‘پیپلز پارٹی رہنماؤں سے ایسا برتاؤ ہے جیسے ڈکیت کے ساتھ ہوتا ہے‘

09 اکتوبر 2019

ای میل

اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ میں کوئی دہشت گرد نہیں کہ میرے گھر میں گھسا جائے—فوٹو: ڈان نیوز
اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ میں کوئی دہشت گرد نہیں کہ میرے گھر میں گھسا جائے—فوٹو: ڈان نیوز

صوبائی وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے پیپلز پارٹی رہنماؤں کے خلاف گرفتاری پر حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ ایسا برتاؤ جاری ہے جیسے کسی ڈکیت کے ساتھ ہوتا ہے۔

کراچی میں مشیر جیل خانہ جات اعجاز جکھرانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو محض الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا جارہا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان ان کی ہمشیرہ علیمہ خان، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت دیگر حکومتی ارکان کے خلاف انکوائری ہورہی ہے لیکن انہیں حراست میں نہیں لیا جاتا ہے۔

مزیدپڑھیں: پیپلز پارٹی نے ‘یکطرفہ احتساب‘ پر حکومت کو خبردار کردیا

سعید غنی نے قدرے جذباتی انداز میں الزام لگایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو عوام کے حق میں بات کرنے والے کےخلاف لگا دیا جاتا ہے اسی وجہ سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چین میں ایک خواہش کا اظہار کیا، سعودی عرب اور چین میں اپوزیشن کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اپوزیشن نہ رہے۔

وزیراطلاعات سندھ نے سوال اٹھایا کہ چیئرمین نیب اور نیب کا ادارہ کیا صرف ہمارے لیے بنایا گیا ہے؟۔

سعید غنی نے کہا کہ ’یہ سارا ڈرامہ مہنگائی اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا جارہا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے پولیس پر حملہ کیا، قیادت معافی مانگے'

انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کرنا ہے تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کےخلاف کیاجائے کیونکہ چیئرمین نیب خود اپنے انٹرویو میں اقرار کرچکے ہیں کئی حکومتی ارکان کے خلاف کیس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب سیاسی بنیادوں پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کےلیے ڈھونگ رچایا جارہا ہے، یہ لوگ پیپلزپارٹی قیادت کےخلاف سلطانی گواہ بنانے میں مصروف ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اعجازجاکھرانی کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں ہراساں کیا گیا اور اب ان کے کزن اور جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے چیئرمین عباس جاکھرانی کو گرفتار کرلیا محض اس لیے کہ ان کے اکاؤنٹ پر میں ایک ٹھیکیدار نے پیٹرول کی مد میں رقوم ادا کی تھی۔

صوبائی وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے بتایا کہ اعجاز جاکھرانی اور ان کے کزن عباس جاکھرانی ضمانت پر ہیں لیکن عباس جاکھرانی کو گرفتار کرلیا گیا۔

مزیدپڑھیں: احتساب سب کا ہوگا ورنہ دما دم مست قلندر ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام کسی پر بھی لگایا جاسکتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن پربھی آمدن سےزائد اثاثے بنانے کا الزام لگا لیکن کچھ ثابت نہ ہوسکا۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ قانونی تقاضے پورے کرکے تلاشی لیتا ہے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ’پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور افتخار چوہدری نہیں ہیں، جب وہ یہ بات کہیں کہ اس ملک میں احتساب ہورہا ہے اس سے پولیٹیکل انجینئررنگ کا تاثر ابھررہا ہے، وہ جب یہ کہیں کہ آزادی اظہار اور میڈیا کے خلاف پابندیاں لگائی جارہی ہیں، تو اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہے‘۔

مزیدپڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: سرکاری اداروں کو ناکارہ بنا کر کوڑیوں کے دام خریدا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ

اس موقع پر اعجاز جاکھرانی نے الزام لگایا کہ میرے خلاف انکوائری مخالفین کے کہنے پر کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ڈھائی سال سے انکوائری جاری ہے، میں کوئی دہشت گرد نہیں کہ میرے گھر میں گھسا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین مجھ سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں مجھے انتخابات میں شکست نہیں دے سکتے۔