مقبوضہ کشمیر کو سخت مارشل لا کا سامنا ہے، نوبل انعام یافتہ بھارتی ماہر معاشیات

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2019

ای میل

ماہر معاشیات امرتیا سین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آج ہر چیز پر انتہا پسند ہندوتوا کے نظریات غالب ہیں۔ — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز
ماہر معاشیات امرتیا سین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آج ہر چیز پر انتہا پسند ہندوتوا کے نظریات غالب ہیں۔ — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز

بھارت کے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیا سین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے مسلمان اکثریتی ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے جو دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار رہی ہے اور اب وہاں سخت مارشل لا کا بھی سامنا ہے۔

امریکی جریدے 'نیو یارکر' کی رپورٹ کے مطابق امرتیا سین کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر کو مودی متعدد مذاہب اور متعدد نسلوں پر مشتمل سیکولر بھارت کے نظریے کا ذرا بھی علم نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نریندر مودی کا تعلق راشتریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے بتایا جاتا ہے جس نے لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیا ہے کہ مسلمانوں نے ہم پر طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے اور اب ہماری باری ہے اور ہمیں انہیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو راج کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے'۔

مزید پڑھیں: 'بھارتی شہری ہونے کے ناطے کشمیر سے متعلق حکومتی فیصلے پر بالکل فخر نہیں'

ان کا کہنا تھا کہ 'مودی کی حکومت نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے، جو دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار رہی تھی اور اب وہاں سخت مارشل لا کا بھی سامنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت میں میڈیا آزاد ہو تو پتہ چلے کہ جس ہندوتوا نظریے کے نفاذ اور کامیابی کے دعوے کیے جارہے ہیں وہ کتنے درست ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'سیکولر بھارت کی خوبصورتی کو مودی اور ہندو توا کے نظریے نے ماند کردیا ہے'۔

امرتیا سین کا کہنا تھا کہ 'آج ہر چیز پر انتہا پسند ہندوتوا کے نظریات قابض ہیں جہاں کوئی بھی مسلمانوں کو بیف کھانے پر قتل کر سکتا ہے جبکہ ہندو مذہب میں بیف کھانے کی کہیں ممانعت نہیں ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر جلد بنے گا بھارت کا افغانستان!

انہوں نے بھارت میں اکثریت کی جانب سے مودی کی حمایت کیے جانے پر شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 'کئی لوگ اپنے نظریات بیان کرنے سے ڈرتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک ارب لوگوں میں سے 40 کروڑ مسلمان اور دلت ہیں، 10 کروڑ قبائلی ہیں اور ہندو آبادی کی بڑی تعداد کو مودی کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں، ان میں سے کئی افراد کو مارا جاچکا ہے اور کئی کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، اس صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ مودی کی اکثریت عوام حمایت کرتی ہے'۔

امرتیا سین کا کہنا تھا آج کے بھارت میں جبر کا ماحول ہے، عوام فون پر بھی حکومت کے خلاف بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے نریندر مودی کو گزشتہ ماہ ایوارڈ دیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ دنیا کو کامیابی پسند ہے اور مجھے لگتا ہے کہ گیٹس کو بھی کامیابی پسند ہے اور مودی اتنا طاقتور ہے کہ اسے کسی طرح کامیاب انسان سمجھا جاتا ہے، مجھے مودی کو گیٹس ایوارڈ دیے جانے پر حیرت ہے'۔