حکومت کا سندھ سے ارسا کے 2 اراکین کی تعیناتی سے انکار

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

ارسا ایکٹ میں مارشل لا کے تحت جاری کردہ حکم کے مطابق ترمیم نہیں کی گئی تھی—تصویر: وکی میڈیا
ارسا ایکٹ میں مارشل لا کے تحت جاری کردہ حکم کے مطابق ترمیم نہیں کی گئی تھی—تصویر: وکی میڈیا

اسلام آباد: سابق صدر پرویز مشرف کے 2 دہائی پرانے حکم نامے کو ایک طرف رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے 5 اراکین پر مشتمل انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں سندھ سے 2 اراکین کی نامزدگی سے انکار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت آبی ذخائر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سال 2000 میں اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کے حکم کے مطابق سندھ کو پہلے سے مقرر کردہ رکن کے علاوہ وفاقی رکن بھی نامزد کرنے کا اختیار دینا غیر مجاز اور غیر قانونی ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ ارسا ایکٹ میں مارشل لا کے تحت جاری کردہ حکم کے مطابق ترمیم نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صوبوں اور وفاق کی ارسا پر کنڑول حاصل کرنے کی جدوجہد

ادھر وزیر آبی ذخائر فیصل واوڈا نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے صوبے سے ایک اور ارسا رکن کی تعیناتی کے معاملے پر دیے گئے بیان کا نوٹس لیا اور وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’ارسا ایکٹ 1992 کے تحت سندھ سے ایک اضافی رکن کو مقرر نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ہر صوبے سے ایک رکن نامزد ہوگا‘۔

خیال رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے ارسا کے 2 اراکین کی نامزدگی پر پنجاب کے احتجاج کے باعث سال 2010 سے ارسا کے وفاقی رکن کا عہدہ چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن قائم مقام حیثیت سے سنبھال رہے ہیں۔

اس سے قبل 2000 سے 2010 تک اس عہدے پر سندھ کی پیش کردہ تجویز کے مطابق تقرر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: "ارسا میں تبدیلیوں کے لیے پارلیمنٹ کی اجازت درکار"

تاہم وفاقی حکومت کے ہی کچھ دھڑوں نے نجی طور پر اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ہی ارسا کا ہیڈ کوارٹر لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور سندھ کو ارسا کے وفاقی رکن کے لیے نامزدگی کا اختیار بھی ان کا حکم تھا جس کا مقصد صوبے کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت ختم کرنا تھا۔

چونکہ بنیادی مقصد بے نتیجہ رہا چنانچہ پنجاب حکومت، سندھ سے 2 اراکین کی نامزدگی کی مخالفت میں سامنے آگئی جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے سندھ کو وفاقی رکن نامزد کرنے کی اجازت نہیں دی اور یوں ارسا ایکٹ کے تحت یہ عہدہ خود بخود چیئرمین ایف ایف سی کے پاس چلا گیا تھا۔

اس بارے میں فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ایگزیکٹو آرڈر سپریم کورٹ پہلے ہی معطل کرچکی ہے اور عدالت نے ارسا کی غیر جانبداری اور ساکھ یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کو خود رکن نامزد کرنے کا اختیار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ربیع فصل: آبی ذخائر گزشتہ برس کے مقابلے میں وافر ہیں، ارسا

ارسا ایکٹ کے تحت چیئرمین کا عہدہ بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور وفاقی حکومت کے اراکین ایک ایک سال کے لیے سنبھالیں گے اور ارسا کے 5 اراکین میں سے ہر رکن صوبوں یا دارالحکومت کی نمائندگی کرے گا۔