ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے شام نے شمالی حصے میں فوج تعینات کردی

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

بے گھر افراد کے کیمپ کے قریب ترکی کی بمباری کے نتیجے میں داعش سے وابستہ افراد کے 800  رشتہ دار فرار ہوگئے — فوٹو: رائٹرز
بے گھر افراد کے کیمپ کے قریب ترکی کی بمباری کے نتیجے میں داعش سے وابستہ افراد کے 800 رشتہ دار فرار ہوگئے — فوٹو: رائٹرز

دمشق: شام نے ترکی کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے شمالی حصے میں اپنی فوج بھیج دی۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعا نیوز نے بتایا کہ ’شامی فوجی ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے شمالی حصے کی جانب روانہ ہوگئے‘۔

تاہم صنعا نیوز نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک کُرد عہدیدار نے کہا تھا کہ ’کردوں اور شامی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں‘۔

کُرد عہدیدار نے کہا تھا کہ ’ترکی کی جانب سے حملوں کے پیش نظر تمام آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہے، دمشق حکومت اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے‘۔

مزید پڑھیں: اسلحے کی عدم فراہمی کی دھمکیوں سے شام میں جاری آپریشن نہیں رکے گا، اردوان

گزشتہ روز شام کے شمالی علاقوں میں انقرہ کے حملوں کے پانچویں روز امریکا کی جانب سے ایک ہزار فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد ترک فورسز نے شام میں مزید پیش قدمی کی تھی۔

ترک حمایت یافتہ فورسز نے بین الاقوامی سطح پر انقرہ کی جانب سے آپریشن پر تنقید کے باجود گزشتہ روز سرحد پر اہم پیش قدمی کرتے ہوئے لڑائی جاری رکھی۔

خیال رہے کہ شام کے شمالی حصے میں حالیہ حملوں میں جنگجوؤں اور شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی نے شام میں فوجی بیس کو نشانہ بنانے کا امریکی الزام مسترد کردیا

شمالی علاقے میں موجود کُرد انتظامیہ نے کہا کہ بے گھر افراد کے کیمپ کے قریب ترکی کی بمباری کے نتیجے میں داعش سے وابستہ افراد کے 800 کے قریب رشتہ دار فرار ہوگئے۔

خیال رہے کہ کُرد حکام اور غیر ملکی طاقتوں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ترکی کے حملوں کے نتیجے میں داعش کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے اور جہادیوں کو قید سے آزادی مل سکتی ہے۔

شامی مبصر گروپ برائے انسانی حقوق نے کہا کہ گزشتہ روز شام کے شمال مشرقی علاقے میں شہریوں اور صحافیوں پر مشتمل گاڑیوں پر ترک فضائی حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے جن میں ایک صحافی بھی شامل ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔

ترک حملوں میں اب تک شامی سرحد پر کم از کم 60 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ترک رپورٹس کے مطابق ترکی کی جانب کردوں کی شیلنگ کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: شمالی شام میں موجود اپنی پوری فوج واپس بلانے کی تیاری کر رہے ہیں، امریکا

مبصر گروپ نے کہا کہ انقرہ کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے 2 روز قبل شام کے قصبے تل ابیض میں 9 شہریوں کو پھانسی دے دی تھی۔

کُرد انتظامیہ کے مطابق جن شہریوں کو قتل کیا گیا ان میں کردش جماعت کی عہدیدار اور ان کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔

دوسری جانب امدادی تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر ترک حملے نہیں روکیں گئے تو 8 برس سے جنگ سے متاثرہ ملک شام میں ایک اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے شام میں کردوں، جسے وہ دہشت گرد قرار دیتا ہے، کے خلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا جبکہ ٹرمپ کے فیصلے کو واشنگٹن میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجوؤں نے بھی ‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’ کے مترادف قرار دیا تھا لیکن امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا۔

ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو، جنہیں وہ دہشت گرد قرار دے دیتا ہے، ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے چند روز قبل فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔