سنگین خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث معیشت مشکلات کا شکار

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

مالی سال 2020 تک مہنگائی میں 13 فیصد تک اضافے کا امکان ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
مالی سال 2020 تک مہنگائی میں 13 فیصد تک اضافے کا امکان ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سنگین خساروں اور غیر ملکی زرمبادلہ میں کمی کے باعث درپیش ایک بڑے معاشی (میکرواکنامک) بحران کی وجہ سے پاکستان کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے اپنی ’ساؤتھ ایشیا فوکس: میکنگ ڈی سینٹرلائزیشن ورک‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا کہ معیشت میں استحکام کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیع پروگرام کی وجہ سے مستقبل قریب میں پاکستان کی شرح نمو کم رہنے کا امکان ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ درمیانی مدت کی شرح نمو مسابقت کو فروغ دینے اور مستحکم ترقی کے حصول کے لیے ضروری اصلاحات پر عملدرآمد میں ملکی صلاحیت پر مبنی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام کو شدید خدشات لاحق، عالمی بینک

رپورٹ میں کہا گیا کہ میکرواکنامک ایڈجسٹمنٹ کے دوران غربت کے خاتمے میں کمی پر پیش رفت محدود ہوجائے گی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں میکرواکنامک استحکام کو بحال کرنے کے اقدامات شرح نمو کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ کم ہوکر 3.3 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔

عالمی بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں میں ناقص معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں گردشی قرضوں کی شرح میں اضافہ جبکہ مالی اور بیرونی بفرز کو نقصان پہنچا جس سے معاشی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

عالمی بینک نے کہا کہ پاکستان کو ان بفرز کو بحال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خاص طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل سے نجی بیرونی فنانسنگ تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے اور کمزور ہوتی عالمی معیشت، بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی سے بیرونی طلب میں کمی آسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی سست روی اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے اثاثہ جات کے معیار اور سرمائے سے وابستہ بفرز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں شرح نمو میں بہتری کا امکان متاثر ہوسکتا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ سب سے بڑا اندرونی خطرہ ضروری اسٹرکچرل ریفارمز کے نفاذ میں درپیش مشکلات سے ہے۔

علاوہ ازیں بحران کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں کمزور گھرانوں کی صلاحیت شرح نمو کی جامعیت، فوڈ اور نان-فوڈ مہنگائی، ان کے روزگار سے وابستہ شعبوں جیسا کہ زراعت، کنسٹرکشن، ہول سیل اور ریٹیل تجارت میں پائی جانے والی لچک پر مبنی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر قرض کا معاہدہ

رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں شرح نمو میں سخت مانیٹری پالیسی اور مالیاتی استحکام کے ساتھ 2.4 فیصد تک کمی کا امکان ہے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے اندرونی اور بیرونی طلب میں پھر سے توازن پیدا کیا گیا ہے۔

ساتھ ہی عالمی بینک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں مہنگائی میں 13 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوجائے گی جبکہ قیمتوں میں اضافے کا اثر دوسرے مرحلے میں زرمبادلہ کی شرح کے ذریعے ملکی قیمتوں پر پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق شرح نمو سست روی سے بحال ہونے کا امکان ہے جو میکرواکنامک صورتحال میں بہتری اسٹرکچرل ریفارمز کے باعث بیرونی طلب اور بڑھتی ہوئے مسابقت کے باعث مالی سال 2021 میں 3 فیصد تک بڑھے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریکوری متعلقہ مستحکم عالمی منڈیوں، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی، سیاسی اور سیکیورٹی خدشات میں کمی سے مشروط ہے۔