جلال الدین خوارزم اور سندھ کے ساتھ ان کا رویہ

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

قسمت کا کھیل بھی عجیب ہے۔ وہ بادشاہ جن کے سہارے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں جُڑی ہوتی ہیں، ان کا ایک غلط فیصلہ ان ہزاروں لاکھوں زندگیوں کی آنکھوں میں موت کا اندھیرا بھر دیتا ہے۔ وہ آنکھیں پھر کبھی چڑھتا سورج نہیں دیکھ پاتیں کہ حرفت اور طاقت جن کے پاس ہے وہ وقت کے بادشاہ ٹھہرے۔

گزری صدیوں کی زمین پر تیزتراری، حرفت اور طاقت کے گھنے جنگل ہی اگتے ہیں کہ گئے زمانوں کے ان گھنے جنگلوں میں آنکھیں موندنا بھی سانسوں کا سودا کرنے کے برابر ہے۔ بس ایک تپتی دوپہر ہے جو ہر وقت دُور دُور تک چھائی رہتی ہے۔ اب کیا کیجیے کہ ہمارے نصیب میں ان تپتی دردناک دوپہروں میں سفر کرنا ہی لکھ دیا گیا ہے۔

آج کا سفر گزشتہ سے مختلف اس لیے ہے کہ اس میں ہم فقط جنگ کے میدان اور معصوم شہریوں اور ان کے شہروں کو جلتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان شعلوں اور بربادیوں سے ہم آنکھیں اس لیے نہیں موند سکتے کہ یہ سب ہمارا کل تھا۔ ہم اپنے کل اور اپنی تاریخ سے چاہ کر بھی آنکھیں نہیں چُرا سکتے۔

سلطان شہاب الدین غوری اپنے بھائی سلطان غیاث الدین کی وفات (1202ء) کے بعد فیروز کوہ (تہران کا علاقہ) میں تخت پر بیٹھا، (یہ بھی ذہن میں رہے کہ ’علاؤالدین جہان سوز‘ (وفات 1156ء) غوری خاندان کا پہلا خود مختار حاکم تھا)۔

سلطان شہاب الدین غوری
سلطان شہاب الدین غوری

وہ اپنے بھائی کی زندگی میں ’ملتان‘ اور ’اُچ‘ کو فتح کرچکا تھا اور اپنے سپہ سالار ’علی کرماخ‘ کو وہاں کا گورنر مقرر کرکے غزنی لوٹ گیا تھا۔ اسی زمانے میں اس نے اپنے ایک فوجی افسر ’قطب الدین ایبک‘ کو حکم دیا کہ وہ سندھ کو فتح کرے، یوں 3 ماہ میں قطب دین نے سندھ کو فتح کیا اور ’سیف الملوک‘ نامی شخص کو وہاں کا حاکم بناکر خود دہلی چلا آیا۔ بھائی کی وفات کی خبر سُن کر اس نے ایبک کو دہلی کا قائم مقام حاکم بنا دیا اور خود ’غزنی‘ پہنچا اور حکومت سنبھالتے ہی اس نے اپنے بھتیجوں اور رشتہ داروں کو خراسان، ایران اور افغانستان کے علاقوں پر حاکم مقرر کردیا۔

خوارزم شاہیوں اور غوریوں میں طویل عرصے سے اختلافات چلے آ رہے تھے۔ غیاث الدین کی وفات کے بعد اس موقع کو غنیمت جان کر خوارزم شاہیوں نے حملے شروع کردیے۔ شہاب الدین نے ان حملوں کی مدافعت کی۔ ان شب و روز میں پنجاب اور ملتان میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ شہاب الدین ملتان پہنچا اور بغاوت کو کچل کر شمالی مغربی پنجاب کی طرف متوجہ ہوا جہاں ’کھوکھروں‘ نے فساد پرپا کر رکھا تھا۔ وہاں بھی سزائیں وغیرہ دے کر وہ واپس غزنی لوٹا۔ واپسی میں جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ (پنجاب کے ضلع جہلم میں واقع) ’دمیک‘ میں خیمہ زن ہوا تو رات ہونے پر اسے وہیں قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ 15 مارچ، بدھ کی شب 1206ء کو پیش آیا۔

شہاب الدین کے بعد ہندوستان میں ایک خودمختار اور آزاد سلطنت قائم ہوئی۔ یہ حکومت خاندان غلاماں سے موسوم ہوئی اور اس کا پہلا فرمانروا ’قطب الدین ایبک‘ تھا۔

قطب الدین ایبک
قطب الدین ایبک

اعجازالحق قدوسی لکھتے ہیں، ’سلطان شہاب الدین کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ اس نے اپنے غلاموں کی پرورش اولاد کی طرح طرح کی تھی، اس لیے اس کی موت کے بعد اس کے غلام، قطب الدین ایبک، تاج الدین یلدوز اور ناصر قباچہ سب کے سب فرمانروائی کے مرتبے کو پہنچے۔ چنانچہ تاج الدین یلدوز کو لاہور، ایبک کو دہلی جبکہ قباچہ کو ملتان اور سندھ کی حکمرانی ملی۔‘

اب ہم لاہور کے قرب و جوار میں ہیں۔ سردیوں کے ابتدائی دن ہیں۔ یکم دسمبر بروز بدھ 1210ء بوقتِ شام حکمرانِ وقت، قطب الدین ایبک چوگان کا کھیل کھیلتے اس وقت گھوڑے سے گِر پڑے جب ان کی دل نے دھڑکنا بند کردیا تھا۔ آج کا تو پتا نہیں مگر ان وقتوں میں جب ایک بادشاہ کی موت ہوتی تو سارے منظرنامے میں ایک وحشت طاری ہوجاتی تھی۔ محلات میں سازشوں کے جال بُنے جاتے۔ لوٹ مار ہوتی، خون بہتا اور سانسوں کی ڈوریاں تو ایسے ٹوٹتیں کہ وقت کا مؤرخ ان کی گنتی رکھنا بھول جاتا۔

قطب الدین ایبک چوگان کا کھیل کھیلتے اس وقت گھوڑے سے گِر پڑے جب ان کی دل نے دھڑکنا بند کردیا تھا
قطب الدین ایبک چوگان کا کھیل کھیلتے اس وقت گھوڑے سے گِر پڑے جب ان کی دل نے دھڑکنا بند کردیا تھا

وقت کی ڈوری تھامنے کے لیے، قطب الدین کے بیٹے ’آرام شاہ‘ کو دہلی کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ وہ چاہنے کے باوجود بھی حکومت نہ کرسکا۔ ہوسکتا ہے، فطرت نے اسے شاطرانہ دماغ عطا نہ کیا ہو۔ قباچہ نے خودمختاری کا اعلان کیا اور خود کو ’سلطان‘ کا خطاب دیا۔ اپنے نام کا خطبہ اور سکہ جاری کیا۔ ملک میں طوائف الملوکی کا بازار گرم تھا۔ امرائے سلطنت سر جوڑ کر بیٹھے اور ایبک کے داماد ’شمس الدین التمش‘ جو اس وقت بدایوں کے حاکم تھے انہیں بلاکر دہلی کے تخت پر بٹھایا۔ اس طرح مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے بجائے ہندوستان 4 حصوں میں بٹ گیا۔

بنگال میں حسام الدین عوض خودمختار بن بیٹھا۔ تمام پنجاب پر غزنی سے آکر تاج الدین یلدوز نے قبضہ کرلیا۔ ملتان، اُچ اور شمالی سندھ پر ناصرالدین قباچہ نے قبضہ کرلیا جبکہ آرام شاہ فقط آگرہ اور اودھ کا حاکم بنا۔

1217ء میں ناصرالدین قباچہ نے حملہ کرکے لاہور پر قبضہ کرلیا اور ’سربند‘ تک کے علاقے کو فتح کرلیا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد ’التمش‘ نے اسے واپس ملتان کی طرف کھدیڑ دیا۔ ہندوستان پر حکومت کے اعتبار سے یہ منظرنامہ کم سے کم 1221ء تک کم و بیش ایسا ہی رہا۔ اس منظرنامے میں چند دیگر کرداروں کی آمد بھی ہوئی جنہوں نے اس ساری تصویر میں ایک افراتفری اور زندگی سے بھرے کئی شہروں کے وجود میں آگ بھردی۔

مشہور جغرافیہ دان ’یاقوت الحموی‘ (1179 سے 1229ء) کے مطابق ’خوارزم‘ 2 الفاظ کا مجموعہ ہے: خوار+رزم، یعنی پکی ہوئی مچھلیوں کی ایک بڑی مقدار جو یہاں کے لوگوں کی عام خوراک ہے۔ دیگر محققین نے اس لفظ کے اشتقاق سے دیگر معنی اور مفہوم نکالے ہیں۔ کچھ بھی ہو مگر یہ ایک زبردست اور ہر حوالے سے ایک ذرخیز علاقہ رہا ہے‘۔

’نجم الدین کبریٰ‘، محمد ابن موسیٰ الخوارزمی، محمد ابن احمد، قطب الزماں، ابوبکر خوارزمی، ابل غازی بہادر، شیر محمد مونس یہ کچھ ایسے نام ہے جنہوں نے اس خطے سے دنیا کو ادب، فلسفے، تاریخ، شاعری و دیگر علمی شعبوں کے نئے اسباق پڑھائے۔

اس دھرتی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ البیرونی کی جائے پیدائش ہے۔ البیرونی 973ء میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی رگوں میں شاید خون سے زیادہ جستجو بہتی تھی۔ کھوج کا جنون تھا۔ وہ بڑے عالم، سائنسدان، تاریخدان، ریاضی دان اور زبانوں کا ماہر تھا۔

ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی
ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی

ان کی مادری زبان ’خوارزمین‘ تھی، مگر وہ ایرانی، عربی، یونانی، شامی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے بھی ماہر تھے۔ وہ کچھ عرصہ اپنی جنم بھومی خوارزم میں قیام پذیر رہے، پھر ہندوستان بھی آئے مگر زندگی کا بڑا حصہ غزنی میں ہی گزارا۔

ان کے متعدد تحقیقی کاموں میں سے ایک معروف تحقیقی کام کتاب ’الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ‘ ہے جس میں ازمنہ گزشتہ کے علمی آثاروں پر، کتاب کے 21 ابواب میں بڑے ہی عالمانہ اور تحقیقانہ انداز میں بحث کی گئی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’خوارزم کے لوگ پرشین (ایران) درخت کی ایک شاخ ہیں‘۔ خوارزم، سیحون (دریائے آمو) اور جیحون (سیر دریا) دریاؤں کا ڈیلٹائی علاقہ ہے، بالکل ایسے جیسے دریائے سندھ کا جنوبی سندھ ڈیلٹائی علاقہ ہے۔ ان دونوں دریاؤں کے بیچ میں جو علاقہ ہے اسے ’ماوراء النہر‘ کہا جاتا ہے۔

خوارزم شاہی سلطنت، وسط ایشیا اور ایران کی ایک سُنّی مسلم سلطنت تھی۔ یہ پہلے سلجوقی سلطنت تھی اور گیارہویں صدی میں ان کا دور ’انوشتگین‘ (1077ء) کے گورنر بننے سے اختتام کو پہنچا، جو سلجوقی سلطان کا غلام تھا۔ خوارزمی سلطنت اپنے وقت کے سفر کے ساتھ پھلتی پھولتی رہی۔ ’ملک تاج الدین محمد‘، ملک جلال الدین خوارزم شاہ، ایل ارسلان، سلطان تکش، سلطان شاہ، یونس خان، ملک شاہ، علی شاہ، اس سلطنت کے اہم حاکم رہے۔ ہم اب اس سلطنت کے آخری 2 حکمرانوں کا ذکر کرتے ہیں جو باپ بیٹے تھے۔

باپ یعنی ’سلطان علاؤالدین محمد بن تکش‘ کے دور میں ہی تاتاریوں والا واقعہ ہوا تھا۔ جس نے ایشیا کے پانیوں کو سُرخ خون سے بھر دیا تھا۔ ایک وحشت تھی جس کو اس واقعے نے بے قابو کردیا۔ جس آگ کی چنگاری خوارزم میں لگی تھی وہ پھیلتے پھیلتے جنوبی سندھ کے شہروں تک جا پہنچی تھی۔

اس واقعے کو ’طبقات ناصری‘ کا مصنف ’فتنہ تاتار‘ کا نام دیتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’سلطان محمد، قدر خان پر مکمل فتح حاصل کرچکا تھا کہ اچانک چنگیزی تاتاری کا فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا جو آخرکار اس اسلامی سلطنت کی تباہی و بربادی کا باعث بنا۔ چنگیز خان کا بڑا بیٹا توشی (جوجی) باپ کے حکم پر چین سے تاتاری لشکر کے عقب میں آیا۔

ادھر سلطان محمد کا رخ بھی اس طرف تھا کہ اچانک دونوں لشکروں میں مڈبھیڑ ہوگئی۔ صبح سے شام تک جنگ جاری رہی۔ رات ہوئی تو دونوں لشکر میدانِ جنگ سے ہٹ گئے۔ دونوں کے درمیان ایک چھوٹی ندی حائل تھی۔ رات کو مغلوں نے اپنے کیمپ میں زبردست آگ جلائی جس کے شعلے بلند ہوئے اور خود رات میں ہی وہاں سے چلے گئے۔

چنگیز خان
چنگیز خان

سلطان محمد نے بھی ان کی جنگی صلاحیتوں اور مردانگی کا مشاہدہ کرلیا تھا۔ دل و دماغ پر ان کا خوف مسلط تھا، اس لیے وہ بھی تعاقب کرنے کے بجائے وہاں سے واپس چلا آیا اور آگے بھی ان کے مقابلے سے گریزان رہا۔ یہی بات بعدازاں پیش آنے والی مشکلات کا سبب بنی۔ کچھ وقت کے بعد سلطان محمد خوارزم شاہ کے دماغ میں، چین کو فتح کرنے کا سودا سما گیا۔ اس نے چنگیز خان اور اس کے لشکر کے حالات کی چھان بین کے لیے بہاالدین رازی کو دوسرے لوگوں کے ساتھ بطور سفیر چین بھیجا۔

چنگیز خان نے اس کی خوب خاطر مدارت کی اور دوستی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پھر پانسو اونٹوں کا قافلہ بھیجا لیکن جب قافلہ سلطان محمد کی حدود میں اترار پہنچا تو قدر خان نامی ایک حاکم نے سفیروں اور تاجروں کو ہلاک کرکے مال و اسباب سلطان کے پاس بھیج دیا۔ صرف ایک ساربان بچ کر چنگیز خان کے دربار میں پہنچ سکا۔ اس بہے خون کا ردِعمل یہ ہوا کہ حالات خوارزمی سلطنت کے ہاتھ سے نکل گئے۔

’چنگیز نے اترار پر قبضہ کرکے قتل و غارت گری کی۔ پھر 616ھ کی عید قربان کے دن بخارا پر قبضہ کیا۔ 617ھ میں سمرقند کو فتح کرلیا۔ حالات اتنے بگڑتے چلے گئے کہ سلطان بھاگتا رہا۔ آخر درہ قیثہ میں مقابلہ ہوا۔ سلطان نے شکست کھائی اور اپنے بیٹے جلال الدین منکبرنی کے ساتھ بحیرہ قزوین (بحیرہ خضر) کے ایک جزیرے پر چھپ گیا۔ سلطان پر تاتاری وحشتون کا اتنا شدید اثر ہوا کہ اس کے معدے نے کام کرنا چھوڑ دیا اور مالیخولیا کی بیماری نے جکڑ لیا اور نومبر 1220ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔‘

تاتاریوں کی یلغار سے جب سلطان بھاگتا پھر رہا تھا تب اس کا بیٹا جلال الدین بھی اس کے ساتھ تھا۔ اسی دوران خوارزم میں اس کے بھائی ’قطب الدین‘ کو تخت پر بٹھا دیا گیا تھا، منہاج الدین جوزجانی تحریر کرتے ہیں کہ ’جلال الدین کی غیر حاضری میں اس کے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا گیا تھا۔ جلال الدین خاندانی سازشوں کے خوف سے خوارزم سے نکل کر غزنہ پہنچا۔ جب چنگیز خان کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے داماد ’فوتو قوتوین‘ (فیقونویان) کو لشکر دے کر جلال الدین کے تعاقب میں بھیجا۔ لڑائی ہوئی تو تاتاری شکست کھا گئے۔ چنگیز خان طالقان (خراسان) میں تھا۔ یہ خبر سنتے ہی اس نے اپنے لشکر کا رُخ غزنہ کی طرف موڑ دیا۔ سلطان جلال الدین خوفزدہ ہوکر پشاور کی طرف آیا جہاں جنگ ہوئی اور سلطان جلال الدین دریائے سندھ میں کود گیا اور تیروں کی بارش میں دریا پار کرگیا۔‘

جلال الدین خوارزم
جلال الدین خوارزم

اس سے آگے کے سفر میں جوزجانی شاید ہماری زیادہ مدد نہیں کر پائیں گے اس لیے ہمیں ’تاریخ جہان گشا‘ کے لکھاری ’علاؤالدین عطا ملک جوینی‘ کی مدد لینی ہوگی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سلطان نے 500 گھڑ سواروں کے لشکر کے ساتھ دریائے سندھ کو پار کیا۔ اس کے بعد وہ نزدیکی جنگل میں قیام پذیر رہا اور بہت سارے جتھے ان سے آکر ملے اور اس کی فوج کی تعداد 34 ہزار تک پہنچ گئی۔ جب یہ خبر چنگیز خان کو ملی تو اس نے حملے کے لیے لشکر بھیجا۔ یہ بات سن کر جلال الدین دہلی کی طرف روانہ ہوا۔ منگولوں نے کچھ فاصلے تک پیچھا کیا مگر پھر واپس لوٹے اور راستے میں پڑتے شہر ’ملکفور‘ (ریورٹی کے مطابق وہ شہر راولپنڈی کے نزدیک جہلم ندی پر تھا) کو برباد کرتے چلے گئے۔ خوارزم شاہ جب دہلی سے 100 میل تک آپہنچا تو اس نے شمس الدین التمش کی طرف اپنا ایلچی بھیجا اور عارضی پناہ کے لیے درخواست کی۔ درخواست انتہائی ’فضیلت‘ کے ساتھ نامنظور کی گئی اور ایلچی کو قتل کردیا گیا۔ سلطان مایوس ہوکر واپس لوٹا۔‘

سلطان جلال الدین نے 500 گھڑ سواروں کے لشکر کے ساتھ دریائے سندھ کو پار کیا
سلطان جلال الدین نے 500 گھڑ سواروں کے لشکر کے ساتھ دریائے سندھ کو پار کیا

یہاں میں جوزجانی کا ایک جملہ ضرور مستعار لوں گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’التمش نے جلال الدین کا رخ حسن تدبیر سے سندھ کی طرف موڑ دیا‘ اور اس حسن تدبیر کا نتیجہ قتل گیری، لوٹ کھسوٹ اور آگ کے شعلوں کے سوا کچھ نہ نکلا تھا۔ دہلی میں پناہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ واپس لوٹا تو اُچ کے شہر کو آگ لگاتا ہوا وہ سیہون پہنچا جہاں ایک مہینے کے قریب قیام پذیر رہا۔ چونکہ قباچہ کے مقررہ کردہ گورنر مقرر نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیے، سو اس کو اسی عہدے پر بحال رکھا۔

بعدازاں وہ جنوبی سندھ کی طرف نکل پڑا۔ اس نے اپنی فوجی چھاؤنی دیبل اور شاہ کپور (دمریلہ) کے مشہور شہروں کے بیچ میں بنائی۔ وہ یہاں طویل عرصے تک ٹھہرا رہا۔ اس وقت جنوب سندھ پر ’سومرا سرداروں‘ کا راج تھا اور ’سنان الدین چنیسر‘ حاکم تھا۔ اسے جب جلال الدین کے آنے کی خبر ملی تو وہ کشتیوں پر سوار ہوکر بھاگ نکلا۔

یہ سُن کر سلطان نے ’خس خان‘ کو ایک جری لشکر کے ساتھ بھیجا کہ وہ اونٹوں کو لے کر وہاں سے ’نہروالہ‘ (انہولواڑہ گجرات) پر حملہ کرے۔ انہولواڑہ سے واپسی پر گجرات کے شمالی علاقوں کو لوٹتے جلاتے پارینگر (ننگرپارکر کے شمال مشرق میں اپنے زمانے کا مشہور شہر اور بندرگاہ) آپہنچے۔ اس مشہور بندرگاہ کو بھی لوٹ کر ویران کردیا۔ یہ سارا لیکھا چوکھا جلال الدین خوارزم نے تقریباً یہاں 2 برس رہ کر کیا۔

کرمان اور فارس جانے سے پہلے اس نے دیبل (بنبھور) کو لوٹا اور آگ لگادی۔ ڈاکٹر ایم ایچ پنھور صاحب، ایف اے خان کی بنبھور کی کھدائی کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ’بارہویں اور تیرہویں صدی کے اس وحشی حملوں نے بنبھور کو برباد کرکے رکھ دیا۔ اس عالیشان اور ہنستے بستے شہر کو خوارزم شاہ نے 1223ء میں برباد کردیا۔ آثاروں کی کھدائی سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بنبھور کی ہر گلی میں جنگ ہوئی اور پھر اس شہر کو آگ لگا کر جلادیا گیا، ٹھیک ویسے ہی جیسے جلال الدین نے سندھ کے اور کئی آبادیوں اور شہروں کو برباد کیا۔‘

چنگاری کہاں لگتی ہے اور اس چنگاری کے نتیجے میں قبرستان کہاں آباد ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ بادشاہوں کی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔ وہ لوگ اگر ان شہروں کی دیواروں اور ویران گلیوں سے کبھی آکر یہ پوچھیں کہ تاریخ کیا ہے تو وہ زیادہ بہتر بتا سکتی ہیں کہ گزرا وقت جس میں ہمیں بغیر کسی سبب کے جلا کر ویران کردیا گیا۔ وہ بھی محض اس لیے کہ ہم خوشحال تھے اور جنگ پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور ہماری بربادی کے لیے یہ کوئی سبب نہیں تھا۔

مگر ہم تو جل چکے اور ویرانیاں ہمارے نصیب میں کسی فصل کی طرح اُگتی ہیں۔ مگر ہمارے انجام سے اگر دنیا چاہے تو بہت کچھ سیکھ سکتی ہے کہ چنگاری تو ہزاروں میل دُور لگی مگر آنگن تو ہمارے جلے جن کو یقیناً جلنا نہیں چاہیے تھا!


حوالہ جات:

۔ ’طبقات ناصری‘ ۔ منہاج الدین جوزجانی ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ Tarikh-i-Jahan-Gusha .(Translate: The history of world-conqueror.ii) Ala-adin Ata-Malik Juvaini

۔ ’تاریخ فرشتہ‘ ۔ محمد قاسم فرشتہ ۔ المیزان کتب، لاہور

۔ ’تاریخ سندھ‘ ۔ اعجازالحق قدوسی ۔ سندھیکا اکیڈمی ۔ کراچی

۔ ’پیرائتی سندھ کتھا‘ ۔ ایم۔ ایچ۔ پنھور ۔ عمرسومرو اکیڈمی، کراچی