یکساں نصاب کا فائدہ؟

20 اکتوبر 2019

ای میل

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کئی موقعوں پر اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ پورے پاکستان میں پہلی تا بارہویں جماعت تک یکساں نصاب پڑھایا جائے۔

پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم بھی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگلے تعلیمی سال تک صوبے میں پہلی تا پانچویں یکساں نصاب نافذ کردیا جائے گا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یکساں نصاب سے ان کی کیا مراد ہے، اس کوشش کے پیچھے مقاصد کون سے ہیں اور پاکستانی بچے اس یکسانیت سے کیا کچھ حاصل کریں گے۔

چلیے اختیارات یا 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیمی شعبے میں وفاقی حکومت کے محدود ہوجانے والے اختیارات پر فی الحال بات نہیں کرتے۔ یہ ہر طرح سے ایک اہم موضوع ہے لیکن اسے پھر کبھی زیرِ بحث لائیں گے۔ اس تحریر میں میری توجہ کا محور یکسانیت ہے اور یہ کہ اس سے کیا مراد ہے اور کیا مراد نہیں ہے۔ پھر تھوڑی بہت بات اس موضوع پر کی جائے گی کہ ’نصاب‘ سے مراد کیا ہے؟

مجھے مختلف ذرائع سے جو کچھ سننے پڑھنے یا دیکھنے کو ملا ہے اس کے مطابق یہ تاثر کافی عام ہے کہ یکساں تعلیم/ نصاب/ کتابوں/ امتحانی عمل کے ذریعے ملک کے بچوں کے درمیان تفریقات میں کمی یا سرے سے ہی خاتمہ لائے جاسکے گی۔ تمام صوبوں، شہروں اور دیہی علاقوں کے بچے بلا صنفی، سماجی و معاشی امتیاز کم و بیش یکساں کورس پڑھیں گے اور ان کا امتحان بھی یکساں انداز میں لیا جائے گا۔ کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس طرح بچوں میں پائی جانے والی تفریقات کو ختم کیا جاسکے گا اور ’مساوی مواقع‘ کی دستیابی ممکن ہوسکے گی۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یکساں نصاب پر اگر عمل درآمد ہوا تو اس سے تفریقات میں کمی لانے میں مدد نہیں ملے گی۔ پاکستان میں بچوں کا تعلق مختلف سماجی و اقتصادی طبقات اور مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے ہے۔ بچوں کی تعلیم پر کہیں زیادہ سرمایہ مختص کیا جاتا ہے اور کہیں کم، تمام بچے زبان پر یکساں انداز میں عبور نہیں رکھتے ہیں، ان کا تعلق مختلف ثقافتی و مذہبی پس منظر سے ہے جبکہ یہ الگ الگ جغرافیائی ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یکساں نصاب، ایک جیسی کتابوں یا یکساں امتحانی عمل سے تفریقات میں کمی واقع نہیں ہوگی الٹا اس طرح تفریقات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اگر امتحانات بہت ہی مشکل ہوئے تو ان میں کامیابی حاصل کرنے والوں اور ناکام ہوجانے والوں کے درمیان تفریق پیدا ہوگی۔ کسے ملازمتوں تک رسائی مل سکتی ہے اور کسے نہیں اس تناظر میں جب میٹرک پاس اور میٹرک فیل کے درمیان فرق کو ادارتی صورت دی جائے گی تو تفریقات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔

یکساں تعلیمی زبان (مثال کے طور پر اردو) کا نفاذ عمل میں لانے سے اگر گھر میں بولی جانے والی یا مادری زبان نظر انداز ہوجائے تو یوں ہم درحقیقت سیکھنے کے عمل میں بچوں کے لیے مشکلات کر رہے ہوتے ہیں۔

اگر نصاب اور کتب یکساں ہوں تو سندھ میں رہنے والے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یکساں کتابیں پڑھنی ہوں گی اور یوں ان کی علاقائی ثقافتیں، روایات، تاریخ اور ادب نظر انداز ہوجائے گا (اب کیا بلھے شاہ کا کلام سرے سے نہ پڑھایا جائے یا پھر سب کو لازماً پڑھایا جائے؟)

چند روز قبل وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں ’ایک قوم‘ وجود میں لانے کے لیے یکساں نصاب ضروری ہے۔ اگرچہ یہ تو واضح نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں کیا کہنا چاہ رہے تھے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ قوم میں اتحاد و اتفاق کے پہلو کا تعلق صرف غیر مساوات کے خاتمے سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے نظریاتی یکسانیت کے تصور کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

مجھے کوئی ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یکساں نصاب، کتب اور امتحانی طریقہ کار نے ایک بڑے اور گونا گونیت سے بھرپور لوگوں کے گروہ کو نظریاتی طور پر زیادہ یکسانیت یا ہم آہنگی سے بھرپور گروہ بنانے کی راہ ہموار کی ہو۔ کیا اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین نے اس حوالے سے مدد فراہم کی؟ کیا اس حوالے سے کوئی ثبوت دستیاب ہے؟ آخر وہ کون سی بات ہے کہ جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یکساں نصاب سے ہمیں ’ایک قوم‘ بننے جیسے مشکل مقصد کا حصول ممکن ہوگا؟ جس کے نفاذ کی ہم زیادہ صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

اس قسم کے تجربے پر بھی ایک بڑی لاگت آئے گی۔ ہم یہ تو بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نوعیت کے تجربے میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یکساں نصاب، مجوزہ علمی کتابوں اور طے شدہ امتحانی نظام کو تمام اسکولوں میں متعارف کروانے میں ڈھیر سارا پیسہ اور سیاسی سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔ ان وسائل کو اگر شعبہ تعلیم میں دیگر جگہوں پر خرچ کیا جائے تو زیادہ اچھی بات ہوگی۔ ہمیں اپنی توجہ ان متعدد اصلاحات پر مرکوز کرنی چاہیے جن کی تعلیمی شعبے میں اشد ضرورت ہے۔ کیا ہمیں اس فرضی ’یکساں نصاب‘ متعارف کروانے سے زیادہ ان اصلاحات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے؟

پاکستان میں کم و بیش 2 کروڑ 20 لاکھ 5 سے 16 برس کے بچے اسکول سے باہر ہیں۔ سرکاری یا کم فیس کے لینے والے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت غیر معیاری تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ان مسائل کو چھوڑ کر ہم اپنے وسائل، وقت اور سیاسی سرمایہ یکسانیت کے معاملات پر لگانے پر تُلے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یکساں نصاب، علمی کتب اور امتحانی عمل، کا نفاذ اگر ممکن بھی ہوتا تو بھی اس سے اسکولوں تک رسائی اور معیار جیسے اہم مسائل حل نہیں ہوں گے۔ یکساں نصاب کس طرح 2 کروڑ 22 لاکھ کو اسکول میں داخل کروانے میں مددگار ثابت ہوگا؟

بچوں کے اسکول میں داخلے کی شرح بڑھانے کے لیے زیادہ اسکولوں، اساتذہ، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور اسکولوں میں داخلے کا رجحان بڑھانے کی خاطر خصوصی مراعات دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نصاب کی یکسانیت سے ان میں سے کسی ایک معاملے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ معیارِ تعلیم کا بڑی حد تک تعلق کتب، اساتذہ کے فن تدریس اور نصابی علم، ٹیچر میں ترغیب پیدا کرنے، اور تعلیم کی صورتحال کا تعین کرنے کے معیاری طریقے درکار ہوتے ہیں لیکن ان شعبوں میں سدھار لانے کے لیے یکسانیت کون سا کردار ادا کرسکتی ہے؟

حکومت یکسانیت کو برابری (equity) سے جڑے مسائل ختم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاہم میں یہاں بھی یہی کہوں گا کہ یکسانیت کے ذریعے برابری قائم نہیں کی جاسکتی۔ بچوں کے حالات، ان کی ضروریات، صلاحیتوں اور خواہشات کی گونا گونیت پر مبنی فریم ورک کی حدود میں رہتے ہوئے برابری سے جڑے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ اس حوالے سے یکساں نصاب سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اُلٹا برابری سے جڑے مسائل بد سے بدتر ہوں گے۔

برابری، اسکولوں تک رسائی اور معیار سے جڑے مسائل کے حل کے لیے شعبہ تعلیم کو متعدد اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ تاہم یکساں نصاب، کتب اور/یا امتحانی نظام کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس عمل سے کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ حل نہیں ہوگا جسے ہم حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر یکساں نصاب سے متعلق اس اصلاحاتی عمل کا نفاذ ممکن ہو بھی جاتا تو اس کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑیں گے جبکہ اس کے نتیجے میں تعلیم سے جڑے دیگر شعبوں کو ٹھیس بھی پہنچے گی۔

یہ مضمون 4 اکتوبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔