حزب المجاہدین کا کشمیریوں کی آزادی کیلئے 'ٹھوس اقدامات' اٹھانے پر زور

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

سید صلاح الدین حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ہیں—فائل فوٹو: طارق نقاش
سید صلاح الدین حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ہیں—فائل فوٹو: طارق نقاش

مظفر آباد: پاکستان کے حامی کشمیری رہنما نے آزادی کی تنظمیوں کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی جانب مارچ کے اقدام پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے زیر تسلط علاقے میں مظلوم کشمیریوں کی آزادی کے لیے 'ٹھوس اقدامات' کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متنازع خطے میں بھارت کے قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے سب سے بڑے گروپ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی جانب سے ایل او سی کی جانب مارچ کا انعقاد 'جائز اور صحیح راہ' پر تھا۔

جسکول کے مقام کے قریب جے کے ایل ایف کے دھرنے کے شرکا سے فون کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں خطرناک صورتحال کی جانب عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ دلانے کے لیے آپ کا ایل او سی مارچ کا اقدام وقت کی اہم ترین ضرورت تھا'۔

مزید پڑھیں: حزب المجاہدین کا مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فوج بھیجنے کا مطالبہ

قبل ازیں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے تجویز پیش کی کہ دنیا کی توجہ تقسیم سے متعلق لائن کی جانب مبذول کروانے کے لیے ایک 'قومی عوامی تحریک' کی ضرورت تھی۔

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق آزاد جموں کشمیر انتظامیہ کے عہدیداروں نے چناری ریسٹ ہاؤس میں جے کے ایل ایف کے رہنماؤں سے بات چیت کی، ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں انہیں مارچ کی کال واپس لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں امن فوج کو تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو انتہائی ضروری فوجی امداد فراہم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فوج کو تعینات کیا جائے یا پاکستان، لائن آف کنٹرول کے اُس پار اپنی فوج کو بھیجے۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے جبکہ وہاں مواصلاتی نظام بھی معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی درد بھری داستانیں سامنے آنے لگیں

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیاں کو 2 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور مسلسل لاک ڈاؤن سے مقبوضہ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

فورسز کی جانب سے سختیوں اور پابندیوں کے باوجود کشمیری عوام کی بڑی تعداد وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے مظاہرے کرچکی ہے، مظاہروں کے دوران شیلنگ اور پیلٹ گن کے چھروں سے درجنوں افراد زخمی جبکہ ہزاروں گرفتار کیے جاچکے ہیں۔