سندھ کے ہر ضلع میں وومن ریسکیو پولیس سینٹر قائم کرنے کا حکم

08 اکتوبر 2019

ای میل

عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی پر صوبائی حکم ذمہ دار ہوں گے— فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز
عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی پر صوبائی حکم ذمہ دار ہوں گے— فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکام کو صوبے کے ہر ضلع میں وومن ریسکیو پولیس سینٹر قائم کرنے اور خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنانے کے لیے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی ہدایت کردی۔

علاوہ ازیں جسٹس صالح الدین پہنور کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر چلڈرن پروٹیکشن اتھارٹی (محکمہ تحفظ اطفال) کے قیام کے لیے 20 کروڑ روپے جاری کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: سندھ: 6 ماہ میں 50 خواتین، 28 مرد غیرت کے نام پر قتل

بینچ کی جانب سے سیکریٹری خزانہ کو کہا گیا کہ محفوظ پناہ گاہوں کے لیے رقم کا اجرا ایک ہفتے میں یقینی بنایا جائے اور اگر وہ عدالتی ہدایت پر عمل کرنے میں ناکام ہوئے تو توہین عدالت کے زمرے میں آئیں گے۔

واضح رہے کہ متعلقہ حکام وومن ڈیولپمنٹ (محکمہ ترقی نسواں) کی سیکریٹری کے تعاون سے ہر ضلع میں وومن ریسیکو پولیس کا محکمہ بنانے گئی جس کی ذمہ داری خاتون ایس ایس پی فرائض انجام دیں گی۔

عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ خاتون ایس ایس پی محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ مل کر آزادانہ کام کریں گی۔

عدالت نے کہا کہ ادارے میں نئی تعیناتی سے قبل تک خاتون پولیس افسران اور کانسٹیبلز کو علیحدہ کرکے ان کی وومن کمیشن کی گائیڈ لائنز کے مطابق تربیت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: خیرپور: کاروکاری کے الزام میں دو جوڑے قتل

واضح رہے کہ عدالتی بینچ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ خواتین سے متعلق مسائل کو ایک چھت کے نیچے لانا ضروری ہے جہاں تین سے چار ماہ کے اندر ان کی شکایات کا ازالہ ہوسکے اور اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں سوشل ویلفیئر اور وومن ڈیولپمنٹ کے سیکریٹریز شامل ہوں۔

اس سے قبل وومن ڈیولپمنٹ سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سندھ پولیس کی جانب سے صوبے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی مراکز قائم کیے جائیں اور اسی طرح کے 8 سینٹرز صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کھولے جائیں۔

عدالتی بینچ نے صوبائی پولیس افسر کو معاملے سے متعلق رپورٹ اگلی سماعت میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

اس ضمن میں عدالت نے یتیم خانوں کے لیے فعال بورڈ کو ہدایت کی کہ تمام نجی یتیم خانوں کی رجسٹریشن کی جائے۔

مزید پڑھیں: کاروکاری کے الزام میں 12 سالہ بچی قتل، والد گرفتار

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ نے 2016 میں رحمت بی بی کیس میں صوبائی حکومت کو صوبے میں خواتین کے لیے محفوظ مقام یا گھر بنانے کی ہدایت کی تھی، خصوصی طور پر ایسی خواتین کے لیے جنہوں نے اپنی پسند کی شادی کی ہو۔

گزشتہ سماعت کے دوران صوبائی حکومت نے بینچ کو آگاہ کیا تھا کہ صوبے میں خواتین کے لیے 29 محفوظ گھر بنانے کے لیے 14 کروڑ 50 روپے مختص کردیے گئے۔


یہ خبر 08 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی