جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ سے قبل ہی مدارس کی نگرانی شروع

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

وفاقی دارالحکومت میں 327 مدارس میں ہزاروں طلبہ موجود ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
وفاقی دارالحکومت میں 327 مدارس میں ہزاروں طلبہ موجود ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سیاسی مذہبی جماعت کی آزادی مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائدین اور مدارس کی نگرانی شروع کردی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کی انتظامیہ کی ہدایت پر پولیس نے اپنی خصوصی برانچ کو الرٹ کردیا کہ وہ جے یو آئی (ف) سے منسلک مدارس، اساتذہ اور طلبہ سے متعلق معلومات اکٹھا کرے، اس کے علاوہ وہ مدارس، اساتذہ اور طلبہ جو جے یو آئی (ف) کی حمایت کرسکتے ہیں ان کی بھی شناخت کی جانی چاہیے۔

اس سلسلے میں معلومات کے حصول کے لیے مدارس کے اندر اور باہر انٹیلی جنس کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 'ہم مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو سپورٹ کر رہے ہیں'

عہدیداروں کو مدارس کے اطراف تعینات کردیا گیا ہے اور وہ مدارس آنے والے افراد کی نگرانی کر رہے اور ان کی فہرست بنا رہے، اس کے علاوہ اساتذہ اور سینئر طلبہ کی بھی نگرانی کی جارہی کہ وہ ان دنوں میں کس سے رابطہ اور ملاقات کر رہے ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ لوگوں سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہے اور جو جے یو آئی (ف) اور دیگر سیاسی مذہبی جماعتوں سے منسلک پائے گئے ان کو نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ جب ضرورت پڑے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

اس حوالے سے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں 329 مدارس ہیں اور یہ امکان ہے کہ جے یو آئی (ف) کو 207 مدارس سے افرادی قوت سمیت حمایت حاصل ہوجائے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 28 ہزار طلبہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عطاالرحمٰن، مفتی ابرار، خواجہ مدثر اور مجید ہزاروی کی بھی نگرانی شروع کردی گئی اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن کے اسٹاف میمبر کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ رینٹ اے کار سروس فراہم کرنے والے، ہوٹلز اور کیٹرنگ سروسز کی بھی نگرانی شروع کردی گئی ہے اور دیکھا جارہا کہ کون لوگ وہاں آرہے ہیں۔

دوسری جانب مینٹینینس آف پبلک آرڈر یا کرمنل پراسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کو جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں، اساتذہ اور طلبہ کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیاریوں سے روکا جاسکے۔

اس کے علاوہ سی آر پی سی کو لانگ مارچ کے منتظمین، قائدین اور شرکا کو سروس فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کا آغاز 27 اکتوبر سے ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

ادھر ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کی پولیس نے اپنی نئی تیار کردہ حکمت عملی کو جانچنے کے لیے بڑی انسداد فسادات مشق شروع کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مشق جے یو آئی (ف) کی جانب سے 27 اکتوبر سے حکومت مخالف آزادی مارچ کے آغاز کے اعلان کے بعد سے شروع کی گئی۔

خیال رہے کہ نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان نے پولیس کو پیچھے دکھیلتے ہوئے فیض آباد کے مقام پر اپنا دھرنا جاری رکھا تھا، بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کا چارج سنبھالنے والے سلطان اعظم تیموری نے دسمبر 2017 میں انسداد فسادات یونٹ (اے آر یو) اور پولیس ریزرو متعارف کروایا تھا۔