سی پیک سے متعلق سیکیورٹی کی یقین دہانی، 'چینی باشندوں کے جان و مال محفوظ ہوں گے'

08 اکتوبر 2019

ای میل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بیجنگ میں پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بیجنگ میں پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ حوالے سے چین سے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

بیجنگ میں وزیر اعظم عمران خان کے 2 روزہ دورے کے دوران ان کی پہلے روز کی مصروفیات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے، وزیراعظم کا 13 ماہ کے دوران چین کا یہ تیسرا دورہ ہے اور آئندہ روز وہ چینی صدر سے ملاقات کے دوران انہیں پاکستان آنے کی دعوت دیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دونوں ممالک اہم علاقائی اور عالمی امور پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں، چین میں وزیراعظم عمران خان کا شاندار استقبال کیا گیا'۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان 3 روزہ دورے پر چین روانہ

انہوں نے کہا کہ 'سی پیک سے پاکستان اور چین کے علاوہ خشکی سے گھرے افغانستان سمیت پورا خطہ مستفید ہوسکتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم نے چینی قیادت سے معاشی صورتحال اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا'۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں سرمایہ کاروں کو پرکشش مواقع فراہم کررہے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کی بھی یقین دہانی کراتے ہیں جہاں ان کی جان، کاریگر اور مال محفوظ ہوں گے اور اس کے لیے ہم نے باقاعدہ بندوبست کیے ہیں اور یہ باتیں ہم نے انہیں بتائی ہیں تاکہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ملاقات میں سی پیک اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے بتایا، جس کا مقصد مختلف منصوبوں میں تاخیر کو روکنا اور رکاوٹ کی نشاندہی کرنا ہے جس کے بعد اس کا فوری حل تلاش کیا جاسکے گا'۔

متعدد معاہدے طے پاگئے، وزیر خارجہ

انہوں نے بتایا کہ 'وزیراعظم عمران خان کی چینی ہم منصب سے طویل ملاقات ہوئی جس میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں گوادر میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک منصوبوں کی بحالی، وزیراعظم آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان، شعبہ تعلیم میں بھی چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرے گا اور خصوصی افراد کی زندگیاں آسان بنانے سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'نارکوٹکس کنٹرول کے لیے چین نے پاکستان کو آلات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم کا آج (منگل) کا دن معیشت کے حوالے سے رہا جبکہ کل وہ اسٹریٹجک حوالوں سے ملاقاتیں کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'کل وزیراعظم عمران خان چینی صدر سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کی سطح پر ملاقاتیں کررہے ہیں'۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام پر چین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ملاقات میں طالبان کے وفد سے اب تک کے مذاکرات اور افغانستان کے امن عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا'۔

خیال رہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا ایک سال میں چین کا تیسرا دورہ ہے، اس سے قبل انہوں نے رواں برس اپریل میں چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔

اس دوران عمران خان نے بیجنگ میں ’دوسرے ایک خطہ ایک شاہراہ فورم‘ میں شرکت کی تھی۔

دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی وزیراعظم نے چین کا دورہ کیا تھا، جس میں سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے اپنے چینی ہم منصب سے امدادی پیکج کی تفصیلات طے کرنے کے لیے بات کی تھی۔

دونوں ممالک نے 15 سمجھوتوں اور اقتصادی تعاون، تجارت اور دیگر شعبہ جات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے آگاہ کیا تھا کہ بیجنگ نے اسلام آباد کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور پاکستان کو آنے والے وقت میں اس کے ثمرات ملیں گے۔