بھارت کے جوہری معاملات میں تبدیلیوں سے باخبر ہیں، جنرل زبیر محمود

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

جنرل محمود حیات کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مقبوضہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے — فوٹو: پی ٹی وی
جنرل محمود حیات کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مقبوضہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے — فوٹو: پی ٹی وی

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور ہمارے علم میں ہے کہ بھارت جوہری معاملات میں خطرناک تبدیلیاں لا رہا ہے جس کے بارے میں مکمل طورپر آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان جوہری تبدیلیوں میں فورسز کی تعیناتی، بیلسٹک میزائل ڈیفنس کی تیاری اور ان کی تنصیب، اینٹی سیٹیلائٹ ٹیسٹ شامل ہیں۔

جنرل زبیر محمود حیات نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پاس جواب دینے کے لیے بااعتماد تزویراتی حکمت عملی ہے جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو تمام ممکنہ آپشنز فراہم کرتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ امن کی بحالی پر توجہ دی جائے۔

مزیدپڑھیں: آرمی چیف کی چینی فوجی قیادت سے ملاقات، کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

رسالپور پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاس آوٹ ہونے والے کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جنرل زبیر محمود زبیر حیات نے دوٹوک کہا کہ ’ہندوتوا کی علمبردار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ناصرف بھارت میں اقلیتوں کے لیے حالات مشکل کردیے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم پاکستان اور پورے خطے کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مقبوضہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل نکلا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کی چینی فوجی قیادت سے ملاقات، کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

جنرل زبیر محمود حیات نے واضح کیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتے ہیں اور وادی میں 60 دن سے زائد جاری کرفیو اور مواصلات پر پابندی انسانی شعور کے لیے ناقابل یقین ہے اور انسانی حقوق کی خلاف کھلی وزری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ کشمیر ہمارے خون میں دوڑتا ہے، پاکستان کشمیر ہے اور کشمیر پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان نے پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف جانی اور مالی نقصان برداشت کیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر جغرافیائی مسئلہ نہیں، پاکستان کی روح کا حصہ ہے، آرمی چیف

ان کا کہنا تھا کہ اگر امن کے لیے ہماری کاوشوں کو ہماری کمزوری سمجھا گیا تو قوم، ملکی سالمیت اور خود مختار ریاست کے مفاد پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ فوج کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے ہر محاذ پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہاتھ ملایا جائے تو ہاتھ ملائیں گے لیکن آنکھیں دکھائی تو آنکھیں دکھائیں گے‘۔

خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس وطن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔