سعودی عرب میں 579 پاکستانی قیدی رہا

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2019

ای میل

مزید 3 ہزار 396 افراد کو ڈپورٹیشن کیمپوں سے بھی رہا کیا جاچکا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
مزید 3 ہزار 396 افراد کو ڈپورٹیشن کیمپوں سے بھی رہا کیا جاچکا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ سعودی عربی میں شاہی معافی کے تحت 5 سو 79 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر شیخ کا کہنا تھا کہ ’قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر متعلقہ محکمے کے نمائندے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں‘۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ کو ان رہا ہونے والے قیدیوں کی معلومات فراہم کردی گئیں تاکہ اس کے اراکین اجلاس میں ان کا تجزیہ کرسکیں۔

سعودی عرب میں زیادہ تر افراد دھوکا دہی، منشیات اسمگلنگ، غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے، چوری، جیب کاٹنے اور رشوت کے الزام میں قید تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی جیلوں سے پاکستانیوں کی رہائی میں تاخیر پر اپوزیشن کو تشویش

تاہم ان میں سے ایک شخص ریپ کیس میں بھی ملوث تھا جبکہ 579 میں سے رہا ہونے والے زیادہ تر افراد کو منشیات اسمگلنگ اور دھوکا دہی کے الزام پر ایک سے 5 سال کی سزا ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق رواں برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے بعد سے ان 579 افراد کے علاوہ مکہ مکرمہ، ریاض، دمام، تبوک اور جوف سے بے دخل کیے گئے مزید 3 ہزار 396 افراد کو ڈپورٹیشن کیمپوں سے بھی رہا کیا جاچکا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد نے رواں برس فروری میں وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزارت برائے سمندر پار پاکستانی اور ترقی انسانی وسائل کے تحت کام کرنے والے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر کاشف نور نے اس بارے میں بتایا کہ پاکستانی کو افرادی قوت بیرونِ ملک بھجوانے میں متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا مطالبہ

ان کے مطابق 16 ممالک کو مینوفیکچرنگ، فشریز، زراعت اور سروسز کے شعبے میں ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔

تاہم پاکستانی ورکرز میں پیشہ وارانہ رویے کا فقدان اور ذاتی صلاحیتوں کی کمی ہے، وہ ہمیشہ کام کی جگہ پر دیر سے پہنچتے ہیں، نمازوں کا طویل وقفہ لیتے ہیں، اگر پاکستانی کارکنان دیگر ممالک کے ورکر سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے پالیسیوں میں تبدیلی کرکے افرادی قوت منگوانے کے بجائے اپنے شہریوں کو ترجیح دینی شروع کردی ہے جس کا اثر تمام ترقی پذیر ممالک پر پڑا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی کوریا کو لیبر فورس اور پیشہ وارانہ افرادی قوت درکار ہے اور وہ مزدوروں کو 15 سو سے 2 ہزار ڈالر تک ادا کرتے ہیں، 8 ہزار 500 سے زائد کارکنان جنوبی کوریا بھیجے جاچکے ہیں جو غیر ملکی زر مبادلہ کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ترکی، پاکستان میں سیاحت، ہوٹل صنعت کیلئے افرادی قوت تیار کرے گا‘

اسی طرح برطانیہ نے قابلیت کی حامل نرسزکا مطالبہ کیا تھا جنہیں ڈھائی ہزار پاؤنڈز ادا کرنے کی پیشکش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نرسز کے معاملے میں صرف ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ انگریزی نہیں بول پاتیں جبکہ برطانیہ میں نوکریوں کے لیے انگریزی زبان کے ٹیسٹ آئیلٹس میں 7 بینڈ لینا لازمی ہے جو 2 سال کے عرصے میں صرف 2 نرسوں نے حاصل کیا۔


یہ خبر 11 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔