غیر ملکی فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی پر پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ کیس دائر کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ کیس دائر کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کی 4 اپیلوں کو مسترد کردیا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے 14 اکتوبر کو پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا جائزہ لینے کے لیے ای سی پی کا اجلاس 18 ماہ بعد یکم اکتوبر کو ہوا تھا جس میں ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر ملکی اکاؤنٹس کو ای سی پی میں جمع سالانہ آڈٹ رپورٹس سے چھپایا گیا تھا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

مزید پڑھیں: ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے ذرائع ای سی پی کو فراہم کرنے کا حکم

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا۔

جس کے بعد گذشتہ برس مارچ میں پی ٹی آئی کو ایک ماہ کے دوران بیرونِ ملک سے ہونے والی فنڈنگ کے مکمل آڈٹ کے لیے اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے مینڈیٹ کو بعد میں ایک ماہ کے بجائے غیر معینہ مدت تک توسیع دے دی گئی تھی۔

تاہم اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کے حوالے سے پی ٹی آئی نے متفرق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جن میں سے ایک درخواست میں پی ٹی آئی نے اکبر ایس بابر پر اسکروٹنی کے عمل کی معلومات میڈیا کو لیک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ کیس کی کارروائی کو ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں زیر بحث لا کر پی ٹی آئی کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے زیرِ استعمال 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف

ایک اور درخواست میں پی ٹی آئی نے اسکروٹنی کمیٹی میں اس کی غیر حاضری میں سماعت کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کمیٹی کی آڈر شیٹ پڑھی تھی جس میں ہر سماعت میں پی ٹی آئی نمائندوں کی موجودگی کا اندراج تھا۔

اسی کیس میں دائر کردہ ایک اور درخواست میں پی ٹی آئی نے سوال کیا تھا کہ اکبر ایس بابر کس حیثیت سے اسکروٹنی کی کارروائی میں پیش ہوتے ہیں جبکہ وہ اب پارٹی کے رکن بھی نہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل نے اس الزام کو ای سی پی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان دونوں اداروں نے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی رکن تسلیم کیا تھا۔

فنڈنگ کیس عوام کے سامنے اصل حقائق لے کر آئے گا

الیکشن کمیشن کے باہر پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اور منحرف رکن تحریک انصاف اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی فنڈنگ کی سکروٹنی کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

الحمداللہ تحریک انصاف کی چاروں درخواستوں کو الیکشن کمیشن نے مسترد کیا جبکہ تحریک انصاف اس سے پہلے بھی الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹس میں درخواستیں دے چکی تھی۔

تحریک انصاف کیس سے بھاگنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے حالانکہ سکروٹنی کمیٹی کے 2 درجن سے زیادہ اجلاس ہو چکے ہیں۔ قانون کہتا ہے ہر سیاسی ورکر تک سیاسی جماعت کی تفصیلات پہنچ تک ہو اور پی ٹی آئی ہمیشہ میری رکنیت پر اعتراض کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے خلاف فنڈنگ کیس عوام کے سامنے اصل حقائق لے کر آئے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کے ساتھ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے لیکن ہم نے جو اصول دوسروں کے لیے طے کیے تھے وہ اپنے لیے بھی لاگو کرنا ہوں گے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کی وجہ تبدیلی کے اصولوں کو اپنے اوپر لاگو نہ کرنا ہے، میں حکومتی ٹیم کو تحریک انصاف کی ٹیم نہیں مانتا۔