی

اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ستمبر کے آخر میں پہلی بار عام سیاحت کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین کو عبایا پہننے سے بھی آزاد قرار دیا تھا۔

اور اب سعودی عرب نے غیر ملکیوں کی سیاحت کے لیے توجہ حاصل کرنے کی غرض سے انہیں مزید آسانیاں دینے کا اعلان کردیا۔

سعودی عرب کی حکومت نے سیاحت کے لیے آنے والے غیر ملکی نامحرم مرد و خواتین کو ہوٹل میں ایک ہی کمرہ لینے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سیاحت کی اجازت، خواتین کیلئے عبایا کی شرط ختم

نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی غیر ملکی مرد یا خاتون کرائے پر ہوٹل لینے کے بعد اپنے ساتھ کسی بھی غیر ملکی مخالف جنس کے شخص کو رکھ سکتا ہے۔

سعودی حکومت نے غیر ملکی سیاح خواتین کے لیے عبایا پہننے کی شرط کو بھی ختم کردیا ہے—فوٹو: اے ایف پی
سعودی حکومت نے غیر ملکی سیاح خواتین کے لیے عبایا پہننے کی شرط کو بھی ختم کردیا ہے—فوٹو: اے ایف پی

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سعودی حکومت نے سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر ملکی خاتون کو کرائے پر ہوٹل حاصل کرنے اور اپنے ساتھ نامحرم شخص کو ساتھ رکھنے کی اجازت دے دی۔

نئے قانون کے تحت اب کوئی غیر ملکی مرد سیاح کمرہ حاصل کرنے کے بعد اپنے ساتھ کسی بھی نامحرم خاتون کو رکھ سکے گا اور اسے اس بات کی دستاویزات بھی فراہم نہیں کرنا پڑیں گی کہ خاتون کا ان کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

رپورٹ میں عربی اخبار ’اوکاز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سعودی عرب کی ’کمیشن فار ٹورزم اینڈ نیشنل ہیریٹیج‘ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اب کسی بھی غیر ملکی مرد یا خاتون کو کمرے میں کسی نامحرم کو ساتھ رکھنے پر کوئی دستاویزات پیش نہیں کرنی پڑیں گی۔

خواتین سیاحوں کے لباس میں نرمی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے اقدام پر سعودی حکومت کی تعریف کی جا رہی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
خواتین سیاحوں کے لباس میں نرمی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے اقدام پر سعودی حکومت کی تعریف کی جا رہی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

ساتھ ہی کمیشن نے واضح کیا کہ نئے قوانین کے تحت سعودی عرب کی خواتین کو بھی ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، تاہم اسے کمرہ حاصل کرتے وقت اپنی شناخت ظاہر کرنی پڑے گی۔

اس سے قبل سعودی عرب کی مقامی خواتین کو اس وقت ہی ہوٹل کا کمرہ دیا جاتا تھا جب انہیں گھر کے کسی مرد کی جانب سے تحریری اجازت دی جاتی تھی۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے آن لائن سیاحتی ویزا کی سہولت متعارف کرادی

نئے قانون کے تحت جہاں مقامی خواتین ہوٹل کا کمرہ لے سکیں گی، وہیں غیر ملکی خواتین بھی کوئی شناخت کرائے بغیر ہوٹل کا کمرہ لینے کے بعد وہاں کسی نامحرم کو ساتھ رکھ سکیں گی۔

سعودی حکومت نے جہاں سیاحوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں حکومت نے گزشتہ ماہ 28 ستمبر سے ابتدائی مرحلے میں دنیا کے 49 ممالک کو آن لائن ویزا جاری کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی تھی۔

سعودی حکومت کے فیصلوں سے وہاں سیاحت کو فروغ ملنے کا خیال کیا جا رہا ہے—فوٹو: عربین بزنس
سعودی حکومت کے فیصلوں سے وہاں سیاحت کو فروغ ملنے کا خیال کیا جا رہا ہے—فوٹو: عربین بزنس

آن لائن ویزا کی سہولت حاصل کرنے والے ممالک میں پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اورمصر سمیت درجنوں مسلمان ممالک شامل نہیں جب کہ بھارت کے افراد بھی آن لائن ویزا کی سہولت فراہم نہیں کر سکیں گے۔

سعودی حکومت کی جانب سے سیاحت کےلیے غیر ملکیوں کو اجازت دینے سے قبل وہاں صرف مسلمان ممالک کے لوگ حج و عمرہ کے لیے جا سکتے تھے یا پھر وہ افراد سعودی عرب کا سفر کرسکتے تھے جن کے رشتہ دار وہاں مقیم ہوں۔

سعودی حکومت کی جانب سیاحت کے لیے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات سے وہاں سالانہ 10 کروڑ سیاحوں کی آمد کا امکان ہے اور اس منصوبے سے وہاں 10 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

سیاحت کے لیے دروازے کھولنے سے سعودی عرب کو آنے والے چند سال میں کم سے کم 5 لاکھ کمروں پر مشتمل پرتعیش ہوٹلوں کی ضرورت پڑے گی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ سیاحت کے آغاز کے بعد مختلف حصوں میں تعمیراتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

ریاض حکومت نے حالیہ چند سال میں نہ صرف وہاں خواتین سیاحوں کے لیے نرمیاں متعارف کرائی ہیں بلکہ پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کرنے، انہیں غیر محرم کے ساتھ نوکری کرنے، ماڈلنگ و اداکاری کرنے اور فیشن ویکس میں شرکت کی اجازت بھی دی ہے۔

اب سعودی عرب میں خواتین غیر محرم مرد کے ساتھ نوکری بھی کرتی ہیں اور خواتین اداکاری کے شعبے میں بھی سامنے آئی ہیں۔

ڈرائیونگ و نوکری کرنے سمیت اب خواتین سعودی عرب میں اداکاری بھی کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ڈرائیونگ و نوکری کرنے سمیت اب خواتین سعودی عرب میں اداکاری بھی کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی