پہلی مرتبہ ادب کے 2 نوبل انعامات کا ایک ساتھ اعلان

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2019

ای میل

سال 2019 کا انعام آسٹریا کے ناول نگار کو دیا گیا ہے — فوٹو: نوبل پرائز ٹوئٹر
سال 2019 کا انعام آسٹریا کے ناول نگار کو دیا گیا ہے — فوٹو: نوبل پرائز ٹوئٹر

دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبل پرائز نے جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی مرتبہ ایک ساتھ ادب کے 2 نوبل انعامات کا اعلان کردیا۔

نوبل پرائز کمیٹی ہر سال 6 شعبہ جات میں نوبل انعامات کا اعلان اکتوبر میں کرتی ہے اور انعام جیتنے والے افراد کو ہر سال دسمبر میں انعامات دیے جاتے ہیں۔

تاہم نوبل پرائز کمیٹی نے گزشتہ برس ادب کے نوبل انعام کا اعلان نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی اسکینڈل کے بعد 2018 کا ادب کا نوبل انعام نہ دینے کا اعلان

گزشتہ برس نوبل انعام دینے والی ادب کی کمیٹی میں جنسی ہراساں کا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس پر ادب کی کمیٹی کے ججز یا ارکان نے استعفیٰ بھی دیا تھا۔

گزشتہ برس اپریل میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ نوبل پرائز کی ادب کمیٹی کی جج یا رکن کے شوہر اور سویڈن کے بااثر ترین ادبی شخص ژاں کلاڈ آرنالٹ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا ’ریپ‘ کرنے کے الزامات سامنے آنے پر نوبل ادب کمیٹی کے تین ارکان عہدوں سے الگ ہوگئے تھے۔

ابتدائی طور نوبل پرائز کمیٹی نے اس پر کوئی بیان نہیں دیا تھا لیکن بعد ازاں کمیٹی نے اسی معاملے کی وجہ سے سال 2018 میں ادب کا نوبل انعام نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2019 میں بیک وقت 2 انعامات دیے جائیں گے۔

اور اب نوبل پرائز فاؤنڈیشن نے ایک ساتھ ادب کے 2 نوبل انعام دینے کا اعلان کردیا۔

کمیٹی کے مطابق سال 2018 کا ادب کا نوبل پولینڈ کی خاتون لکھاری و ناول نگار 57 سالہ اولگا توکارزک جب کہ 2019 کا ادب کا نوبل انعام آسٹریا کے ناول نگار و لکھاری 76 سالہ پیٹر ہینڈکے کو دیا جائے گا۔

دونوں ناول نگار و ادیبوں کو ان کی ادبی خدمات، اچھوتے خیالات اور آسان زبان میں اظہار خیال کی وجہ سے ادب کا نوبل انعام دیا جا رہا ہے۔

نوبل پرائز فاؤنڈیشن نے رواں برس کے نوبل انعامات کے اعلانات کا آغاز رواں ماہ 7 اکتوبر سے شروع کیا تھا اور اب تک کمیٹی 4 کیٹیگریز کے انعامات کا اعلان کر چکی ہے۔

7 اکتوبر کو طب کے نوبل انعام کا اعلان کیا گیا تھا جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے سر پیٹر ریٹکلیف، ہارورڈ یونیورسٹی کے ولیم کیالین اور جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے گریگ سمینزا کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان تینوں سائنسدانوں کا تحقیقی کام خون کی کمی اور کینسر وغیرہ کے نئے طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔

فزکس کے نوبل انعام کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور یہ انعام امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے تین سائنسدانوں امریکی نژاد کینیڈین سائنس دان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا جائے گا۔

ان تینوں سائنس دانوں نے کائنات کی تخلیق میں مدد کرنے اور نئے سیاروں کی دریافت میں مدد کرنے کے کام پر دیا جائے گا۔

کیمسٹری کے نوبل انعام کا اعلان 9 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور مشترکہ طور پر امریکا، برطانیہ اور جاپان کے تین سائنسدانوں کو انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

کیمسٹری کا نوبل انعام امریکی سائنس دان 97 سالہ جان گڈناف، جاپانی سائنس دان آکیرا یوشینو اور و برطانوی سائنس دان ایم اسٹینلے وائٹنگھم کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تینوں سائنس دانوں کو ان کی لیتھیم آئن بیٹریز کی ایجادات پر دیا جائے گا۔

لیتھیم آئن بیٹریز دراصل موبائل فونز، لیپ ٹاپ، الیکٹرک گاڑیوں، کمپیوٹرز اور دیگر ایسے کمپیوٹر آلات میں استعمال کی جاتی ہیں، یہ بیٹریاں متعدد مرتبہ ریچارج کیے جانے کے علاوہ سالوں تک چلتی ہیں۔