ججز نظر بندی کیس: مشرف کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی استدعا مسترد

10 اکتوبر 2019

ای میل

سابق فوجی رہنما کے مفرور ہونے کے باعث مقدمے کی کارروائی میں تعطل ہے—فائل فوٹو: اے پی
سابق فوجی رہنما کے مفرور ہونے کے باعث مقدمے کی کارروائی میں تعطل ہے—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ختم کرنے اور ججوں کو قید کرنے کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے سیشن کورٹ منتقل کرنے کی درخواست خارج کردی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس مینا گل حسن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ کی درخواست پر سماعت کی۔

مذکورہ بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران اختر شاہ کی مسلسل غیر حاضری کے باعث درخواست خارج کی۔

سابق فوجی حکمران نے دہشت گردی کی فرد جرم اور کیس کو اے ٹی سی سے سیشن کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست ابتدائی ایف آئی آر کی بنیاد پر دائر کی تھی جو 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 60 ججوں کو نظربند کرنے کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت درج کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ججز نظربندی کیس: مشرف کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

تاہم 2013 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے پولیس کے سابق فوجی آمر کے خلاف انسداد دہشت گردی کا قانون نافذ کرنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ ججز کو قید کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

خیال رہے کہ اے ٹی سی جنرل (ر) پرویز مشرف کو ججز نظر بندی کیس میں اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے جو مارچ 2016 سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

مذکورہ کیس میں استغاثہ ملزم کے خلا ف تمام ترشواہد پیش کرچکا ہے لیکن سابق فوجی رہنما کے مفرور ہونے کے باعث مقدمے کی کارروائی میں تعطل ہے۔

یاد رہے کہ 11 اگست 2009 کو ایڈوکیٹ محمد اسلم گھمن کی درخواست پر سیکریٹریٹ پولیس نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ججز نظر بندی کیس درج کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ججز نظر بندی کیس: پرویز مشرف کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

جس میں پرویز مشرف پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 344 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ سابق صدر نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے فوراً بعد عدالت عظمیٰ کے 60 ججز کو اپنی رہائش گاہ میں قید کردیا تھا۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ استغاثہ کی متعدد درخواستوں کے باوجود نظر بندکیے گئے نہ تو کوئی جج اور نا ہی ان کے اہلِ خانہ کا کوئی شخص اے ٹی سی کے سامنے پیش ہوا مزید یہ کہ استغاثہ نے نظر بند ججز کے نام بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں کیے۔

مذکورہ قانونی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر جنرل (ر) مشرف کے وکیل اختر شاہ نے ان پر سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست دی۔

یہ بھی پڑھیں: مشرف کمرہ عدالت سے فرار، تفصیلی فیصلہ جاری

درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کا اطلاق کیا گیا لیکن تفتیش کے دوران یہ الزام ثابت نہ ہوسکا اور نہ تو پراسیکیوشن اور نہ ہی استغاثہ نے اس سے منسلک شواہد پیش کیے۔

ہائی کورٹ کے ہی ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جسٹس نورالحق قریشی اور جسٹس ریاض پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کہا تھا کہ وکیل کے الزامات کو شواہد نہیں سمجھا جاسکتا۔


یہ خبر 10 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔