بچوں کا تعلیمی ماحول بتانے والا 'تعلق میٹر'- پانچویں و آخری قسط

07 اکتوبر 2019

ای میل

بڑھتی عمر کے بچوں پر نظر رکھنا انتہائی لازمی ہے—فوٹو: گونگ کمپاس
بڑھتی عمر کے بچوں پر نظر رکھنا انتہائی لازمی ہے—فوٹو: گونگ کمپاس

اس سلسلہ وار مضمون کی پہلی قسط میں والدین کو بچوں کی شخصیت سے واقفیت پر زور اور اس کے لیے چند بنیادی ٹولز، دوسرے قسط میں بچے کی آن لائن دنیا کو جاننے کی اہمیت اور چند بنیادی ٹولز کا ذکر کیا گیا تھا۔

تیسری قسط میں بچوں کی کمپنی یا دوستوں سے واقفیت اور اس کے لیے چند اہم ٹولز کا تذکرہ کیا گیا تھا جب کہ چوتھی قسط میں والدین کو گھر کے ماحول سے واقفیت اور اسے بہتر بنانے کے چند ٹولز کی نشاندہی کی گئی تھی اور اب آخری قسط میں والدین کی بچوں کے اکیڈمک ماحول سے واقفیت کی ضرورت اور اس کے لیے درکار ٹولز پر بات کی جائے گی۔

پہلی قسط پڑھیں

دوسری قسط پڑھیں

تیسری قسط پڑھیں

چوتھی قسط پڑھیں

ہر بار کی طرح اس بار بھی مضمون کو آسان بنانے کے لیے ایک چھوٹی سی کہانی سے آغاز کرتے ہیں۔

میٹرک میں فیل ہونے پر پورا گھرانہ پریشان کم اور حیران زیادہ تھا کہ بظاہر پڑھنے لکھنے پر توجہ دینے والا روحان امتحانات میں کیسے ناکام ہوگیا؟

ایک اچھے گھرانے میں اپنا بچپن گزارنے والا روحان پڑھائی لکھائی میں بہت اچھا نہیں تھا لیکن برا بھی نہیں تھا، کسی بڑی تعلیمی ناکامی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا تھا لیکن جو چیز گھر والوں سے پوشیدہ تھی وہ روحان کا بڑھتی عمر کے ساتھ ایسے لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنا تھا جنہیں 'اسکول' میں 'بیڈ بوائز' کہا جاتا تھا، سگریٹ نوشی، لڑکیوں کو چھیڑنا، غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا اور گینگز کی صورت میں مارکٹائی کرنے میں یہ بچے خوب نام رکھتے تھے۔

رفتہ رفتہ ان لڑکوں کی صحبت سے روحان بھی متاثر ہوتا گیا اور پھر پڑھائی پر توجہ کم اور 'غیر نصابی و غیر اخلاقی' سرگرمیوں میں مصروفیات بڑھتی چلی گئیں، گھر میں خرابے رویے اور تنہائی پسند ہونے کے ساتھ ساتھ روحان کی تمام مثبت رویوں اور کاموں سے بیزاری بڑھتی گئی، اس کے والدین، کبوتر کی طرح آنکھیں کیے بیٹھے رہے یہاں تک کہ اس کا میٹرک کا نتیجہ سامنے آگیا اور اس کے بعد ان کی پریشانی شروع ہوئی۔

جب والدین نے اس حوالے سے روحان اور پھر اسکول انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی تو انہیں تمام معاملہ سمجھ میں آگیا تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی، خطرناک عادات پیدا ہونا تو ایک مسئلہ تھا ہی مگر امتحانات میں ناکامی نے پورے خاندان میں بھی شرمندہ کر دیا تھا۔

والدین اور بچوں کا تعلق صرف گھر تک محدود نہیں ہے بلکہ جہاں جہاں بچہ جا رہا ہے وہاں وہاں اس تعلق کا دائرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے، والدین اگر بچے کو اسکول بھیج کر مطمئن ہیں کہ انہوں نے 'تمام حقوق' ادا کردیے ہیں تو پھر تعلق میٹر کی ریڈنگ 'خطرے' کی حدود میں داخل ہو گئی ہے۔

یاد رکھیں یہ خطرہ بالکل گھاس میں پانی کی طرح پھیلتا ہے اور اس وقت تک والدین سے پوشیدہ رہتا ہے جب تک یہ جسمانی، جذباتی یا مالی نقصان کی صورت میں سامنے نہیں آ جاتا۔

والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف غیر ضروری طور پر اسکول یا کوچنگ کے ماحول کے حوالے سے پریشان ہوں نہ ہی 'سب ٹھیک ہے' کا مائنڈ سیٹ بنائے رکھیں، تعلق میٹر کی اس کیٹیگری میں دیے گئے چند ٹولز کی مدد سے آپ بچے کے اکیڈمک ماحول سے جڑے ممکنہ جسمانی، جذباتی اور تعلیمی نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

** پہلا سوال: اسکول میں مخلوط یا کو ایجوکیشن سسٹم ہے؟**

بڑھتے بچوں میں جسمانی تبدیلیوں کے اثرات والدین کے خیال سے زیادہ گہرے اور شدید ہوتے ہیں، ہارمونل تبدیلیاں بچوں اور بچیوں میں جذباتی، ذہنی اور جسمانی بے چینی، ایشوز اور مسائل پیدا کرتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ بیزاری کا رویہ پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ تعلیم یا سیکھنے کے عمل سے دور ہوسکتے ہیں، خصوصاً جب کہ وہ مخلوط ماحول والے تعلیمی ادارے میں پڑھ رہے ہوں۔

مخلوط ماحول میں تعلیم سے بیزاری کا نتیجہ جنس مخالف میں دلچسپی کی صورت نکلتا ہے، ان سے بات کرنے یا وقت گزارنے کا تصور ذہن پر سوار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کا تعلق والدین سے تو کمزور ہوتا ہی ہے بلکہ ان کی اکیڈمک سرگرمیاں بھی کافی متاثر ہو جاتی ہیں۔

اب اگر اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو تعلق میٹر والدین کو خبردار کر رہا ہے کہ اس فیز میں نہ صرف بچوں کو کونسلنگ فراہم کریں بلکہ دوستانہ بات چیت کے ذریعے تعلیمی اور عمومی بیزاری کو دور کریں ورنہ عمر کے اس حصے میں بچے مخلوط ماحول کے اثرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

دوسرا سوال: بچے اسکول اور کوچنگ سینٹر/ اکیڈمی آپ (یا گھر کے کسی فرد) کے ساتھ جاتے ہیں؟

بظاہر سادہ سا نظر آنے والا یہ سوال نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہے، گھر سے اسکول یا کوچنگ اور پھر وہاں سے واپس گھر تک کا سفر روز کا ایک یا ایک سے زائد گھنٹہ تک کا وقت ہو سکتا ہے، میڈیا میں پیش کیے جانے والے ڈیٹا کا محتاط تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ بچوں کے ساتھ ہونے والے کافی جرائم اسکول سے گھر یا گھر سے اسکول کے وقت میں ہوتے ہیں۔

جرائم سے ہٹ کر بھی اکیڈمک ماحول اور گھر کے مابین سفر میں بچوں کا غلط صحبت، عادات اور دوستوں میں پڑجانے کا کافی خدشہ ہوتا ہے

تو اس سوال کا جواب تین طرح سے دیا جا سکتا ہے۔

1- ہاں ۔ اس صورت میں تعلق میٹر کی سوئی اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ آپ ایک اہم وقت میں اپنے بچے یا بچی کے ساتھ موجود ہیں، اس وقت میں آپ بچوں سے اسکول میں ہونے والے واقعات، کلاس فیلوز اور ماحول کے بارے میں کافی کچھ جان سکتے ہیں، یعنی تعلق میٹر کی سوئی خوشگوار تعلق کی طرف جارہی ہے۔

2 - نہیں - تو تعلق میٹر کی سوئی 'انتہائی الرٹ' کی نشاندہی کر رہی کہ آپ کا بچہ نہ صرف جرائم پیشہ اور خطرناک افراد کا ٹارگٹ بن سکتا ہے بلکہ غلط کلاس فیلوز کے برے سلوک اور غلط صحبت کا شکا ر بھی بن سکتا ہے۔

3 - کبھی کبھار - مستقل طور پر ساتھ آنا جانا کافی والدین کے لیے ممکن نہیں ہوتا تو اس صورت میں کبھی کبھار کا آپشن بھی موجود ہوتا ہے، اس صورت میں تعلق میٹر کی سوئی آپ کو کسی خطرے کی نشاندہی کر سکنے کی پوزیشن میں ہوگی۔

تیسرا سوال: ٹیچرز سے بچے کی عادات، مزاج اور دیگر حوالوں سے بات ہوتی ہے؟

بچوں کے اساتذہ سے مستقل رابطے میں رہنے سے سب سے بڑا فائدہ بچوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری طور پر معلوم ہو جانا ہے، ٹیچرز اچھا خاصا وقت بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں، وہ نہ صرف اسکول کے ماحول سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو فوراً نوٹ کر سکتے ہیں بلکہ اس کو روکنے میں بھی آپ کے معاون ہو سکتے ہیں۔

تو اگر اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو تعلق میٹر کی ریڈنگ یہ بتا رہی ہے کہ بچے کی شخصیت اور صحبت میں ہونے والی تبدیلی کو آپ مثبت انداز میں روک سکتے ہیں۔

اگر جواب ’ناں‘ میں ہے تو تعلق میٹر 'الرٹ' ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے۔

چوتھا سوال: کیا آپ کے علم میں ہے کہ بچہ کسی ٹیچر یا کلاس فیلو سے زیادہ مانوس ہے؟

اس کے لیے آپ کو بچوں اور ٹیچرز (مرد و خواتین)دونوں سے کمیونیکیشن کرنی ہوگی، دونوں کے ساتھ تبادلہ خیال سے آپ ٹیچرز کی شخصیات، عادات اور ان سے جڑے ممکنہ خطرات معلوم کر سکتے ہیں، اسی طرح بچوں کے ساتھ کلاس فیلوز کے بارے میں دوستانہ گفتگو سے آپ بچے پر اثر انداز ہونے والے ہم جماعت کو جان سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اس کی صحبت بچے کے لیے مفید رہے گی یا نقصان دہ، آپ اس کا بھی فیصلہ کرنے میں ماہر بن جائیں گے۔

اب اس سوال کا جواب اگر ’ہاں‘ میں ہے تو تعلق میٹر کی سوئی اس بات پر خبردار کر رہی ہے کہ آپ فوراً اس مانوسیت اور وابستگی کی نوعیت کو جانیں، یوں اپنے تعلق کے ذریعے آپ بچوں کو مستقبل میں ہونے والے نقصان سے بچا سکتے ہیں، تاہم اگر اس سوال کا جواب 'ناں 'میں ہے تو تعلق میٹر میں خطرے کی بیپ بجنی شروع ہو گئی ہے۔

پانچواں سوال: کیا بچے کی اکیڈمک اور نان اکیڈمک سرگرمیوں سے اپنے طور پر آگاہ رہتے ہیں؟

انسانی تعلق کبھی اتنا سادہ ہوتا ہے کہ ایک لفظ سے بہتر ہوجاتا ہے تو کبھی اتنا پیچیدہ بن جاتا ہے کہ بڑی سی بڑی قربانی بھی تعلق کو بہتر نہیں بنا پاتی تو کمیونیکیشن کے ساتھ ساتھ تعلق میٹر میں بہتری کے لیے اپنے مشاہدے اور اس کے تجزیے کی صلاحیت کو استعمال کیجیے۔

براہ راست بچوں اور اساتذہ سے کمیونیکیشن سے آپ اپنے اور بچوں کے تعلق کی بیشتر جہتیں بہتر بنا سکتے ہیں تاہم تعلق کے کچھ زاویے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اسکول، کوچنگ یا ٹیوشن میں بچے کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کا اپنے طور پر بھی مشاہدہ کرتے رہیں۔

اب اگر اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو آپ بہت سی ایسی باتیں جان سکیں گے جو اکیڈمک ماحول میں والدین و بچوں کے تعلق کو خراب کرنے والی ہوں اور یوں تعلق میٹر کی سوئی 'سبز یعنی خوشگوار' ریڈنگ پر رکھ سکیں گے، تاہم اگر جواب 'ناں' ہونے کی صورت میں ہے تو تعلق میٹر آپ کو خبردار کر رہا ہو گا کہ اکیڈمک ماحول کے خطرناک و اثرات آپ کے اور بچے کے تعلق کو مستقبل قریب میں نقصان پہچانے والے ہیں۔

یہاں تعلق میٹر کی کیٹگریز کا اختتام ہو تا ہے تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ والدین کس حد تک اس کی مدد سے بچوں کے ساتھ بہتر، گرم جوش اور محبت بھرا تعلق بنانے کے لیے کوشش کرتے ہیں، دوسری صورت میں انہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر اس 'تعلق' کو خراب کر دینے کے سنگین، جانی، مالی، جذباتی اور نفسیاتی پہلوؤں کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔


فرحان ظفر 10 سال سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔

اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کونسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔