اسرائیل کا عرب ممالک کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کے معاہدوں کا عندیہ

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2019

ای میل

ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی — تصویر: ٹوئٹر
ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی — تصویر: ٹوئٹر

یروشلم: اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیز نے کہا ہے کہ وہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں کے پیش خیمے کے طور پر ان عرب ممالک کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کا سمجھوتہ کررہے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق تجویز کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تاہم یہ اسرائیل کی جانب سے ان خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کی نئی کوشش ہے جس کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم نہیں۔

اسرائیلی وزیر نے کسی خلیجی ملک کا نام لیے بغیر بتایا کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس حوالے سے مختلف عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ برا ہونے والے سفیر جیسن گرین بلیٹ سے بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو خطے کی ریاست تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے، عمان

خیال رہے کہ صرف 2 عرب ممالک اردن اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے موجود ہیں جبکہ حالیہ کچھ ماہ کے دوران اسرائیل کے دیگر خلیجی اقوام کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

تقریباً ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل کیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے جولائی میں بحرینی ہم منصب سے پہلی مرتبہ دورہ واشنگٹن کے موقع پر عوامی سطح پر ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: پہلی مرتبہ کسی اسرائیلی وفد کا متحدہ عرب امارات کا دورہ

قبل ازیں جون کے اواخر میں اسرائیلی صحافیوں کے ایک گروہ نے اسرائیل اور فلسطین امن کے حوالے سے امریکی سربراہی میں بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

تاہم صورتحال اس وقت اچھی نہیں رہی جب عرب ریاستوں سے ایک گروہ اسرائیل کے دورے پر آیا۔

دورے کے دوران مشرقی یروشلم کے قدیم علاقے کی سیر کے موقع پر کچھ افراد نے وفد کے رکن اور سعودی بلاگر سے بدکلامی کی تھی اور ان پر کرسیاں پھینکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد لینڈنگ کی ’افواہ‘، آخر مشن تھا کیا؟

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرلیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں۔


یہ خبر 7 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔